نام ولی محمد تھا اور نظیر تخلص کرتے تھے، والد کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے حملے کے زمانے میں دلی چھوڑ کر اپنے خاندان کے ساتھ آگرہ آئے اور اکبرآبادی ہوگے۔

تاریخ ادب اردو مرتب کرنے والے کے لیے ایک بڑی دقت نظیر اکبر آبادی کے سلسلہ میں ہوتی ہے وہ یہ کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ انھیں کس دور کے شعراء کے ساتھ رکھا جائے۔ان کی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہیں لیکن ڈاکٹر رام بابو سکینہ کا خیال ہے کہ حملہ نادرشاہی کے وقت دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔یہی قرین قیاس بھی ہے۔ کیونکہ انہوں نے طویل عمر پائی تھی اور ان کا انتقال 1830ء میں ہوا۔اگر پیدائش 1739ء یا 1740ء کے قریب مان لی جائے تو البتہ نظیر کے عہد معین کرنے میں کچھ آسانی ہو جاتی ہے۔پھر بھی زبان، طرز بیان،اور موضوع کے لحاظ سے ان کو کسی دور سے وابستہ کرنے میں قطعی فیصلہ کرنا باقی رہ جاتا ہے۔ہم ان کو اپنی دنیا آپ سمجھ کر ہر دور سے الگ رکھتے ہیں۔ ان کے کلام کی خصوصیات خود ایک دور کی خصوصیات کے برابر ہیں۔

دلی اس وقت انقلابات کا گہوارہ تھا۔سیاسی سماجی تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔نظیر کی شاعری کو بھی انہی تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی سمجھنا چاہیے کیونکہ غزلوں کی رسمی شاعری کو الگ کرنے کے بعد نظیر کا نہ تو کوئی ہمعصر دکھائی دیتا ہے اور نہ ہم زبان،انہوں نے میر کی قنوطیت اور سودا کی ہمیں گیری بھی دیکھی۔وہ درد کے تصوف سے بھی آشنا تھے۔جرائت کے معاملہ بندی، مصحفی اور انشا کی چوٹوں کا نظارہ بھی انہوں نے کیا۔لیکن دلی اور لکھنؤ کے مرکزوں سے دور رہ کر اپنی ایک الگ شاہراہ تیار کی جس پر وہ خود ہی چلے دوسرا کوئی اور قدم نہ بڑھا سکا۔

نظیر ایک قناعت پسند طبیعت لے کر آئے تھے۔درباروں سے وابستگی نہ تھی، ان کا حلقہ احباب وسیع تھا اور اس حلقہ میں امیر و غریب، عالم جاھل، پیشہ ور غیر پیشہ ور، ہندو مسلمان کسی کی قید نہ تھی۔اس وسیع النظری اور وسیع المشربی کا اثر ان کے کلام میں بھی نمایاں ہے۔نواب سعادت علی خان نے لکھنو بھلایا مگر نہ گئے۔اور تقریبا عمر بھر آگرہ ہی میں لالہ بلاس رام کے یہاں معلمی کرکے شاعری کرتے رہے۔کلام کا زیادہ حصہ بھی لالہ بلاس رام کے یہاں سے ہی ملا۔ورنہ نظیر کو خود اس کے جمع کرنے کا خیال نہ تھا۔ضعیفی میں فالج سے انتقال کیا۔

نظیر کی آزاد زندگی میں شاعری کو نئی راہوں پر جانے کا خوب موقع ملا۔پابندیوں کی کمی، معیار کی قید سے آزادی، زبان کی لطافتوں کے جھگڑے سے نجات حاصل ہونے کی وجہ سے نظیر کو اپنی شاعری کی دنیا وسیع کرنے کا موقع بھی مل سکا۔اور انہوں نے غزل سے ہٹ کر نظموں پر اپنی ساری توجہ صرف کردی۔غزلوں میں تغزل کی کیفیت بہت ہے۔

ڈاکٹر رام بابو سکینہ مصنف تاریخ ادب اردو کا یہ کہنا ہے کہ لکھنو کا قدیم طرز چھوکہ بھی نہ گیا ہے شاید نذیر کی غزلوں کے اشعار کے پڑھنے کے بعد زیادہ صحیح نہ ثابت ہو جن میں خارجیت اور رعایت لفظی ہے۔کلیات نظیر کی کچھ نظمیں ایسی معلوم ہوتی ہیں جو پیشہ ور دوستوں کی فرمائش پر کہی گئی ہیں۔اور کچھ وہ ہیں جو ممکن ہے لالہ بلاس رام کے لڑکے یعنی اپنے شاگرد کو خوش کرنے کے لئے جانوروں اور چڑیوں کے بارے میں لکھی گئیں۔لیکن انہیں میں بعض نظمیں ایسی بھی دیکھی جا سکتی ہیں جن میں تصوف کا کوئی مسئلہ اشاروں کنایوں میں بیان ہوا ہے۔

نظموں کا ذخیرہ بھی کافی ہے جو جوانی اور جوانی کی سرمستیوں کا ذکر کرتی ہیں۔اگرچہ لہجہ اور انداز بیان کہیں غیر معتدل ضرور ہوگیا ہے لیکن موضوع کے اعتبار سے ایسا نہیں ہے کہ بہت زیادہ ناگوار ہو۔پھر ان نظموں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔افلاس کی زندگی کو فطرت کی رعنائیوں کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ زندگی کی تکلیفوں کی تصویر کھینچی گئی ہے۔چاہے وہ غریبی اور بڑھاپے کی وجہ سے ہو یا عشق یا کسی اور سبب سے لیکن جن نظموں کی وجہ سے نذیر کا نام زندہ رہا وہ انکی واضحانہ اور ناصحانہ نظمیں ہیں جن میں کہیں تمثیل کی مدد سے اور کہیں صاف صاف لفظوں میں زندگی کی بے ثباتی اور موت کا یقین دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

جوانی میں جتنی رندی اور سرمستی کا منظر پیش کیا بڑھاپے میں اسی کا ردعمل معلوم ہوتا ہے۔مذہبی نظموں میں جہاں اسلام کے بعض رہنماؤں کا ذکر ہے وہاں گرونانک بھی آتے ہیں اور ان کی کلیات کا اچھا خاصہ حصہ ہندو مذہب کی روایات اور تہواروں کے رنگین اور دلکش بیان کے لئے وقف ہے۔

جیسا کہ ابھی بیان ہوا کہ ان کا تعلق کسی مرکز سے نہ تھا اس لیے وہ عوام کے قریب آیے۔ اسی لئے ان کو وہ زبان بھی اختیار کرنی پڑی جو عوام کے لیے قابل فہم ہو۔اپنے انداز بیان کے لحاظ سے نظیراکبرآبادی کا مرتبہ بہت بلند ہے۔انہوں نے نظم کی زبان موضوع کے اعتبار سے بنائی ہے۔چناچہ نظیر کی کلیات کا مطالعہ کرنے والا مختلف قسم کی زبانوں کے حلقے دیکھے گا جو موضوع کی مناسبت سے اس کے گرد کھینچے گئے ہیں۔نظیر کے یہاں جو شاعرانہ واقعات اور بیان کی صداقت ملتی ہے اس میں اگر خیال کی گہرائی اور تاثیر کے تیز نشتر نہیں لیکن پھر بھی وہ ہمیں یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم نظیر کو ایسا شاعر مانے جس نے اپنی نظم کا مواد روزانہ کی زندگی سے حاصل کیا۔ اور اسے اپنے رنگ میں پیش کیا۔یہی سبب ہے کہ ان کے یہاں مقامی رنگ کافی ملتا ہے۔وہ کسی وقت خالص مثالی چیزیں نہیں پیش کرتے بلکہ اپنے گردوپیش کے مناظر اور واقعات کو ایک پرخلوص سادگی کے ساتھ سامنے لاتے ہیں۔ان کی زندگی اور شاعری میں ایک طرح کی ہم آہنگی ہے جو نظم لکھنے والوں کے لیے ضروری ہے۔نظیر کے بارے میں نقادوں نے مختلف قسم کی رائے قائم کی۔کسی نے انہیں شاعر ہی نہیں مانا، کسی نے انہیں انیس وغیرہ سے بڑا شاعر سمجھا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ شاعر تھے مگر صف اول کے نہیں۔ڈاکٹر سکینہ نے مختصر لفظوں میں لکھا ہے کہ”نظیر میں سودا کا زور، میر کی بلند پروازی، انشاء کی ظرافت اور غالب کا تصوف نظر آتا ہے۔

Close