سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا

پربت وہ سب سے اونچا ہمسایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جس کے دم سے رشک جناں ہمارا

اے آب رود گنگا! وہ دن ہیں یاد تجھ کو
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اقبال! کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

یہ ترانہ اقبال نے 1904ء میں لکھا تھا اور 10 اگست 1904ء کو کانپور ی (یوپی) کے مشہور اردو رسالہ ‘زمانہ’ کے ایڈیٹر منشی دیا نرائن نگم کو اشاعت کے لیے بھیجا تھا۔اس میں آخری مصرعہ یوں لکھا تھا؀

"معلوم ہے ہمیں کو درد نہاں ہمارا”

لیکن بعد میں انہوں نے اس میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے یوں کر دیا؀

"معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا”

اور اس میں شک نہیں کہ لفظ "کسی” نے مصرعہ میں سوزوگداز کی کیفیت میں اضافہ کردیا ہے۔اقبال کی شاعری کا پہلا دور وطنیت کے جذبے سے بھرپور تھا اور ان میں ہندوستان یعنی اپنے وطن کے لئے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔جس کی ایک مثال یہ "ترانۂ ہندی” ہے۔

Close