نفس پر ایک حکایت

ادبی محفلCategory: اردو جنرل نالجنفس پر ایک حکایت
beingsajid Staff asked 11 مہینے ago
1 Answers
Best Answer
beingsajid Staff answered 11 مہینے ago
مولانا روم ایک سپیرے کی داستان بیان فرماتے ہیں۔ وہ سانپوں کی تلاش میں جنگلوں اور بیابانوں میں برفباری کے بعد سانپوں کی تلاش میں نکلا۔ ایک جگہ اسے بہت بڑا مردہ اژدھا نظر آیا تو اس کے دل نے سوچا کہ اس کو کسی طرح شہر لے جاؤں اور اس پر ٹکٹ لگا دوں ‏تو بہت پیسے کماؤں گا۔

وہ بڑی مشکل اور تکلیف سے اس کو کھینچ کر شہر لے آیا۔ لوگوں نے جب سنا تو شہر کا شہر امڈ آیا۔ اژدھا جو اصل میں مردہ نہیں تھا برفباری میں ٹھنڈک کی وجہ سے اس کا جسم سن ہوگیا تھا، ہجوم کی گرمی نے اور سورج کی حرارت نے اسے پھر سے ٹھیک کر دیا اور اس نے ‏حرکت کرنا شروع کر دی۔

ہجوم نے جب یہ دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے، جس کا جدھر منہ ہوا دور پڑا۔
سپیرا جو اژدھے کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے جیسے ہی بھاگنے کی کوشش کی تو اژدھے نے منہ کھولا اور سپیرے کو نگل لیا۔ قریب ہی ایک بڑی عمارت میں بل کھا کر یوں زور لگایا کہ سپیرے کی ہڈیاں بھی سرمہ بن گئیں۔

مولانا روم یہ واقعہ سنا کے یوں فرماتے ہیں کہ: "ہمارا ‎نفس بھی ایک اژدھے ہی کی طرح ہے اسے کبھی مردہ تصور نہیں کرنا، وسائل نہ ہونے کی بنا پر یہ ٹھٹھرا ہوا نظر آتا ہے۔"

اللہ کریم کی اطاعت سے بغاوت اور دنیا پرستی وہ دو حرارتیں ہیں جو اسے متحرک کردیتی ہیں۔ ‏اسلئے استغفار کیا کریں اور اللہ سے نفس کی قید سے بچنے کی دعا کیا کریں۔۔۔!