اردو میں اسلوب سے کیا مراد ہے ؟

ادبی محفلCategory: اردو ادب معروضی سوالاتاردو میں اسلوب سے کیا مراد ہے ؟
beingsajid Staff asked 12 مہینے ago
beingsajid Staff replied 12 مہینے ago

انگریزی لفظ اسٹائل کے لئے ہماری زبان میں لفظ اسلوب استعمال ہوتاہے جو عام بھی ہوگیاہے۔مگر قدیم زمانے میں اسلوب کا یہ مفہوم شاید موجود نہ تھا۔اس غرض کے لئے بعض اور الفاظ تھے مثلا طرز’روش ‘انداز بیان ‘طرز ادا’طریق’گفتار۔

آج کل ایران میں اسکے لئے ‘سبک’ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ نئے حالات میں اس امر کی ضرورت آپڑی ہے کہ ہم اصطلاح کے صحیح مفہوم متعین کردیں۔ اسکے لئے ان سب میں طرز یا اسلوب کو اختیار کرلیا گیا ہے اور اختیار کرلینا چاہئے۔ طرز کو نثر و نظم دونوں پر حاوی کر لیا جائے۔ اسلوب بیان کو نثر کے لئےخاص کردیا جائے۔

طرز کے مفہوم میں ممتاز انفرادیشان کو بھی داخل سمجھنا چاہئے۔ مثلاً مولانا آزاد صاحب طرز انشاء پرداز تھے” یعنی انکا اسلوب ایسا تھا جس کے خصائص اور انفرادی شان انہیں دوسروں سے ممتاز کر دیتی ہے۔اسطرح ہم کہیں گے”علامہ اقبال طرز خاص کے مالک تھے” یہ اسلوب خاص کے مالک سے بہتر ہے۔

جہاں تک انگریزی کے لفظ اسٹائل کا تعلق ہے، اسکا اطلاق نظم و نثر دونوں پر ہوتا ہے البتہ ممتاز کے لئے شاعرانہ طرز بیان کو prose styleکہہ دیتے ہیں۔ اس میں بھی انگریزی لفظ سٹائل کو سامنے رکھ کر عمومی بحث کر رہا ہوں اور جب نثر کی بحث آئے گی تو اسکے لئے بھی اسلوب کا لفظ استعمال کروں گا۔

سٹائل کیا ہے؟

والٹر پیٹر اپنے مضمون میں کہتا ہے’STyle is a certain absolute and unique mannerof expressing thing in all its intensity and clour,,

گویا سٹائل؛

۱۔۔۔۔کسی خیال یا معنی کے طریق اظہار کا نام ہے۔

۲۔۔۔۔مگر اس طریق سےکہ وہ طریق اظہار منفرد ہو اور اپنے اندر کوئی خصوصیت یا انفرادیت رکھتا ہو۔

۳۔۔۔۔۔اور اسکے اظہار کا نتیجہ یہ ہوا اصل بات اپنی پوری معنویت اور اثرات کے ساتھ ادا کی گئی ہو یعنی جو مقتضائے حال ہو وہ پورا پورا ظاہر ہوگیا ہو۔اس لحاظ سے سٹائل کے تین عناصر قرار پائے۔

۱۔۔۔پیرائیہ بیان یعنی افکار و خیالات کو پیش کرنے کا ڈھنگ۔

۲۔۔۔۔اس میں انفرادی خصوصیات جو ہر شخص کے پیرایہ بیان کو دوسروں سے الگ و ممتاز کرتی ہے۔

۳۔۔۔پیرایہ بیان کے وہ عظیم الشان پہلو جن سے امتیاز مطلق قائم ہوتا جو یعنی ایسی خصوصیت کا جن کا جواب ممکن نہ ہو۔

سٹائل کا لفظ عموماً ان تینوں میں سے کسی ایک مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ مگر فی الحقیقت اگر غور سے دیکھا جائے تو سٹائل ایک جامع لفظ ہے جسکے بیان میں داخلی اور خارجی مظاہر سب شامل ہیں۔

مثلا خارجی مظاہر ‘اور وہ یہ ہیں ۔۔زبان ‘قواعد کی پابندی ‘ترتیب ‘آرائش وغیرہ

مگر سٹائل صرف یہی نہیں اسمین یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص دوسرے سے بہتر لکھتا ہے تو وہ اسامتیاز کی وجہ کیا ہے؟؟۔ایک جواب یہ ہے کہ اسکے مصنف کے مزاج کی داخلی خصوصیت دوسروں سے الگ ہیں۔ یہ داخلی پہلو (یعنی مصنف کا ذہن ‘اسکا کریکٹر ‘اسکا مزاج ‘اسکا علم ‘رحجان طبع) بیان کے خارجی مظاہر پر اثر ڈالتا ہے اور الفاظ کے انتخاب ‘ترتیب کے خاص ڈھنگ اور دوسرے پیرایہ ہائے اظہار کو متاثر کرتا ہے۔

اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ سٹائل صرف خارجی چیز نہیں بلکہ اسکا ایک داخلی پہلو بھی ہے اور اگر اسلوب مکمل ہوجائے تو ایک طرز خاص یا طرز مطلق اس سے وجود میں آجاتی ہے جو صرف اسی خاص مصنف سے مخصوص ہوتی ہے۔ ہر کوئی اسکی تقلید نہیں کر سکتا۔ اس لئے بعض لوگوں نے سٹائل کی تعریف ہی یہ کردی ہے۔

style is personl idiosyncrasy of expression by wich we know a writer.,,walter pater,,

اس سے اسٹائل کے ”انفرادی عنصر”کی اہمیت دکھانی مقصود ہے مگر انفرادیت صرف امور ہی کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس میں انشاءپرداز یا ادیب کی داخلی شخصیت بھی بڑا حصہ لیتی ہے چنانچہ بعض نے کہا ہےstyle is the man himself

اسی طرح ہیومن نے کہا ‘style is the affluence of charecter and merely an external decoration.

اسکا مطلب یہ ہوا کہ سٹائل صرف خارجی خصائص تحریر کا نام نہیں بلکہ مصنف کی شخصیت کے داخلی نقوش ‘اس کا طرز مشاہدہ ہی نہیں بلکہ اس کا طرز احساس (بقول مڈلٹن مرے)بلکہ اس سے بھی آگے بڑھکر مصنف کے زمانے اور اسکی قوم بلکہ اسکی تہزیب کے نقوش کا نام ہے۔

اسلوب سے مراد کسی خارجی تحریر کی خصوصیات بھی نہیں جیسا کہ عموماً سمجھا جاتا ہے اس طرح اسلوب کے باوجود حقیقت میں ایک بسیط شئے ہے جس میں اجزائے ترکیبی کے وجود سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا مگروہ سب اجزا ایک ایسی وحدت کے اجزاءہیں جسے کسی ٹکڑے میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

اسلوب مصنف کی شخصیت کا عکس ہے جو الفاظ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسلوب مصنف کے ذہنی و جزباتی تجربے کا خارجی روپ ہے جس سے مصنف کے باطن اور نفس کی دنیا کی پوری تصویر نمودار ہوجاتی ہے۔مصنف کے تجربات الفاظ کی صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں یہ الفاظ ان تجربات میں یوں جزب ہوکر ظاہر ہوتے ہیں جس طرح شراب میں مستی پھول میں رنگ خوشبو۔اور انکا باہمی وہی تعلق ہے جو رگ و پوست کو شخص انسانی سے ہوتا ہے۔

غرض کہ یہ اسلوب تحریر کی کسی ایک صنف کا نام نہیں ہے بلکہ در حقیقت وہ مصنف کی پوری ذات کا عکس اور نقش ہے۔