شمالی ہند میں اردو کے ارتقاء پر روشنی ڈالیے۔

ادبی محفلCategory: اردو ادب معروضی سوالاتشمالی ہند میں اردو کے ارتقاء پر روشنی ڈالیے۔
beingsajid Staff asked 12 مہینے ago
beingsajid Staff replied 12 مہینے ago

شمالی ہندوستان میں اردو

شمالی ہندوستان میں اردو کی باقاعدہ تربیت بارہویں صدی عیسوی میں ہوئی۔ اردو زبان و ادب کے ارتقا کی تاریخ میں آریوں کی ہندوستان آنے اور پھر منگولوں اور ترکوں کے قافلوں حاکموں اور سلاطین کے بغرض ہجرت حکومت آنے جانے ان کے علاوہ ہندوستانیوں پے بیرون ہند کے سفر کرنے اور حکومتی اقدامات اٹھانے کے تعلق سے ہندوستان کے شمال کا حصہ نہایت متفرق ثابت ہوا اور شمالی ہندوستان میں اخذ و قبول کی یہی تاریخ حصہ بنیں جس کی بندیوں پر قدیم وجدید اور داخلی اور خارجی معیارات کے لئے اور زبان کی تاریخ لکھنے والوں نے مختلف تاریخیوں میں اپنے مطالعے اور مشاہدے پیش کیے ییں یہاں تک کہ صوفی سنتوں اور ولیوں کی خدمات کے بعد اردو کے ارتقاء کی باقاعدہ تاریخ 1193ء اس وقت طے پائی جب دہلی پر مسلم سلطان کا قبضہ ہوگیا یعنی حکومت دہلی کو بیرون ہند کے سلطان نے آکر فتح کر لیا۔

اس طرح شمالی اردو زبان و ادب کی تاریخ بہت وسیع ہے یہاں اس کے اجمالی جائزے کا اشارہ ذکر کیا جانا کافی ہے جس میں ادب عالیہ کے1857 تک کے سلسلوں کو سمجھے اور جوڑنے کے لیے تین نام ہیں۔ جنہیں اردو کی بے لوث خدمت کا شرف حاصل ہوا جنہوں نے اجتماعی تجربہ اور مشاہدوں سے فنکارانہ جوہروں کو نئی آب و تاب کے ساتھ پیش کیا وہ حضرت امیر خسرو، کبیر داس اور نظیر اکبر آبادی ہیں جن کے درمیان زمانی اعتبار سے صدیوں کا تفاوت ہے مگر زبان و ادب کی تاریخ میں تینوں کا مقام ومرتبہ انفرادی شناخت کا عمل رہا ہے اور تینوں میں الفاظ کے برتاؤ کا عمل بھی جداگانہ حیثیت اور اہمیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کی مذکورہ تینوں شخصیتیں اپنی اپنی سطح پر کمال اور ہنر دکھانے کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔