بخاری شریف میں حضرت سعد رضی الله عنه سے منسوب واقعہ تحریر کریں۔

ادبی محفلCategory: اسلامی سوالات و جواباتبخاری شریف میں حضرت سعد رضی الله عنه سے منسوب واقعہ تحریر کریں۔
beingsajid Staff asked 11 مہینے ago
1 Answers
beingsajid Staff answered 11 مہینے ago
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ایک نہایت دلچسپ واقعہ بخاری شریف میں مذکور ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر وہ مکہ مکرمہ میں موجودگی کے دوران میں بیمار ہو گئے۔بیماری اتنی زیادہ بڑھی کہ بچنے کی امید باقی نہ رہی۔ اب انھیں دو باتوں کی فکر لاحق ہوئی ۔ پہلی تو یہ کہ ان کی اولاد میں اس وقت تک ایک صاحب زادی کے سوا کوئی وارث نہ تھا اور جائیداد خاصی تھی، انھیں فکر تھی کہ جائیداد کا کیا بنے گا اوردوسری فکر یہ تھی کہ انھوں نے نبی اکرم خَاتَمُ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مکہ مکرمہ میں اپنا گھر بارچھوڑ کرمدینہ منورہ ہجرت کی تھی اوراب مکہ مکرمہ میں موت آنے کی صورت میں انھیں یہ پریشانی تھی کہ اگر میں یہاں فوت ہو گیا اور یہیں دفن ہو گیا تو میری ہجرت کا کیا بنے گا، کیا میری ہجرت منسوخ اور باطل تو نہیں ہو جائے گی ؟ رسول الله عَالم النَّبِينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى أَلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ عبادت کے لیے ان کے خیمے میں تشریف لائے تو حضرت سعدرضی اللهُ عَنْهُ نے اُن سے عرض کی یاخَاتَمُ النَّبِينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى أَلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ ! جیسا کہ آپ خَاتَمُ النَّبِينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى أَلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نےملاحظہ فرمایا ہے کہ میرامرض اس حد کوآ گیا ہےاورمیرے پاس مال ہے،جس کی وارث صرف میری ایک لڑکی ہے تو کیا میں اپنا دو تہائی مال خیرات کر دوں؟” آپ خَاتَمُ النَّبِينَ صَلَّى اللهُ على اله وَ أَصْحَابِہ وَسَلَّم نے فرمایا ” نہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ” کیا آدھا کر دوں؟“ آپ خَاتَمُ النَّبِينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى الِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے پھر فرمایا ”نہیں“۔ حضرت سعد رضی الله عنه نے پھر پوچھا کہ کیا ایک تہائی کر دوں؟ نبی کریم خَاتَمُ النَّبِيْنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى أَلِهِ وَأَصْحَابِہ وَسَلَّم نے فرمایا انتہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے وارثوں کو مال دار چھوڑ کر جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہےکہ انھیں محتاج چھوڑو اوروہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔تم جو بھی خرچ کرو گے، اگراس سے اللہ کی رضا مقصود ہوئی تو تمھیں اس پر ثواب ملے گا۔ حتی کہ اس لقمہ پر بھی تمھیں ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول الله! خَاتَمُ النَّبِيْنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى الِيهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ ( بیماری کی وجہ کیا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ (مدینہ) نہیں جا سکوں گا؟“ تو آپ خَاتَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى اليهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا ” اگر تم نہیں جاسکے جب بھی اگر تم کوئی عمل کرو گے تو تمھارا درجہ اللہ کے یہاں اور بلند ہوگا اورامیدہے کہ تم بھی زندہ رہوگے۔ اورتم سے چھ لوگوں (مسلمان) کون ہے کوکا کولوگوں (اسلام کے دشمنوں کو نقصان پہنچے گا۔ اے اللہ ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو کامل فرما اور انھیں پیچھے نہ ہٹنا۔ ( صحیح بخاری : ۴۴۰۹)