اولاد کے حقوق و فرائض بیان کریں۔

ادبی محفلCategory: اسلامی سوالات و جواباتاولاد کے حقوق و فرائض بیان کریں۔
beingsajid Staff asked 12 مہینے ago
beingsajid Staff replied 12 مہینے ago

حقوق اولاد:

اولاد کی پیدائش کے بعد ابتدائی حقوق: جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو اولاد کا یہ حق ہے کہ پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دی جائے اس کےبعد جب وہ سات دن کا ہو جائے تو اس کا عقیقہ کیا جائے اس کے سر کے بال منڈوا کر بالوں کے وزن کے برابر صدقہ کیا جائے اگر لڑکا ہو تو دو بکرے اور اگر لڑکی ہو تو ایک بکراذبح کیا جائے اس کے بعد اس کا اچھا سا نام رکھا جائے ایسا نام جس سے اللہ کی بڑائی اوربندے کی عائزی ظاہرہوتی ہو۔ اگر لڑکا ہو تو عقیقہ والے دن اس کا ختنہ کیا جائے اگر اس دن رہ جائےتوپھر بعد میں جتنا جلدی ہو سکے اس کا ختنہ کر دیا جائے۔ جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسےنماز پڑھنے کی تاکید کی جائے اور ابتدائی اسلامی تعلیم دی جائے اسے اچھے اخلاق، نیکی کے کام، بڑوں کا احترام سکھایا جائے۔

پرورش:

اولاد کی پرورش کےسلسلے میں قرآن نے یہ قانون دیا ہے کہ بچہ کی رضاعت دو برس تک ہے
ماں مرجائے یا طلاق ہو جائے تو باپ دو برس تک رضاعت کا سامان کرے لڑکی کمزور ہوتی ہے اس لیے اس کی پرورش کے بارے میں اسلام خصوصی تاکید کرتا ہے۔

تعلیم و تربیت:

اولاد کا والدین پر حق ہے کہ انہیں عمدہ اور نیک تربیت دیں قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ:
”اپنے آپ کو اور گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“
یعنی خود بھی نیکی کرو اور گھر کے افراد کو بھی نیکی سکھاؤ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ:
”کوئی باپ اپنے بچے کو حسن ادب سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا۔“
اولاد کی پرورش اور تربیت کرکے انہیں کمائی کے لائق کرنا ایک عظیم دینی خدمت ہے احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک اولاد صدقہ جاریہ ہے۔

وراثت میں حصہ:

اولاد کا یہ حق ہے کہ جب ان کے والدین کی طرف سے جو تر کہ رہ جائے تو اس میں اولاد کو باقاعدہ حصہ دیا جائے شریعت میں ایک لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ مقرر ہے۔

والدین کے حقوق:

والدین کےاولاد پر اس قدر احسانات ہوتے ہیں کہ اولاد ان کی خدمت میں تمام زندگی لگادے تو ان کا حق ادا نہیں ہو سکتا حضورؐ کی حدیث ہے کہ:
”کوئی اولاد اپنے والدین کے احسانوں کا اجرادا نہیں کرسکتی سوائے اس کے کہ والدین کسی کے غلام ہوں اور انہیں خرید کر آزاد کردے۔“

والدین کے حقوق مندرجہ ذیل ہیں:

محبت و احترام:

والدین سے محبت اور ان کا احترام کرنا چاہئے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے ساتھ ہی والدین سے حسن سلوک کا حکم دی اہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اس کی اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس ان میں کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں، تو انہیں اف تک نہ کہو نہ انہیں جھڑک کر جواب دو بلکہ ان کے ساتھ احترام کے ساتھ بات کرو اور نرمی اور رحمت کے ساتھ انکے سامنے جھک کررہو اور دعا کیا کرو کہ پروردگاران پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کےساتھ مجھے بچپن میں پالاتھا۔“

فرمانبرداری:

والدین کی فرمانبردای ہر حالت میں ضروری ہو سوائے اس صورت کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ اس کے علاوہ والدین کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی روا نہیں۔ حضورؐ کافرمان ہے کہ اگر والدین تجھے کنبہ اور دنیا سے نکل جانے کا حکم دیں تو جب بھی ان کا نافرمانی نہ کر۔

والدین کے رشتہ داروں سے سلوک:

حضورﷺ نے والدین کی محبت اور خدمت گزاری پر تاکید نہیں کہ بلکہ ان کے رشتہ داروں کی محبت اور خدمت گزاری کی بھی تاکید فرمائی ہے۔ ایک شخص حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کیا کہ مجھ سے ایک بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے کیا میرے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟ آپؐ نے پوچھا کہ تیری ماں (زندہ) ہے بولا نہیں پھر پوچھا کیا تیری خالہ ہے؟ جواب دیا ہاں آپؐ نے فرمایا تو اس سے نیکی کر۔ حدیث میں ہے کہ بہترین نیکی یہ ہے کہ والدکے تعلقات کو زندہ رکھا جائے۔

والدین کی موت کے بعد:

والدین کی خدمت گزاری کا حق انکی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بعد میں بھی جاری رہتا ہے۔ اولاد کی نیکی کا ثواب والدین کو بھی پہنچتا ہے اس لیے والدین کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ انسان نیک ہو کر رہے تاکہ جنت میں ان کے درجات بلند تر ہوں۔