انیسویں صدی کی اردو غزل پر ایک نوٹ تحریر کیجئے۔

ادبی محفلCategory: اردو ادب معروضی سوالاتانیسویں صدی کی اردو غزل پر ایک نوٹ تحریر کیجئے۔
beingsajid Staff asked 12 مہینے ago
beingsajid Staff replied 12 مہینے ago

تلخیص:

غزل اُردو ۔ فارسی یا عربی کی ایک صنفِ سُخن ہے۔جس کے پہلے دو مِصرے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ غزل کے لیے پہلے ریختہ لفظ استعمال میں تھا۔( امیر خسروؒ نے موسیقی کی راگ کو ریختہ نام دیا تھا) ادب کے دیگر اصناف ادب اور فنون لطیفہ میں سب سے زیادہ غزل کو پسند کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ غزل اسٹیج کے علاوہ سخن کا بہترین ذریعہ اظہار بھی ہے۔ کم لفظوں میں مکمل بات کرنے کا ہنر ہے۔ غزل کا سانچا چھوٹا ہوتا ہے اسی لیے جذبے یا خیالات کو پھیلانے کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔ اس لیے رمز، ایما ،تمثیل و استعارہ، پیکر آفرینی اور محاکات اُس کے فنی لوازم بن گئے ہیں۔ غزل متنوع موضوعات کا مرکب ہوتی ہے۔اس مقالہ کا بنیادی مقصد قدیم اور جدید غزل کی بدلتی ہئیت اور معنویت کی عکاسی کرنا ہے۔ ہیئت سے مراد ‘انداز و بیاں کی وہ صورت جو فنی اور تکنیکی خصوصیات کے سبب شعری تخلیق کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ ہم نےموضوع کے تحت اُردوغزل کے آغاز کا جائزہ تاریخی پس منظرمیں لیا ہے۔ اس صنف کی ہئیت کو مستند اشعار کوثبوت میں پیش کیا ہے۔ تاکہ عنوان کی صحیح معنویت کی وضاحت ہو سکے۔ غزل قصیدے کا جزو تھی، جس کو ’’تشبیب‘‘ کہتے ہیں۔ پھر وہ الگ سے ایک صنفِ شعر بن کرقصیدے کے فارمیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ فنی اعتبار سے بحر اور قافیہ ’’بیت‘‘ اور غزل کے لیے یکساں ہے۔

اس مقالہ میں غزل کی بدلتی ہئیت کی داستان کو چار ادوار میں منقسم کیا گیاہے ۔پہلا دکنی غزل ۔ دوسرا اٹھارہویں صدی کی ابتدا سے انیسویں صدی کے نصف اول تک محیط ہے بلکہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے آخر تک ۔ تیسرا۱۸۵۷ء سے اقبال تک کا جائزہ لیا گیا ہےاور آخری میں اقبال کے بعد جدید دور تک کا احاطہ کیا گیاہے۔

اس کے بعد ترقی پسند(۱۹۳۶ء تا۱۹۵۰ء) کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس عہد میں غزل ہئیت اور معنویت دونوں میں تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو گئ۔ ترقی پسندوں نے بھی غزل کے متعلق اپنی اجدادی وراثت اور روایت سے بےشمار غلط سمجھوتے کیے۔ قدیم روایاتی علامات، استعاروں، تشبیوں، تلمیحات یا کتب وغیرہ کو غیر روایاتی معنیٰ اور ماہیم دینے کی کوشش کی۔ اس طرح قدیم روایت کے ملے جلے اثرات ترقی پسندوں کی روایت شکنی کے اعلانات کے باوجود جدید غزل میں شعوری اور غیر شعوری طور سے سرایت کرتے چلے گئے۔

جدید تحقیق میں اُردو غزل کا پہلا نمونہ امیر خسرؔو کے ہاں ریختہ کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کے بغیر بہت سے صوفیائے کرام نے شاعری کو اظہار خیالات کا ذریعہ بنایا لیکن غزل کے ہاں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بہمنی سلطنت میں غزل کے نمونے بہت ہیں۔ لیکن گولکنڈہ کی سلطنت کے قطب شاہی اور عادل شاہی حکمران کی شعر و ادب سے دلچسپی کی وجہ سے اردو غزل بہت ترقی کی۔ مقالہ میں غزل کے بدلتی روایت کو نویں صدی کے اواخر میں فارسی غزل سے ترقی کر کے سترویں صدی میں اردو میں منتقل ہونے تک کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ فارسی سے اردو میں آئی تھی۔ اس لیے فارسی کے عصری معنویت اور تاثرات بھی اردو غزل میں کوبہ کو نظر آتے ہیں۔

ابتدائی غزلوں میں ماسوائے عشق و محبت کے مضامین باندھنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ کیوں کہ خود غزل کے لغوی معنی بھی عورتوں سے بات چیت کرنے کے ہیں۔ یہاں تک کہ مولانا شبلی نے بھی غزل کو عشق و محبت کے جذبات کی تحریک سمجھا۔لیکن بعد حاؔلی نے مقدمہ شعر و شاعری میں غزل کے ہر مضمون کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔جس کے بعد اس صنف میں ہر قسم کے خیالات بیان کئے جارہے ہیں۔اس طرح کی بدلتی ہئیت کو اس کی مناسب معنویت کے ساتھ تحقیقی نقطہ نظر سے بیانیہ انداز میں تاریخی تحقیق کا طریقہ کار میں مقالہ قلم بند کیا گیاہے۔یہ مقالہ طلباء ٹیچر اور شعراء کو اردو غزل کی ہئیت اور مختصر تاریخ کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہوگا۔ کلیدی الفاظ:اُردو غزل،تفہیمِ غزل، غزل کی تاریخ،غزل کی ہئیت اور معنویت۔ تعارف: غزلولیت اردو شاعری کی آبرو ہے۔

اگر چہ مختلف زمانوں میں شاعر کی بعض دوسری قسمیں بھی اردو میں بہت مقبول رہی ہیں۔ لیکن نہ تو ان کی مقبولیت کا مقابلہ کر سکی نہ ہی اس کی مقبولیت کو نقصان پہنچا سکی۔ پھر بھی بیسویں صدی کے نصف میں اس صنف کے بہت مخالفین پیدا ہوئے لیکن مقبولیت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ لفظ ’غزل‘ کے سنتےہی حواسِ خمشہ بیدار ہو جاتے ہیں۔یہ صنف ادب و سخن میں مرکزی حیثیت کی حامل ہے، عام و خاص کی ابتدا د سے ہی دلچسپی کا ذریعہ ہے۔ فنی نقطہ نظر سے بھی اس مقام اعلیٰ ہے۔ عالمی سطح پر سیر و تفریح کرتی ہے۔ یہ ادب بھی ہے اسٹیج بھی ہے۔جذبات و احساسات کا سمندر بھی ہے۔ ناگن سی ناچتی مستی شراب کی لزت بھی اسی میں ہے۔ قوموں ‘ملکوں کے فاصلے مٹانے کا ذریعہ بھی ہے۔میر و غالب ہوئے ‘ حالی درد بیدل اقبال ہوئے یا پھر جگر مومن اور درد آتش ہوئے۔ حسرت اس صنف سے فیضیاب ہوئے تو جرأت نے ایسی داغ بیل ڈالی کے سب ذوق اس کے آگے فانی ہوئے۔ ناطق اپنے جوش وجگر سے بے نظیر ہوئے۔ شاد فرازا و رفراق نے شوق سے غزل کےآرزو مند ہوئے۔ ندا سے اس کی ہر کوئی سر شار ہوئے۔

دکن میں قطب، خواجہ ، شوقی، عادل ،نصرتی، میرا ں،غواصی،وجہی سب اس کے جاں نثار ہوئے۔ وہیں ان کے نقش قدم پر وؔلی ، سراج اور صفی بھی متوجہ ہوئے ۔ شمال میں شاہ حاتم ، آبرو، مظہر نے لطف اور مجاز سے کوئی بہادر ہوئے کوئی ظفر ہوئے۔ ایہام گوئی کے آبرو، ناجی، مضمون، یکرنگ، سجاد، یقین، میری ، مرزا سودا، خواجہ میر درد، قائم چاندپوری، میر سوز اس صنف کے عاشق ہوئے۔ دبستان لکھنو میں جرأت،انشاء،مصحفی،رنگین،نسیم ، آتش، ناسخ،تلامذہ اور انیسؔ نے غزل گو ئی کو اپنا خون و جگر دیا۔ وہیں ناؔصر ، ناسخ، نصرتی نے بڑی آرزؤں ‘ آزادخیالی سے اس کے مجروع ہوئے۔

اس طرح سے غزال کو غزل بنانے میں ہر کوئی اپنے اپنے وہت کے ساتھ اس فن کو فروغ دیتے رہے ۔لیکن روایتی طور پر سب اپنی دکھ اور درد کو ہلکا کرنے کا ذریعہ غزل کو ہی تصور کر رکھا تھا ۔ اس کے برعکس مولانا الطاف حسین حالی ؔ نے روایت کے خلاف جنگ چھیڑ دی جس میں انہوں نے عورتوں سے بات کرنے کے بجائے سماج کی باتیں کرڈالی۔خاص طور پر مسدس، مدوجزر اسلام لکھ کر انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی اور نئے امکان سے روشناس کیا۔انہیں کی وجہ سے اردو غزل میں نئے رنگ و آہنگ پید اکیا۔ حالاں کہ ان کی غزلیات کا دیوان مختصر ہے لیکن تمام تر منتخبہ ہے۔ثبوت میں ان کی ایک غزل ملاحظہ فرمائیں:

بُری اور بھلی سب گذرجائے گی؛

یہ کشتی یوں ہی پار اُتر جائےگی

ملے گا نہ گُلچیں کر گُل پَتا؛

ہر ایک پنکھڑی یوں بکھر جائےگی

رہیں گے نہ ملّا یہ دِن سَدا؛

کوئی دن میں گنگا اُتر جائے گی

بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ؛

یہ عزّت تو جائے گی پر جائےگی

سنیں گے نہ حاؔلی کی کب تک

صدا یہی ایک دِن کام کر جائےگی

حالی ؔ کی غزل پیش کرنےکا مقصد یہ ہے کہ پچھلی صدیوں سے چلی آرہی روایت سے ہٹ کر غزل گوئی کے ذریعہ اصلاحی معاشرہ کے کام کس طرح لینا ہے یہ ہم حالی سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم اس غزل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے ۔ پہلے شعر میں’ میرے احساسات اور میرے جذبات کو سمجھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس دنیا میں کوئی میرا محرم یا رازداں نہیں ہے۔ میری زباں حال کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔ میں اس بھری دنیا میں تنہا ہوں۔ دوسرے شعر میں ان کا خیال ہے شاعر خود کو ایک ایسے طاکر سے تشبیہ دیتا ہے جسے چمن سے جد کر کے قفس میں بند کر دیا گیا ہے۔ وہ کوشش کرتاہے کہ کس طرح قفس میں جی بہل جائےکیوں کہ اب ایسی زندگی گزارنی ہے۔ لیکن آشیاں کی یاد اُسے بے چین رکھتی ہے۔

شاعر یاس کے عالم میں کہتا ہے کہ کوئی میرے آشیاں کو آگ لگادے۔ مجھے یقین ہوجائے گا کہ آشیاں جل چکا ہے تو پھر قفس کی زندگی چین سے گزرےگی۔ شاعر تیسرے شعر میں کہتاہے محبوب ‘ شاعر اشارے کنایہ میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو رقیب اور بو الہوس حسد کرتے ہیں۔ شاعر ایک پُر لطف طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ ان معمولی اشاراتِ نہاں میں کیا رکھاہے۔ بوالہوس بھی چاہیں تو اس قسم کی اشارہ بازی کرلیں ۔ مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔

چوتھے شعر میں شاعر کہتا ہے میری داستانِ غم بڑی طویل ہے۔ جب سناؤں تفصیلات ذہن میں آتی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ہر وقت ایک نئے عنوان کی کہانی سنارہا ہوں۔ کیا کیا جائے ۔ محبوب کے ظلم و ستم کی داستان میں اتنا تنوع ہے کہ میری داستان ہر وقت نئی کہانی معلوم ہوتی ہے۔

پانچویں شعر میں شاعر کہاتا ہے۔ خدانے مجھے ایک درمند دل عطاکیا ہے۔جس میں اپنے اور انسانیت کے دُکھ درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ یہ پُر درد دِل سیری زندگی کا بڑا سرمایہ ہے ۔ اس کی وجہ سے میرے دل و دماغ میں ہمیشہ ایک ہیجان کارفرما ہوتا ہے ۔ خدانے مجھے فرصت دی تو میں اپنے دل درد مند سے کچھ کام لوں گا۔ اور انسانیت کے دُکھ اور آلام کو منظرِعام پر لاؤں گا۔

شاعر غزل کے آخری شعر میں لکھتا ہے ۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ابھی دنیا میں ایسے پاکیزہ فطرت انسان موجود ہیں۔ پہلی نظر میں ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کسی انسان کی سیرت اور شخصیت میں کیا باتیں چُھپی ہوئی ہیں۔ لیکن قریب سے دیکھنے اور ملنے کا موقع ہوتو کِسی غیر معمولی اور قابلِ قدر انسان کا جوہر ہم پر کُھل جاتا ہے۔

شاعر نے اس غز ل کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ غزل صرف فحش یا لغو باتیں کرنے کا ہنر نہیں ہے نہ ہی عورتوں کے جسم کی ہرہر حرکت پر غورو خوص کا کام ہے۔ اس مختصر تعارف کے راقم نے مقالہ کے بنیادی مقصد کا احاطہ کچھ اس طرح کیاہے۔ غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور سب سے جاندار صنف ہے۔ دوسری تمام شعری اصناف مختلف ادوار میں عروج و زوال کی دھوپ چھاؤں سے دو چار ہوئیں لیکن غزل کے آنگن میں ہمیشہ دھوپ ہی دھوپ کھلی رہی۔ غزل حقیقتاً ’’ اردو شاعری کی آبرو‘‘ ہے۔ غزل صنفِ سخن ہی نہیں معیارِ سخن بھی ہے۔‘‘

لفظ غزل کا ادبی مطلب محبوب سے گفتگو ہے۔تاریخ کی رو سے یہ عربی لفظ غزل سے بنا ہے۔ جس کے معنیٰ ہرن کے ہیں ۔جو عام فہم زبان میں غزل ایک ایسی پابند منظوم صنف ہے۔ جس میں سات۔نویا درجن بھر یکساں وزن اور بحر کے جملوں کے جوڑے ہوں۔ اس کا آغاز جس جوڑے سے ہوتا ہے وہ مطلع کہلاتا ہے اور اختتام کےجوڑے کو مقطع کہتے ہیں۔ جس میں شاعر اپنا تخلص یا نام استعمال کرتا ہے۔غزل کے شعر میں ہر جوڑے ہر انفرادی جملے کا یکساں دراز ہونا لازمی ہوتا ہے۔پابند جملوں کے یہ جوڑے شعر کہلاتے ہیں.

اردو میں شعر کی جمع اشعار کہلاتی ہے۔غزل کے بنیادی نظریہ اور تعریف کے مطابق اس کا ہر شعر اپنی جگہ ایک آزاد اور مکمل منظوم معنیٰ رکھتا ہے۔کسی بھی شعرکا خیال اگلے شعر میں تسلسل ضروری نہیں ہوتا۔ایک غزل کے اشعار کے درمیان مرکزی یکسانیت کچھ الفاظ کے صوتی تاثر یا چند الفاظ کا ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تکرار سے ہوتا ہے۔اس سے ہٹ کر بھی کسی غزل کے ایک سے زیادہ اشعار کسی ایک ہی خیال کو مرکزی ظاہر کر سکتے ہیں۔لیکن ہر شعر اپنی جگہ منظوم قواعد و ضوابط کا پابند ہونا چاہیے۔جن غزلوں میں ایک سے زائد اشعار ایک ہی مرکزی خیال کےلئے ہوتے ہیں ان کو نظم یا نظم نما غزل بھی کہا جا سکتا ہے۔

1.1غزل کا فن:

اردو میں لفظ نظم کا واضح مطلب جملوں کے اختتام پر وزن اور صوتی اثر کا مساوی ہونا ہے۔غزل کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں آخری ایک دو یا زیادہ سے زیادہ تین الفاظ پوری غزل کا توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ غزل کے مطلع کا پہلہ مصرعہ بھی انہی الفاظ پر ختم ہونا چاہیے۔اسے غزل کا ردیف کہتے ہیں ردیف سے پہلے کا لفظ منظوم ہونا ضروری ہے۔

علامہ اخلاق حُسین دہلوی نے اپنی تصنیف ’فن شاعری‘ میں ردیف سے متعلق کہا ہے’’ ردیف کے بدلنے سے قافیے کی حیثیت بدل جاتی ہے اور ایک ہی قافیہ کئی طریق سے بندھ ہو سکتا ہے جس سے مضامین وسعت اور ارنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔ ردیف جتنی خوشگوار اور اچھوتی ہوتی ہے اتناہی ترنم اور موسیقی میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘قافیہ ہی غزل کی بنیادی ضرورت ہے۔ قافیہ غزل میں اس مقام پر آتا ہے جہاں موسیقی میں طبلے کی تھاپ دونوں میں تاخر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ردیف اور قافیہ دونوں بحر کی موج پر اُبھر تے ہیں۔ بحرکا انتخاب غزل گو شعوری طور پر نہیں کرتا، یہ جذبہ اور کیفیت سے متعین ہوتی ہے۔

غزل کا پہلا مصرع جذبے یا کیفیت کے ساتھ خود بخود ذہن سے گنگنا تا ہوا نکلتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ بحر معین ہو چکی ہے، قافیہ بھی معین ہو چکا ہے ، اور اگر ردیف ہے تو وہ بھی غزل کی ہئیت کا اس کے اسلوب پر بھی اثر پڑتا ہے۔ غزل کا اسلوب ایجازو اختصادر رمز و کنایہ‘مجاز، تمثیل، استعارہ و تشبیہ سے مرکب ہے اس لیے اس میں وہ تمام خوبیاں اور خامیاں ملتی ہیں جو سخنِ مختصر کی خصوصیات ہیں۔ غزل بنیادی طور پر ایک انفرادی فنکار انہ عمل ہے۔ لیکن اس کے جذبات کی عمومیت مسلّم ہے جو سرشت انسانی کی وحدت اور جبّلتوں کی یکسائی پر مبنی ہے۔ اور یہ عُمومیت ماضی ، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کا احاطہ کرتی ہے۔

غزل کے فن سے متعلق اختر سعید خاں کا خیال ہے’’ غزل کا فن نرم آنچ سے جلاپاتا ہے‘ بھڑکتے ہوئے شعلوں سے نہیں۔ قدیم غزل ہو یا جدید اس کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ وہ اشاروں اور کنایوں میں بات کرتی ہے‘اونچی آواز میں نہیں بولتی ‘اس ک اکمال گویائی برہنہ حرفی نہیں ‘پیام زیرلبی ہے۔ غزل کا فن نہ سینہ کوبی ہے نہ قہقہہ لگانا۔ وہ ایک آنسو ہے پلکوں پر ٹھہراہوا‘ایک تبسم ہونٹوں پر پھیلا ہوا۔ کبھی اس کے تبسم میں اشکوں کی نمی ہوتی ہے اور کبھی اشکوں میں تبسم کی جھلک۔‘‘

غزل کے فن سے متعلق لکھا ہے’’ غزل کا فن دراصل رمزیت اور ایمائیت کا فن ہے۔ دیگر اصنافِ سخن کے مقبلہ میں غزل اپنے فن کی اسی جاذبیت کی وجہ سے ممتاز رہی ہے۔ غزل کی تبدیلیوں سے متعلق حامد کا شمیری نے اپنی تصنیف’ اردو تنقید (منتخب مقالات‘ میں الطاف حسین حالی کے نظریات پیش کیے ہیں۔ جس میں سب سے پہلے تخّیل کا ذکر ہے جس میں سب مقدّم اور ضروری چیزہے۔ جو کہ شاعر کو غیر شاعر سے تمیز دیتی ہے۔ اس کے بعد تخّیل کی تعریف کے تحت تخیل یا امیج نیشن کی تعریف کرنی بھی ایسی ہی مشکل ہے ۔جیسے کہ شعر کی تعریف اور اس کی وضاحت کی ہے۔ د

وسری شرط کائنات کا مطالعہ بتا ہے ۔ جس میں اگر قوتِ متخیلہ اس حالت میں بھی جب کی شاعری کی معلومات کا دائرہ نہایت تنگ اور محدود ہوا سی معمولی ذخیرہ سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتے ہیں۔لیکن شاعری میں کمال فطرتِ انسانی کا ’مطالعہ‘ نہایت غور سے کیا جائے۔ تیسری شرط تلفظ الفاظ کی بیان کی گئی ہے۔ جس میں کائنات کے مطالعہ کی عادت ڈالنے کے بعد دوسرا نہایت ضروری مطالعہ یا تفحص ان الفاظ کا ہے جن کے ذریعہ سے خاطب کو اپنے خیالات مخاطب کے روبرو پیش کرنے ہیں۔

دوسرا مطالعہ بھی ویا ہی ضروری اور اہم جیسا کہ پہلا۔ان اصولوں سے متعلق چند ضروری باتیں ہیں جن کا خیال رکھانا چاہیے۔ ’’ شعر کے وقت ضروری ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اوّل خیالات کو صبر و تحّمل کے ساتھ الفاظ کا لباس پہنانا پھر ان کو جانچنا اور تولنا اور ادائے معنی کے لحاط سے ان میں جو قصور رہ جائے اس کو رفع کرنا۔ الفاظ کو ایسی ترتیب سے منظم کرنا کہ صورۃ اگر چہ نثر سے متمیز ہو مگر معنی اسی قدر ادا کرے جیسے کہ نثر میں ادا ہو سکتے۔ شاعر بشر طیکہ شاعر ہو اول تو وہ ان باتوں کا لحاظ وقت پر ضرورکرتا ہے اور اگر کسی وجہ سے بالفعل اس کو زیادہ غور کرنے کا موقع نہیں ملتا تو پھر جب کبھی وہ اپنے کلام کو اطمینان کے وقت دیکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اثر بڑے بڑے شاعروں کا کلام مختلف نسخوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ پایا جاتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر یوسف حسین خاں نے مشرقی میں المیہ کی معنویت کی وضاحت غزل کی روح سے کیا ہے۔کیوں کے غزل کے جذبہٗ غم کو مغربی ادب کی ٹریجیڈی (المیہ) کے مساوی قراردیا ہے۔کیوں کہ لفظ غزل کے ایک معنی اس دل گداز چیخ کے ہیں جو شکاری کے طویل تعاقب، اس کے خوف اور تھکن سے گرپڑنے والے ہرن کے حلق سے نکلتی ہے۔ جس کی تاثیر سے شکاری کتا ہرن کو پاکر بھی اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ گویا خُز نیہ لَے اور المیہ غزل کی ہئیت ترکیبی میں شامل ہے۔ غزل کے تمام بڑے اور قابلِ ذکر شاعروں نے کسی نہ کسی رنگ میں المیہ احساسات کی ترجمانی ضروری کی ہے۔اگر چہ ایسی غزلوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی ، جنہوں کلی طور پر المیہ کہا جاسکے(مولانا روم کا دیوان شمس تبریز اس سے مستثنیٰ ہے۔ جس کی زیادہ تر غزلیں حزنیہ اور المیہ ہیں) کلی طور پر ’ طربیہ غزل‘ بھی شاید ہی کسی بڑے غزل گو کافنی مطمح نظر رہا ہے۔

غزل کے شاعر کو روایتاً ہی سہی غم کا بیان ضرور کرنا پڑ تا ہے۔ اسی لیے رنج و الم کے جذبات و احساسات کو جو نسبت صنف غزل سے ہے کسی اور صنف شاعری سے نہیں۔ اردو غزل کا فکری و فنی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ غزل میں المیہ مواد اور الم پسندی کی طویل روایت کے چار نمایاں اسباب ہیں۔

ہیئتی توارث فارسی غزل کی فکری ،

جذباتی اور جمالیات تشکیل کے تاریخی اسباب تصوف کی روایت کے حزنیہ عناصر اُردو غزل اور اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پس منظر

عربی لفظ غزل کے معنی عورتوں سے حسن و عشق کی باتیں کرنا ہے۔