مضمون اور انشائیہ میں فرق

ادبی محفلCategory: اردو جنرل نالجمضمون اور انشائیہ میں فرق
beingsajid Staff asked 1 سال ago
2 Answers
Best Answer
beingsajid Staff answered 1 سال ago
  مضمون اور انشائیے کے درمیان امتیاز کرنا بعض دفعہ بڑے بڑے ناقدین اور باذوق قارئین کے لیے بھی مشکل ہوجاتا ہے اگرچہ ان دونوں کے درمیان نہایت آسانى سے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ 1۔ مضمون کى باقاعدہ ایک ہئیت ہوتى ہے۔ ابتداء ، وسط اور اختتام جبکہ انشائیہ میں بات کہیں سے شروع کہىں پر ختم ہوجاتى ہے۔ اگر کسى تحریر کى ابتداء میں موضوع کا تعارف کیا جائے ۔ تعارف کے بعد اسے دلائل سے واضح کرکے آخر میں اس کا نچوڑ پیش کیا ہے ، تو ایسى تحریر کو ہم مضمون کہىں گے۔ اور اگر کسى تحریر میں اسى ساخت یا ہئیت (ابتداء ، وسط اور اختتام) کو نہ پایا جائے تو وہ تحریر انشائیہ کہلائے گی ۔ 2۔ مضمون کى بنیادى تکنیک بیانیہ ہوتى ہے جبکہ انشائیہ نارملى شعور کی رو کى تکنیک میں ہوتا ہے کیونکہ اس میں مصنف خیالات ک رو میں آزادانہ بہہ رہا ہوتا ہے ۔ 3۔ مضمون میں مضمون نگار ذات کی بجائے خارج کا ذکر کرتا ہے جبکہ انشائیہ میں مصنف کی شخصیت کی جھلک ہوتى ہے۔ 4۔ مضمون کے لیے متانت و سنجیدگى(یہ کوئى طے شدہ امر نہیں) جبکہ انشائیہ میں ہلکے پھلکے مزاح کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ 5۔ مضمون میں معانى اور مفہوم پہ زیادہ توجہ دى جاتى ہے جبکہ انشائیہ میں مفہوم کی بجائے الفاظ کی بنت اور بندش پر ۔ 6۔ مضمون میں کسى چیز کو سامنے سے دیکھا جاتا ہے جبکہ انشائیہ کسى دوسرے زاویے سے اسے دیکھتا ہے ۔ 7۔ مضمون کا مقصد کوئى خاص پیغام دینا ہوتا ہے جبکہ انشائیہ مسرت بہم پہنچانے کى غرض سے لکھا جاتا ہے اگرچہ ہمارے ہاں انشائیوں میں بھی کوئى اہم پیغام دیا جاتا ہے ۔ 8۔ مضمون کا اسلوب سادہ ہوتا ہے جبکہ انشائیہ کا نسبتاً گنجلک و ثقیل۔ 9۔ مضمون انشائیہ کى بہ نسبت زیادہ مربوط ہوتا ہے ۔ انشائیہ میں بھی ربط ضرور ہوتا ہے مگر عام قارى اس ربط کو آسانى کے ساتھ محسوس نہیں کرسکتا۔
beingsajid Staff answered 1 سال ago
  مضمون اور انشائیے کے درمیان امتیاز کرنا بعض دفعہ بڑے بڑے ناقدین اور باذوق قارئین کے لیے بھی مشکل ہوجاتا ہے اگرچہ ان دونوں کے درمیان نہایت آسانى سے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ 1۔ مضمون کى باقاعدہ ایک ہئیت ہوتى ہے۔ ابتداء ، وسط اور اختتام جبکہ انشائیہ میں بات کہیں سے شروع کہىں پر ختم ہوجاتى ہے۔ اگر کسى تحریر کى ابتداء میں موضوع کا تعارف کیا جائے ۔ تعارف کے بعد اسے دلائل سے واضح کرکے آخر میں اس کا نچوڑ پیش کیا ہے ، تو ایسى تحریر کو ہم مضمون کہىں گے۔ اور اگر کسى تحریر میں اسى ساخت یا ہئیت (ابتداء ، وسط اور اختتام) کو نہ پایا جائے تو وہ تحریر انشائیہ کہلائے گی ۔ 2۔ مضمون کى بنیادى تکنیک بیانیہ ہوتى ہے جبکہ انشائیہ نارملى شعور کی رو کى تکنیک میں ہوتا ہے کیونکہ اس میں مصنف خیالات ک رو میں آزادانہ بہہ رہا ہوتا ہے ۔ 3۔ مضمون میں مضمون نگار ذات کی بجائے خارج کا ذکر کرتا ہے جبکہ انشائیہ میں مصنف کی شخصیت کی جھلک ہوتى ہے۔ 4۔ مضمون کے لیے متانت و سنجیدگى(یہ کوئى طے شدہ امر نہیں) جبکہ انشائیہ میں ہلکے پھلکے مزاح کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ 5۔ مضمون میں معانى اور مفہوم پہ زیادہ توجہ دى جاتى ہے جبکہ انشائیہ میں مفہوم کی بجائے الفاظ کی بنت اور بندش پر ۔ 6۔ مضمون میں کسى چیز کو سامنے سے دیکھا جاتا ہے جبکہ انشائیہ کسى دوسرے زاویے سے اسے دیکھتا ہے ۔ 7۔ مضمون کا مقصد کوئى خاص پیغام دینا ہوتا ہے جبکہ انشائیہ مسرت بہم پہنچانے کى غرض سے لکھا جاتا ہے اگرچہ ہمارے ہاں انشائیوں میں بھی کوئى اہم پیغام دیا جاتا ہے ۔ 8۔ مضمون کا اسلوب سادہ ہوتا ہے جبکہ انشائیہ کا نسبتاً گنجلک و ثقیل۔ 9۔ مضمون انشائیہ کى بہ نسبت زیادہ مربوط ہوتا ہے ۔ انشائیہ میں بھی ربط ضرور ہوتا ہے مگر عام قارى اس ربط کو آسانى کے ساتھ محسوس نہیں کرسکتا۔