جہاد کے مختلف اقسام تفصیل سے بیان کریں؟

ادبی محفلCategory: اسلامی سوالات و جواباتجہاد کے مختلف اقسام تفصیل سے بیان کریں؟
beingsajid Staff asked 12 مہینے ago
beingsajid Staff replied 12 مہینے ago

جہاد بالنفس:

جہاد بالنفس بھی جہاد کی ایک قسم ہے۔ جہاد بالنفس سے مراد ہے جسم و جان سے جہاد کرنا۔ حتیٰ کہ اللہ کی راہ میں دشمنوں سے لڑتے لڑتے اپنی جان تک پیش کر دی جائے۔عام طورپر جب لفظ جہاد بولا جاتا ہے تو اس سے اسی قسم کا جہاد ہی مراد لیا جاتا ہے جس کو قرآن میں قتال کہا گیا ہے۔ جہاد کے لیے جنگی قوت کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے اور جہاد میں شہید ہوجانے والوں کو مردہ کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے اور ان کے متعلق بتایا گیا کہ وہ اپنے رب کی طرف سے رزق پارہے ہیں اور اس پر خوشیاں منارہے ہیں۔ ان کے لیے اجرعظیم، جنتوں کا بہترین ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔

جہاد بالعلم:

جہاد بالعلم جہاد کی ایک قسم ہے۔ دنیا کے تمام شر و فساد جہالت کا نتیجہ ہے۔ اور اس کا دور کرنا ضروری ہے۔ جہالت کے اندھیرؤں کو علم کی روشنی سے دور کرنا بھی جہاد ہے۔ اگر انسان عقل و شعور اور علم و دانش رکھتا ہے اسے چاہئے کہ دوسروں کو بھی اس سے فیض پہنچائے۔ انسان کو جو ہدایت ملی وہ دوسروں کو دینا جہاد ہی ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ النحل میں ارشاد ہے:

ترجمہ: ”لوگوں کو اپنے پروردگار کی طرف آنے کی دعوت حکمت و دانش اور خوب صورت نصحیت کے ساتھ کردو۔ اور ان سے مجادلہ (بحث و مباحثہ) جنگ بہت ہی خوب صورت طریقت سے کرو۔ اسی طرح عملی انداز میں دین کی دعوت و تبلیغ بھی جہاد کی ایک قسم ہے۔ اور نتائج و افادیت کے لحاظ سے اس کو بہت اہمیت حاصل ہے۔سورۃ الفرقان میں اسے ”جہاد کبیر“ قرار دیا گیا ہے۔

جہاد بالمال:

جہاد بالمال بھی جہاد کی ایک قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو مال و دولت عطا فرمایا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ اسے اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے اور حق کی حمایت و نصرت کے سلسلے میں انفاق سے گریز نہ کیا جائے۔ انسان کابہترین مال کا مصرف وہی ہے جو وہ راہ خدا میں خرچ کرتا ہے۔ انسان جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اللہ نے اس کے بدلے بہتر عطا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔جو مال راہ خدا میں خرچ ہوتا ہے اس کا اجر کچھ تو دنیا میں ملے گا اور بقیہ آخرت میں جنت میں جانے کا سبب بنے گا۔ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا،یہ لوگ اللہ کے پاس نہایت بلند مرتبہ پر فائز ہیں۔
جو لوگ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے اس کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں انھیں ”عذاب الیم“ کی خوشخبری دی گئی ہے۔ سورۃ التوبہ میں ارشاد ہے:

ترجمہ: ”اور وہ لوگ جو سونے اور چاندی کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں درد ناک عذاب کی بشارت دے دو۔ “
فرائض کی ادائیگی: جہادکی ایک قسم یہ بھی ہے کہ ہر نیک کام اور فرض کی ادائیگی میں اپنی جان و مال اور دماغ کی پوری قوت صرف کی جائے۔ ایک مرتبہ عورتوں نے جہاد کی اجازت چاہی تو رسولؐ نے فرمایا: ”تمہارا جہاد حج مبرور ہے“

ماں باپ کی خدمت:

ایک صحابیؓ نے جہاد میں شرکت کے لیے کہا تو آپؐ نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ ہیں، اس نے عرض کیا، جی ہاں تو آپؐ نے فرمایا تو تم ان کی خدمت کے ذریعے جہاد کرو۔