فتح مدائن کا واقعہ تحریر کریں۔

ادبی محفلCategory: اسلامی سوالات و جواباتفتح مدائن کا واقعہ تحریر کریں۔
beingsajid Staff asked 10 مہینے ago
1 Answers
beingsajid Staff answered 10 مہینے ago
ایران کی فتح کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہی کی قیادت میں اسلامی لشکر نے کئی ماہ کی طویل لڑائی کے بعد عراق کو بھی فتح کیا۔ اس وقت عراق کا دارالحکومت مدائن تھا۔ اسلامی فوج کو یہاں تک پہنچنےمیں کئی ماہ کا عرصہ لگ گیا۔ مدائن سے پہلے جو آخری شہر لشکراسلام نے فتح کیا، وہ بہرہ شیر کا تھا جسے دوماہ کے محاصرے کے بعد فتح کیا جا سکا۔بہرہ شیر اور دارالحکومت مدائن کے درمیان صرف دریائے دجلہ حائل تھا۔ ایرانیوں نے مسلمانوں کے خوف سے دریا پر جہاں جہاں پل تھے،سب کو توڑ کربیکارکر دیا تھا لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی اولوالعزمی کے آگے دنیا کی کوئی چیز حائل نہ ہوسکی۔ انھوں نے اپنے لشکر کو مخاطب کر کے کہا “برادرانِ اسلام ! دشمن نے ہر طرف سے مجبور ہو کر دریا کے دامن میں پناہ لی ہے، آؤ! اس کو بھی تیر جائیں تو پھر مطلع صاف ہے ۔ یہ کہ کر آپ رضي الله عنہ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔اپنے سپہ سالار کی جاں بازی دیکھ کر تمام فوج نے بھی جوش کے ساتھ گھوڑے ڈال دیے اور باہم باتیں کرتے ہوئے دوسرے کنارے پر جا پہنچے۔ایرانی اس عجیب و غریب جوش و استقلال کا منظردیکھ کردیوآگئے، دیوآگئے”کہتے ہوئے بھاگ گئے۔ تاہم ان کا سپہ سالارتھوڑی سی فوج کے ساتھ جما رہا اوردریا سے نکلنے پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لشکر کے مقابل آیا، لیکن مسلمانوں نے ان کو جلد ہی ان کو شکست دے دی اور مدائن پہنچ کرشاہی محلات پر قبضہ کرلیا۔شاہِ ایران جوپہلے ہی بھاگ چکا تھا،البتہ تمام مال واسباب موجود تھا،جو دارالحکومت مدینہ منورہ روانہ کر دیا گیا۔