مرزا سلامت علی نام اور دبیر تخلص تھا۔9 اگست 1803ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مرزا غلام حسین تھا۔کم عمری میں والد کے ساتھ لکھنؤ آئے اور یہیں تعلیم و تربیت حاصل کی۔عربی اور فارسی میں کمال حاصل کرلیا۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔ درس و تدریس اور بحث و مباحثے سے بھی دلچسپی تھی۔ابتداء میں میر ضمیر کے شاگرد ہوئے البتہ مشق اور لگن سے استاد سے بھی آگے نکل گئے اور مرثیہ گوئی میں کمال حاصل کرلیا۔ وہ صاحب علم و فضل بھی تھے۔

مرزا دبیر بڑے قانع آدمی تھے۔ لکھنو سے کبھی باہر نہیں گئے البتہ آزادی کی پہلی لڑائی 1857ء کے بعد مرشد آباد اور پٹنہ گئے جہاں مجلسوں کا انعقاد ہوتا تھا اور آنکھوں کی بصارت کی کمی کا علاج کرنے کے لئے کلکتہ گئے پھر واپس لکھنؤ آ گئے۔مرزا دبیر نے میر انیس کے انتقال کے تین ماہ اور ایک دن بعد مارچ 1875ء میں لکھنؤ میں انتقال کیا اور اپنے مکان میں ہی سپرد خاک کئے گئے۔

مرزادبیر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں مرثیہ گوئی میں کمال حاصل کرلیا۔بارہ سال کی عمر میں مرثیہ کہنا شروع کردیا۔ابتداء میں میر ضمیر کی شاگردگی اختیار کی لیکن تھوڑے ہی عرصے میں اس فن کے استاد مانے گے اور اپنے استاد سے بھی آگے نکل گئے۔مرزا دبیر نے گیارہ بارہ برس کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ میر مظفر حسین ضمیر کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کی شاگردگی اختیار کی اور میر مظفر حسین ضمیر ہی نے مرزا سلامت علی کا تخلص دبیر تجویز فرمایا تھا۔ مرزا دبیر نہایت زود گو تھے۔ ان کا تخیل بلند تھا۔ ان کے مرثیوں کا مطالعہ کرنے سے ان کے علم و فن کا ثبوت ملتا ہے۔

انیس کے بعد اردو مرثیہ گوئی میں دوسرا مقام دبیر کو حاصل ہے۔اس لئے ان دونوں کا باہم مقابلہ اور موازنہ کیا جاتا ہے۔یہ مہمل بات بھی اکثر کہی جاتی ہے کہ انیس کے کلام میں فصاحت ہے تو دبیر کے کلام میں بلاغت۔فصاحت و بلاغت کے معنی پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بیان کس قدر بے معنی اور لغو ہے۔

انیس اور دبیر دونوں اپنے عہد کے بےحد مقبول مرثیہ گو تھے۔دونوں کے شاگردوں اور پرستاروں کے بڑے گروہ تھے جن کی آپس میں برابر نوک جھوک رہتی تھی مگر دونوں گروہوں نے شرافت کا دامن نہ چھوڑا۔ان کی چشمک نے انشاء اور مصحفی کے معرکوں کا رنگ کبھی اختیار نہیں کیا بلکہ ان کے اختلافات میں ایک ادبی شان برقرار رہی۔

شبلی نے ایک کتاب "موازنہ انیس و دبیر” لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انیس دبیر سے بڑے مرثیہ نگار ہیں۔اس کے خلاف بہت کچھ لکھا گیا لیکن اصلیت یہ ہے کہ دبیر کی چند خامیاں انہیں انیس کے رتبے تک نہیں پہنچنے دیتیں۔دبیرکی پر گوئی نے انکے فن کو نقصان پہنچایا۔انیس کا قلم بھی بہت زرخیز تھا انہوں نے بھی بہت بڑی تعداد میں مرثیے کہے لیکن ان کے کلام میں ہمواری باقی رہتی ہے اور زیادہ گوئی ان کا عیب نہیں کہی جاسکتی جبکہ دبیر کے مرثیے اکثر جگہ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔

دبیر کی علمیت نے بھی ان کے فن کو نقصان پہنچایا۔وہ جا بجا عربی فارسی کے ثقیل الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔یہ طبیعت کو ناگوار گزرتا ہے۔ صنعتوں کی کثرت بھی دبیر کے مرثیوں کا اثر کم کر دیتی ہے۔وہ کوشش کر کے زیادہ سے زیادہ صنعتیں استعمال کرتے ہیں اور رعایت لفظی کے بہت زیادہ شوقین ہیں۔اس سے دبیر کے مرثیوں میں تصنع اور بناوٹ کا رنگ پیدا ہوجاتا ہے۔کبھی کبھی وہ جزئیات نگاری میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ مرثیے کے مجموعی تاثر میں کمی آجاتی ہے۔ایک اور اہم بات یہ کہ انسانی نفسیات سے واقفیت میں وہ انیس کی ہمسری نہیں کر سکتے۔انیس نفسیات کے جیسے ماہر ہیں اردو ادب میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔دبیر اس میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھ پاتے کہ کہاں کیا بات کہنے کی ہے اور کیا نہ کہنے کی۔

انیس کی طرح دبیر بھی مرثیہ پڑھنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔پڑھنے کے دوران ہاتھ یا چشم و ابرو کا صرف اتنا اشارہ کرتے جتنا مناسب ہوتا اور جس سے عصر میں اضافہ ہوجاتا۔پڑھنے میں جوش ایسا ہوتا کہ مجلس پر سکوت کا عالم چھا جاتا اور جب بین پڑھتے تو سامعین بے اختیار رونے لگتے اور اکثر لوگ تو روتے روتے بے ہوش ہوجاتے۔

1857ء میں جب ہندوستان کی حالت دگرگوں ہوئی تو مجبوراً دبیر نے اپنا وطن چھوڑا اور سکون کی تلاش میں کئی جگہ پہنچے مگر مصیبتوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔بڑھاپے میں جوان بیٹے کی موت ہوئی۔ ان کی اپنی بینائی جاتی رہی۔واجد علی شاہ نے علاج کے لیے کلکتہ بلایا۔آخر بینائی واپس آگئی۔ اسی زمانے میں انیس کا انتقال ہوا۔دبیر کو ان کی موت کا بھی بڑا غم تھا۔

مرزا دبیر کی مرثیہ گوئی کو مضامین کے تنوع نے اعلیٰ مقام بخشا ہے۔فون کے مرثیوں میں معنی آفرینی، فصاحت و بلاغت،زوربیاں، تشبیہوں اور استعاروں کی کثرت،صنائع و بدائع خاص خصوصیات کے طور پر موجود ہیں۔مرزا دبیر کے مراثی میں مدح کے حصوں میں پرشکوہ زبان اور علمی مضامین زیادہ ملتے ہیں۔رزم کے حصوں میں زور بیان ہے اور بین کے اظہار میں زبان کی سادگی،سلاست، روانی اور جزبات نگاری سے مرثیہ نہایت پرتاثیر ہوجاتا ہے۔

مرزا دبیر نے سینکڑوں مرثیے کہے اور اس کے علاوہ مثنویاں، قصائد، رباعیاں،سلام قطعات وغیرہ بھی کافی تعداد میں تصنیف کیے۔ان کی اہم کتابوں میں "دفتر ماتم” کی دو جلدیں، "رباعیات دبیر”، "ابواب المصائب” اور رسالہ مرزادبیر ہیں۔مرزا دبیر کی پہلی سوانح عمری "شمس الضحیٰ” 1881ء میں شائع ہوئی۔افضل حسین ثابت نے 1910 میں "حیات دبیر” شائع کی۔اس کے علاوہ مرزا دبیر کی تین مثنویاں ملتی ہیں جن میں دو مطبوعہ اور ایک غیر مطبوعہ ہے۔(١) مثنوی احسن القصص (٢) مثنوی معراج نامہ (٣) مثنوی ممتاز نامہ۔
ان مثنویوں کے علاوہ مرزا دبیر کے دو قصیدے بھی ملتے ہیں۔ایک فارسی میں منتظم الدولہ کی مدح میں اور دوسرے اردو میں مہاراج چندولعل کی مدح میں۔

آخر میں مرزا دبیر کے چند مشہور مرثیوں کے ایک مصرعے پیش کیے جاتے ہیں۔
*کس کا علم حسین کے منبر کی زیب ہے
*کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
*اے شمس وقمر نور کی محفل ہے یہ محفل
*پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی
*دست خدا کاقوت بازو حسین ہے
*پہنچا کہ لاش اکبر عالی وقار کو۔

Close