استاد اور استاذ میں فرق بتائیں۔

ادبی محفلCategory: اردو ادب سوالات و جواباتاستاد اور استاذ میں فرق بتائیں۔
beingsajid Staff asked 12 مہینے ago
1 Answers
beingsajid Staff answered 12 مہینے ago
عام گفتگو میں اور سماجی ابلاغ نشر واشاعت Social media پر بھی استاد بطور واحد اور پھر اساتذہ اس کی جمع بولی ، سمجھی اور لکھی جاتی ہے کیوں کہ عام طور پر انہیں مترادف synonym یا ایک ہی سمجھا جاتا ہے تو لوگ استاد کی جگہ استاذ اور استاذ کی جگہ استاد بھی استعمال کر لیتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔مذکورہ بالا دو اصطلاحات terms میں ایک باریک فرق ہے جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لکھے پڑھے لوگ بل کہ لکھنے پڑھانے والے بھی غلطی کر جاتے ہیں۔   میں اس چھوٹی سی غلطی کا ازالہ ضروری سمجھتا ہوں کیوں کہ غلطی چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی بس بات اتنی ہے کہ چھوٹے شخص کی بڑی غلطی بھی چھوٹی جب کہ بڑے شخص کی چھوٹی سی غلطی بھی بہت بڑی ہوتی ہے ، تو کیوں نہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔   استاد   ”ایسا شخص جو کوئی کام، پیشہ، فن یا ہنر سکھائے استاد کہلاتا ہے“ انگریزی میں اس کے لیے "Trainer" کا لفظ کافی موزوں ہے جس کے معنی وہی ہیں یعنی تیاری Training کروانے والا۔ مثلاً درزی، ڈرائیور، نائی(حجام)،لوہار،کمہار اور معمار،۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ یہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کی جمع اساتید یا استادان جبکہ مؤنث بھی استاد ہی ہے۔   استاذ/معلم   ”ایسا شخص جو علم سکھائے یا تعلیم دے استاذ/معلم کہلاتا ہے“ انگریزی میں اسے"Teacher/Tuitor" کہیں گے۔ علم کے معنی واقفیت یا شناسائی ہیں۔ علم سیکھنے کے عمل کو تعلیم،سیکھنے والے کو طالب علم اور سکھانے والے کو معلم کہا جاتا ہے۔ استاذ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کی جمع اساتذہ ہے اور مؤنث استانی۔   استعمال    مدرسے یا مکتب میں پڑھانے والے شخص کے لیے استاد کا لفظ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن استاذ بولنا ہی صحیح ہو گا۔ ایک سے زاید کے لیے اساتذہ اور اگر عورت ہو تو استانی بولنا چاہیے۔   جب کہ گاڑی کے ڈرائیور،نائی یا درزی کے لئے استاد کہنا درست ہو گا نہ کہ استاذ۔ ایک سے زاید ہوں تو اساتید یا استادان بولنا چاہیے، اور ہنر سکھانے والی اگر عورت ہو تو بھی استاد ہی کہا جائے گا نہ کہ استانی۔   از تحریر سردار محمد طارق