پریم چند کی ناول نگاری کی خصوصیات پر ایک تنقیدی مضمون لکھیے۔

ادبی محفلCategory: Jkbose Urdu Questions Answersپریم چند کی ناول نگاری کی خصوصیات پر ایک تنقیدی مضمون لکھیے۔
beingsajid Staff asked 12 مہینے ago
beingsajid Staff replied 12 مہینے ago

پریم چند کا شمار اردو ادب کے اہم اور نمایاں ترین ناول نگاروں میں کیا جاتا ہے۔پریم چند نے اردو ادب کو بازار حسن،نرملا،بیوہ،گئودان،میدان عمل،سوز وطن اور غبن وغیرہ جیسے کئی شہرہ آفاق ناولوں سے نوازا ہے۔پریم چند کی ناول نگاری کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے اپنی تحریروں کے ذریعے دیہی زندگی اور اس کے مسائل کی عکاسی کو ممکن بناتے ہوئے کسان کو بطور ہیرو کے پیش کیا۔ان کے ناولوں میں دیہات کی زندگی اور کسانوں پر ہونے والے مظالم،مہاجن و پروہت کی چیرہ دستیوں کے شکار کرداروں کا بیان ملتا ہے۔

پریم چند کے ناولوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے معاشرے میں موجود سماجی ناانصافی اور نا برابری کو اپنے ناول میں باقاعدہ موضوع بنا کر پیش کیا۔خود ہندو ہونے کی بنیاد پر ہندوؤں کی معاشرتی نابرابری،چھوت چھات وغیرہ کے نظام سے گہری واقفیت کی بنا پر انھوں نے اس برائی کا اظہار کھل کر کیا۔ان کے ناولوں میں اخلاقیات کا گہرا درس بھی موجود ہے۔ان۔کے ناولوں کے موضوعات عورتوں اور بیواؤں کے حقوق بیان کررہے ہیں۔

پریم چند کی ناول نگاری کی سب سے بڑی خصوصیت حقیقت نگاری ہے۔پریم چند نے جس حقیقت کی تصویر کشی کی ہے وہ کتابوں سے نہیں بلکہ اصل زندگی سے لی گئی ہے۔ان کے ناولوں کی کہانیاں ہندوستان کے غریب طبقے کے مسائل اور حالات کو بیان کرتی ہیں۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ پریم چند کے ناول سماجی حقیقت نگاری کے بہترین عکاس ہیں۔

پریم چند کے ناولوں میں سادگی کا عنصر پایا جاتا ہے۔وہ کہانی کو زندگی کے اصلی اور حقیقی انداز میں سیدھے سادھے انداز میں پیش کرتے ہیں اور ان کی سادگی کا ہی وصف قاری کو ان کی تحریر کی جانب زیادہ متوجہ کرتا ہے۔ان کے ناولوں کی تحریر سادہ،بے تکلف اور فطری ہے ابتدا میں اس میں جو عربی یا فارسی کے الفاظ کا بیان ملتا تھا رفتہ رفتہ وہ خامی دور ہو کر ان کی تحریر رواں اور سلیس اردو میں بدل گئی۔

پریم چند کے ناولوں میں پلاٹ نگاری پر خصوصی توجہ دکھا ئی دیتی ہے۔ان کے تمام ناولوں میں فن ناول نگاری کے مطالبات موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے کمزور ناول بھی پلاٹ کے لحاظ سے اعلی نمونے کے ہیں۔پریم چند کے ناولوں کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے تمام ناولوں کے کردار ان کی فنکارانہ مہارت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ان کی تحریروں کے کردار جامد نہیں بلکہ خود کو حالات و واقعات کے مطابق ڈھالتے دکھائی دیتے ہیں وہ عام انسانوں میں سے ایسے کرداروں کا انتخاب کرتے ہیں کہ قاری ایک بار بڑھ لے تو بمشکل ہی ان کرداروں کو بھلا پاتا ہے۔

مجموعی طور پر پریم چند کی ناول نگاری میں سماجی حقیقت نگاری،پلاٹ کی پختگی،کردارنگاری اور موضوعات کی رنگا رنگی وغیرہ جیسی تمام صفات بدرجہ اتم موجود ہیں۔