قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری

جدید اردو ناول کے بنیاد گزاروں میں ایک اہم نام قرۃالعین حیدر کا بھی ہے۔ انہوں نے اردو ناول کو ایک نئی سمت عطا کی  اسے پڑھنے سے زیادہ محسوس کرنے کی چیز بنا دیا۔ ان کے ناولوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی ٹھہرتی نہیں اور یہ کہ وقت کے بہاؤ کے ساتھ سب کچھ بہہ جاتا ہے اور وقت ایک ایسی طاقت ہے جس کے آگے انسان بالکل بے بس ہے۔

شعور کی رو سے  ناول میں بہت کام لیا گیا  اور اس ضمن میں قرۃ العین حیدر کا کارنامہ  ناقابل فراموش ہے۔ وسیع کینوس  حیدر کو اردو کے باقی تمام فنکاروں سے ممتاز کرتا ہے۔ بلکہ اس معاملے میں وہ جیمس جوائس اور ورجینیا وولف کو بھی بہت پیچھے چھوڑ جاتی ہیں کیونکہ یہ دونوں یورپ کی حدود سے آگے بڑھنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس قرۃالعین حیدر  برصغیر  یعنی ہندوستان، پاکستان بنگلہ دیش کے علاوہ یورپ کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کر لیتی ہیں۔

وسعت و آفاقیت  میں ہمارا کوئی ناول نگار ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ماضی کی بازیافت قرۃالعین حیدر کے فن ناول نگاری کا ایک اہم جزو ہے۔لیکن وہ ماضی میں اسیر ہو کر نہیں رہ جاتی  اور کسی بھی حال میں مستقبل کو نظر انداز نہیں کرتی۔اعلیٰ طبقات کی نمائندگی  حیدر کے ناولوں میں زیادہ نظر آتی ہےاور  وہ خود اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ہندوستان پاکستان اور یورپ میں بھی  ان کا تعلق امیر طبقے سے ہی رہا۔ ان کے پہلے ناول” میرے بھی صنم خانے "جاگیردار  طبقے کے زوال کی داستان پیش کرتا ہے۔

قرۃالعین حیدر کا اسلوب نگارش تمام ناولوں میں یکساں نہیں ہے۔ کہیں شاعرانہ زبان استعمال کرتی ہیں  اور کہیں شعری وسائل کا استعمال کرتی ہیں۔ان کے ناول مندرجہ ذیل ہیں۔” میرے بھی صنم خانے " ان کا پہلا ناول ناول ہے جو تقسیم ہند کے موضوع پر لکھا گیا . "میرے بھی صنم خانے” کا عنوان اقبال کے شعر کے ایک مصرے کا ٹکڑا ہے۔  یہ ناول 1949 میں شائع ہوا ۔

  
میرے بھی صنم خانے تیرے بھی صنم خانے
دونوں کے صنم خاکی دونوں کے صنم فانی 

   "سفینہء غمِ دل” ان کا دوسرا ناول ہے۔  اس کا عنوان  فیض کی  ایک نظم صبح آزادی کے ایک شعر سے ماخوز ہے

کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل
کہیں تو جاکے رکے گا سفینہء غمِ دل

یہ ناول  1952 میں شائع ہو          

   "آگ کا دریا " قرۃ العین حیدر کا ضخیم ناول ہےجو 1959ء میں شائع ہوا تھا ۔ ناول آگ کا دریا کا عنوان جگر مراد آبادی کے اس شعر کے ایک مصرعے کا ٹکڑا ہے۔


یہ عشق نہیں آساں بس اتنا ہی سمجھ لیجئے
ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

قرۃالعین حیدر نے آگ کا دریا کا ترجمہ انگریزی میں بھی کیا ہے  جس کا نام” The river of fire”ہے۔اس ناول کو  حیدر کے ناولوں میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔ اس ناول کا کینوس  اتنا وسیع ہے کہ ہندوستان کی تاریخ و تہذیب کے ڈھائی ہزار سال کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوا ہے۔شمس الرحمن فاروقی کے مطابق  آگ کا دریا یا30 فیصد شاعری ہے اور 70 فیصد نثر ہے ۔یہ ناول 101 ابواب پر مشتمل ہے۔ناول کے مرکزی کردار  گو تم۔ ہری شنکر۔ چمپا اور کمال ہیں۔

"آخری شب کے ہمسفر " انکا چوتھا ناول ہے جو 1979 عیسوی میں شائع ہوا . اس ناول میں  وقت کی بالادستی اور انسان کے خوابوں کی شکست کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ریحان الدین احمد  اور دیپالی  مرکزی کردار ہیں۔ آخری شب کے ہم سفر  فیض احمد فیض کے اس شعر کے پہلے مصرعے کا ٹکڑا ہے جو مندرجہ ذیل ہے 

آخر شب کے ہمسفر سر فیض نہ جانے کیا ہوئے
رہ گی کس جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی۔

"کار جہاں دراز ہے” جو تین حصوں پر مشتمل ہے۔پہلا حصہ حصہ 1977 دوسرا حصہ 1979 تیسرا حصہ شاہراہ ہریر کے نام ہے جو 2002 عیسوی میں شائع ہوا۔ کار جہاں دراز ہے کا عنوان اقبال کے اس شعر کے دوسرے مصرعے کا ٹکڑا ہے۔

باغ بہشت  سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر۔

۔کار جہاں دراز ہے قرۃ العین حیدر کا سوانحی ناول ہے جو تین حصوں پر مشتمل ہے۔

"گردش رنگ چمن " 1987 عیسوی میں شائع ۔ گردش رنگ چمن کا عنوان غالب کے اس شعر سے ماخوز ہے۔

عمر میری ہو گئی صرف بہار حسن
گردش رنگ چمن ہے ماہ و سال عندلیب

اس ناول کا موضوع جو دراصل قدیم اور جدید کے درمیان کشمکش ہے جس کے نتیجے میں مختلف افراد ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس ناول کے مرکزی کردار  عندلیب بیگ ،  ڈاکٹر منصور کاشغری, دلنواز بانو ,مہرو , اور نواب فاطمہ  امتیازی طور پر قابل ذکر ہیں۔اس ناول میں علامتی زبان کا استعمال بہت پایا جاتا ہے۔

"چاندنی بیگم” 1990ء میں شائع ہوا۔ یہ ایک انوکھے انداز کا ناول ہے۔ اس ناول میں شعری طرز اظہار سے دامن بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔چاندنی بیگم اور قنبر علی اس کے مرکزی کردار ہیں۔

اس کے علاوہ ان کے ناولٹ بھی ہیں  جو مندرجہ ذیل ہیں۔"سیتا ہرن” کا موضوع  عورت کا استحصال ہے۔ "چائے کے باغ "اس کا موضوع دنیا کی بے معنویت گلہ ہے ۔"دلروبا” میں  تھیٹر  اور محتلف زمانے میں اس کے بدلتے ہوئے کلچر کو پیش کیا گیا ہے ۔ "اگلے جنم ہ موہے  بٹیا نہ کیجو”۔اس کا موضوع  یہ ہے  کہ عورت کے ساتھ کس طرح کی ناانصافیاں کی جاتی ہیں۔"ہاؤسنگ سوسائٹی "میں جاگیردارانہ نظام کے زوال کی داستان بیان ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ قرۃ العین حیدر نے رپوتاز بھی لکھے ہیں۔قرۃالعین حیدر کے رپورتاز اس کے دو مجموعے ہیں۔ "کوہ دماوند” ان کے رپوتاز کا مجموعہ ہے جس میں چھ رپور تاز ہیں۔”ستمبر کا چاند "چار رپوتاز کا مجموعہ ہے۔ ان کے مشہور رپوتاز میں سے ” لندن لیٹر” ، ستمبر کا چاند”  کوہ دماوند” ، قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے "، گلگشت، "دکھ سا نہیں ٹھار سنسار میں” وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

قرۃالعین حیدر کے اہم افسانے نے۔” ایک شام” قرۃالعین حیدر کا پہلا افسانہ ہے۔"یہ باتیں” ، ارادے "، خوابوں کے محل "، ستاروں سے آگے”،  پرواز کے بعد ، میری گلی میں ایک پردیسی ،ٹوٹتے تارے ، اودھ کی شام،  زندگی کا سفر،     مونالیزا، جہاں کارواں ٹھہرا تھا تھا ،دوسرا کنارہ، شیشے کے گھر ،میں نے لاکھوں کے بول سہے ،جب طوفان گذر چکا ، آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا ،کارمن ،حسب نسب، نظارہ درمیاں ہے، آوارہ گرد، سینٹ فلورا  آف جارجیا،  جن بولو تارا تارا تارا، کہرے کے پیچھے ،حاجی گل بابا بیکتاشی، لکڑ  بگھےکی ہنسی،  آئینہ فروش شہر کوراں،
یہ ہے قرۃالعین حیدر کے افسانوں ناولوں  کی کائنات  پر وقار اور عظیم الشان۔

Written By

Jafar Ali Khan

Close