کہنے کو تو دوست، ایک سادہ سا اور عام فہم لفظ ہے اور ہر کوئی اپنے معمولی ساتھی یا یار کو بھی دوست کہہ کر پکارتا اور سمجھتا ہے۔ لیکن حقیقی دوست دنیا میں بہت کم ہیں۔

در اصل دوست وہ ہے جو وقت پر کام آئے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مصیبت کے وقت نام نہاد دوست ساتھ نہیں دیتے اس لیے اس نکتہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے ایک ایسے دوست کا انتخاب کیا ہے جو ہر لحاظ سے اصلی اور مخلص دوست کہلانے کا مستحق ہے۔ اس کا نام محمد اطہر ہے۔

محمد اطہر میرا ہم جماعت ہے اور میرے ساتھ دسویں درجے کا طالب علم ہے۔ وہ ایک شریف اور دولتمند گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ اس کے والد ڈاکٹر ہیں اور شہر کے رئیس لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ وہ شہر کی منسپل کمیٹی کے کئی بار ممبر منتخب ہو چکے ہیں اور اپنے محلے میں نہایت ہردلعزیز شخص ہیں۔مجھے فخر ہے کہ میرا دوست ایسے در دل عزیز شخص کا چشم و چراغ ہے۔

محمد اطہر سترہ سال کا صحت مند نوجوان ہے۔ اس کا قد لگ بھگ ساڑھے پانچ فٹ ہے۔ رنگ گورا، چہرہ گول، آنکھیں موٹی موٹی، بال گھنگریالے، جسم سڈول اور گھٹا ہوا۔ اعضاء متناسب اور طاقتور، فٹبال کھیلنے کا شوقین ہے۔ فٹبال ٹیم کا کیپٹن ہے، اعلی درجے کا کھلاڑی ہے، مقامی اسکولوں میں جب کبھی میچ ہوتا ہے تو اس کی ٹیم ہمیشہ تمام اسکولوں کی ٹیموں پر سبقت لے جاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ کھلاڑی عام طور پر پڑھائی میں کمزور ہوتے ہیں اور ان کا تعلیمی معیار بہت پست ہوتا ہے۔ لیکن محمد اطہر ایسے کھلاڑیوں کے زمرے میں سے خارج ہے۔ خدا نے اسے ایک ایسا دماغ اور قوی حافظہ دیا ہے کہ سرسری توجہ کے ساتھ بھی وہ لکھا پڑھا سب کچھ یاد کر لیتا ہے۔ اور حیرت کا مقام ہے کہ وہ ہر امتحان میں اول آتا ہے۔

اپنی درسی کتابوں کے صفحوں کے صفحے اسے ازبر ہیں۔ جو چیز وہ ایک بار پڑھ لیتا ہے اسے کبھی نہیں بھولتا۔ جو سبق یا مشکل نقطہ وہ ایک بار سمجھ لیتا ہے پھر کبھی اس کے ذہن سے نہیں اترتا۔اردو شاعری کے ساتھ اسے خاص لگاؤ ہے۔ غالب، اقبال، جوش اور دیگر شعراء کے اچھے اچھے شعر اسے یاد ہیں اور حسب موقع بات چیت یا بحث مباحثہ میں کوئی شعر ضرور اس کی زبان سے نکل جاتا ہے۔اس کی مضمون نگاری کا بھی یہی حال ہے۔ اکثر اپنے مضمون میں مسلم الثبوت استادوں کے شعر نقل کر کے اس کی دلکشی اور تاثیر کو بڑھا دیتا ہے۔ سننے والا اس کی داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کی علمی واقفیت اور قابلیت کا یہ عالم ہے کہ اس کے استاد بھی اس سے اختلاف رائے ظاہر کرنے میں تامل کرتے ہیں۔گزشتہ مڈل اسکول کے امتحان میں اول رہ کر اس نے وظیفہ حاصل کیا اور اب طلباء اور اساتذہ سبھی اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ وہ میٹرک کے امتحان میں بھی یونیورسٹی میں نہ صرف اول آے گا بلکہ ریکارڈ قائم کرے گا۔

محمد اطہر ایک بہت ہی خوش خلق، صادق القول، مخلص، ایماندار، منکسرالمزاج، ہنس مکھ اور فراخ دل نوجوان ہے۔ میں نے اسے کہیں بار آزمایا ہے وہ ہر بار میری آزمائش پر پورا اترا ہے۔ جب کبھی مجھے روپے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ فوراً میری مدد کرتا ہے اور پھر اسے بھول جاتا ہے۔ میں بڑی مشکل سے اسے وہ پیسے واپس لینے پر آمادہ کرتا ہوں۔ ریاضی کے سوالات سمجھنے میں جب کبھی مجھے دقت پیش آتی ہے وہ فوراً میری الجھن کو دور کرتا ہے اور اس سے اسے مسرت حاصل ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کی مدد کر کے خوش ہوتا ہے۔

فرصت کے لمحات میں وہ فوٹو گرافی کے شوق کی تسکین کرتا ہے۔ اب وہ ایک اچھا خاصا مصور بھی ہے۔ اس کا کوئی دوست یا رشتہ دار ایسا نہیں جس کی اس نے تصویر نہ کھینچی ہو۔ قدرتی مناظر کے فوٹو بھی اس کے پاس بکثرت موجود ہیں۔اسی طرح کی اور بہت سی اچھی عادات کے ناطے میں محمد اطہر کو اپنا بہترین دوست مانتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ زندگی کے ہر مشکل موڑ پر وہ میرا ساتھ دے گا۔

Close