رومانی تحریک ایک اہم تحریک ہے جس نے نہ صرف مغربی ادب کو متاثر کیا بلکہ اردو ادب نے بھی اِس کے گہرے اثرات قبول کیے ہیں ۔اِس تحریک نے سب سے پہلے فرانس میں فروغ حاصل کیا۔اِس کے بعد یورپ کی دوسری زبانیں اس سے متاثر ہوئیں۔

تفصیل انگریزی میں

یورپ میں رومانی تحریک انیسویں صدی کے وسط سے شروع ہوئی۔ انگریزی میں انیسویں صدی کے شروع میں کلاسیکی ادب کے خلاف ردِ عمل رومانی صورت اختیار کر گیا ۔سترھویں اور اٹھارویں صدی میں پوپ اور ڈرائڈن کے ہاتھوں شاعری ضابطوں کی پابند ہو کر رہ گئی ۔ انھوں نے جوش ،جزبات ، شعریت اور تجربے کی اصلیت کی طرف بلکل توجہ نہیں کی۔ نتیجے میں ظاہری نفاست اور آرائشِ زندگی ان کے انفرادی اور اجماعی پہلوؤں پر چھا کر رہ گئے ۔شاعری میں زبان و بیان کا توازن ، آراستگی اور تصنع کاری اہمیت اختیار کر گئی ۔لیکن نئے دور کے ادیبوں اور دانشواروں کو شدت سے یہ محسوس ہونے لگا کہ کلاسی نقطۂ نظر سے زندگی محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔فرانس میں سب سے پہلے روسو نے اِن جکڑبندیوں کو توڑنے کی کوشش کی۔

جرمنی میں شیلے اور شیگل کے خیالات نے رومانی آزادی کے خیالات عام کیے ۔ انگریزی شاعری میں ورڈس ورتھ اور کولرج، سکاٹ بائرن اور شیلے نے رومانی تصورات کو مروج کیا ۔ انگريزی ادب میں ابتداء میں ورڈس ورتھ اور کولرج کی شاعری میں رومانی تحریک کے نقوش ملتے ہیں ۔اِسی وجھ سے ورڈس ورتھ اور کولرج کو انگريزی شاعری میں رومانی تحریک کا باوا آدم کہا جاتا ہے ۔اِن شعراء نے کلاسیکی شاعری جو انفرادی جزبات و احساسات کو رد کرتی ہے ،سے انحراف کیا ۔رومانی شاعری میں انفرادیت ہی سب کچھ ہے بلکہ رومانیت کا دوسرا نام انفرادیت ہے .

بعد میں شیلے اور کیٹس نے حقیقت سے گریز کر کے تخیلی دنیا میں اپنے جذبات اور تجربات کو اہمیت دی .رومانی تحریک کی بنیادی خصوصیت تخلیق کی آزادی ،آمد ،آہنگ ،خلوص ،خیال کی آزادی ،ابہام پرستی ،علامت نگاری اور پیکرتراشی وغیرہ ہیں ۔لکین وہ خصوصیات جسے اس تحریک کا طرۂ امتیاز کہا جاتا ہے وہ اِس کی داخلیت یا جذبے و وجدان کی ترجمانی ہے ۔

اردو ادب میں

اردو ادب میں بھی رومانیت کلاسیکی روایت کے خلاف ردِ عمل کے طور پر شروع ہوئی ۔رومانی رجحان کو اردو ادب میں ان حالات کی وجہ سے بھی زیادہ تقویت ملی جو انگریزوں کی آمد کی نشاۃالثانیہ کی پیداوار تھے ۔مغربی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کی روشنی میں ہندوستانی لوگوں کے ذہن روشن ہو چکے تھے ۔وہ اپنی زندگی کے محدود دائروں سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر بدلتی زندگی کا مشاہدہ کرنے لگے اور جب ان کی نگاہ و فکر میں وسعت پیدا ہوئی تو انھوں نے مغربی رجحان سے اثر قبول کیا ۔

حالیؔ، شبلیؔ، آزادؔ اور اقبالؔ نے انگریزی ادب کے رجحانات سے بھی اردو ادب کو متعارف کروایا ۔ورڈس ورتھ ،شیلے اور کیٹس کے اثرات اردو شارعری میں واضح ہونے لگے ۔لیکن چوں کہ یہ بنیادی طور پر اصلاحی دور تھا ،شعرا نے غزل کی جکڑبندیوں سے آزاد ہونے کے لیے نظم نگاری کی طرف توجہ کی اور زیادہ تربیت کے تجربے کیے گے ۔ اردو شاعری میں آہستہ آہستہ رومانی رجحان نے واضح شکل اختیار کی ۔اِس رجحان کے علمبرداروں میں اقبالؔ ،اختر شیرانی ،عظمت اللّه خان ،جوشؔ اور حفیظ جالندھری کے نام اہم ہیں ۔ترقی پسند شعراء کے یہان بھی رومانی رجحان ملتا ہے ۔

رومانیت کی اصطلاح شاعری میں خاص معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ اسے کلاسکیت کے خلاف ردّ عمل کے طور پر برتا گیا ہے ۔اس میں سوسائٹی کے بجاۓ فردانہ خارجیت کے بجاۓ داخلیت کو اہمیت دی گئی۔اس کے شعراء اجتماعیت کو چھوڑ کر اپنی ذاتی محسوسات اور واردات کی مصوری کرنے لگے اور ایسا کرتے ہوئے مقررہ اسلوب و ہئت کو ہی برتا گیا ۔

ہیت اور تکنیک کے تجربے کیے جانے لگے۔ شعراء نے اقلیت ،جزبے اور حقیقت کے بجاۓ تخیل کو اہمیت دی۔ رومانی شعراء نے مصنوعی ماحول سے نکل کر فطرت کے اصل حسن کا مشاہدہ کیا اور اپنی نگاہوں میں خوابوں ،آرزوؤں اور امنگوں کی ایک نئی دنیا کی تخلیق کی ۔انگریزی ادب میں رومانیت سے جو مفہوم اخز کیا گیا ،اردو شعراء نے اسے قطعی مختلف انداز میں لیا ۔اردو شاعری میں رومانیت بلعموم عشقیہ شاعری کے معنوں میں پیش کی جاتی رہی ہے ۔