سوال۱: زکوٰۃ کا مفہوم اور اس کی فرضیت بیان کریں۔

ادبی محفلCategory: اسلامی سوالات و جواباتسوال۱: زکوٰۃ کا مفہوم اور اس کی فرضیت بیان کریں۔
beingsajid Staff asked 12 مہینے ago
beingsajid Staff replied 12 مہینے ago

زکوۃ:

زکوۃ کا لفظی معنی ہیں پاک ہونا، نشونما پانا، بڑھنا ، یہ مالی عبادت دین اسلام کا ایک اہم فرض رکن ہے۔اصطلاح شریعت میں زکوۃ ایک ایسی مالی عبادت ہے جو کہ ہر مسلمان عاقل، بالغ مرد و عورت جو صاحب نصاب ہوں پر سال میں ایک مرتبہ فرض ہے، اس کی ادائیگی ہر سال اس شخص کو کرنی پڑتی ہے جو دولت کی ایک مخصوص مقدار کا مالک ہو۔ اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر مشتمل ہے جن میں تیسرے نمبر پرزکوۃ ہے۔ زکوۃ ایک صاحب نصاب مسلمان پر اپنے مال میں سے ایک خاص شرح کے مطابق فرض ہے۔ زکوۃ ادا کرنے سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے اور آخرت میں اس کا اجر بھی ملتا ہے۔ زکوۃ ادا نہ کرنا بڑا گناہ ہے۔

زکوۃ کی فرضیت:

زکوۃ رمضان 2ھ؁ کو فرض ہوئی۔ زکوۃ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاحب ثروت لوگوں کے مال میں غریبوں کا حصہ مقرر ہوا ہے۔ قرآن کریم میں اکثر مقامات پر نماز اور زکوۃ کی فرضیت کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہے ”نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو“ کا حکم بار بار دہرایا گیا ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے:
”اے پیغمبرؐ! ان کے مالوں میں سے زکوۃ لے کر ان کو پاک صاف بنا“
نصاب و شرح زکوۃ: نصاب سے مراد مال کا وہ کم از کم اندازہ جو زکوۃ کے فرض ہونے کے لیے شریعت میں مقرر ہے۔ جو مال نصاب سے کم ہو اس پر زکوۃ لازم نہیں یعنی جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باول تولے چاندی یااس کی مالیت کے برابر نقدی یا سامان تجارت اپنی حاجات ضرورت سے زائد وفارغ ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس کا چالیسواں حصہ یا اڑھائی فیصد بطور زکوۃ دینا فرض ہے۔