ضبطِ نفس کے متعلق لکھیں؟

ادبی محفلCategory: اسلامی سوالات و جواباتضبطِ نفس کے متعلق لکھیں؟
beingsajid Staff asked 11 مہینے ago
1 Answers
Best Answer
beingsajid Staff answered 11 مہینے ago
جواب: انسان کو نیکی کے راستے، اور برائی کے راستے پر ڈالنے والی اہم چیز خواہش نفس ہے۔خواہشات اگر اللہ تعالیٰ کے تابع رہیں تو انسان کی انفرادی اور اجتماعی خوبیوں کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔لیکن جب خواہشات نفسانی ہدایت زبانی کے تابع نہیں رہتیں، تو انسان کا حیوانی سطح سے بھی گرادیتی ہیں۔ روزے کا اصل مقصد انسان کی خواہشات کو احکام الہیٰ کے تابع کرکے اسے متقی بنانا ہے۔جو شخص ہر سال، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر پورا مہینہ اپنی بنیادی خواہشات پر قابو پانے کی مشق کامیابی سے مکمل کرلے تو اسے ضبط نفس کی وہ قوت حاصل ہو جاتی ہے جس سے وہ شیطان کی ہر ترغیب کا آسانی سے مقابلہ کر سکتا ہے۔

جب ایک انسان رمضان المبارک کے پورے مہینے میں کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات پر قابو رکھتا ہے۔ نیز دیگر اخلاقی برائیوں سے اجتناب کرتے ہوئے اپنا اکثر وقت عبادات ورنیک کاموں میں گزارتا ہے تو اس کی طبیعت میں نیکی کا ذوق پیدا ہو جاتا ہے اور اسے بدی سے نفرت ہو جاتی ہے۔ روزہ خواہشات نفسانی پر قابو پانے کی تربیت کے ساتھ ساتھ انسان کی انانیت(خود پسندی) کا بھی مؤثر علاج ہے۔

جب انسنا روزے میں بھوک اور پیاس کی شدت کے باوجود، کھانے پینے کی اشیاء پاس ہوتے ہوئے بھی، کچھ کھاپی نہیں سکتا، تو اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی بے چارگی کا احساس ہوتا ہے اور یہ احساس جب دائمی کیفیت بن جائے، تو انسان میں ہر خلاف شریعت عمل سے رک جانے کی صلاحیت پیدا کردیتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے گئے روزوں سے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“ اور یہ بھی فرمایا کہ ”بہت سے روزے دار ایسے ہیں کہ جن کو اپنے روزوں سے بھوک اور پیاس کی اذیت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔“آپﷺ نے مزید فرمایا ہے کہ:
ترجمہ: اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ اور غلط کاریوں سے نہیں بچتا تو اس کا کھانا پینا چھڑانے سے اللہ کو کوئی دلچسپی نہیں۔ (بخاری)