ناموسِ رسالت کی وضاحت کریں۔

ادبی محفلCategory: اسلامی سوالات و جواباتناموسِ رسالت کی وضاحت کریں۔
beingsajid Staff asked 11 مہینے ago
1 Answers
Best Answer
beingsajid Staff answered 11 مہینے ago
جواب:اللہ نے انبیاء و رسل کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ اے شریعت مطہرہ کی اصلاح میں ناموس رسالت کہا جاتا ہے۔انبیاء و رسل علیہم السلام میں سے کسی ایک کی بھی توہین،استہزاء اور گستاخی ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ارشاد ربانی ہے:
ترجمہ: بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے۔(سورۃ الاحزاب : ۵۷)

اس آیت کریمہ کے ذریعے ریاست کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ شائم رسول ﷺ کو سزائے موت دے دے۔ چاہے وہ گستاخ مسلم شہری ہو یا مدعی اسلام ہو، اس پر ساری امت کا اجماع ہے۔ تاہم انفرادی طور پر کوئی شخص کسی کو یہ سازا نہیں دے سکتا۔ اس لیے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵ سی کے اضافے سے قرآن و سنت کے احکام اور امت مسلمہ کے ایمانی جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے۔
جس کے مطابق آنحضرت محمد رسول اللہ خاتم النبینﷺ کی شان میں توہین آمیز رائے کا استعمال کرنا: ”جو کوئی آنحضرت محمد ﷺ کے نام کی بذریعہ الفاظ تہمت یا طعن آمیز اشارے یا درپردہ الزام کے ذریعے براہ راست یا بالواسطہ توہین کرے گا تو اسے سزائے موت ہوگی۔“ اس طرح حضرت محمد ﷺ و جملہ انبیاء و رسل علیہم السلام کے ناموس کا تحفظ کیا گیا ہے۔