Advertisement

اخبار سائنٹیفک سوسائٹی علی گڑھ 30 مارچ 1866ء کو اس اخبار کے نام کے بارے میں اختلاف الائمہ فی نے اس اخبار کی دونوں نام اخبار سائنٹیفک سوسائٹی اردو اور انگریزی نام (Aligarh Institute Gazcts ) لکھے ہیں۔ اس کی اصلاح کرنا یا غلط بنانے کے لئے مولوی عبد الرزاق راشد صاحب کے ایک مضمون رسالہ اردو میں شائع کیا تھا اس اخبار کے بارے میں انھوں نے لکھا تھا کہ علی گڑھ institute کے نام سے 1866ء اخبار نہیں نکلا صحیح نام اخبار سائنٹیفک سوسائٹی ہے ۔ راشد صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی پہلی  بحسن توجہ میں مناسب ہارون صاحب شیروانی حاجی اسماعیل خان صاحب کے کتب خانے سے دستیاب ہوتی تھی معلوم ہوتا ہے کہ راشد صاحب نے اس اخبار کی پہلی جلد لیکن ان کی نظر انگریزی جعلی خرفوں  پر نہیں پڑھی اگر پڑتی تو ایسی غلط بات نہیں کہتے 1866ء علی گڑھ institute. کے نام سے اخبار نہیں نکلا میری نظر کے سامنے جلد اول نمبر کا شمار مورخہ 4 جولائی  ١٨٦٦ء ہے۔  جس کے ایک ٹائٹل کے بیج کے ابتدائی حصے میں گول دائرے میں انگریزی زبان میں  The aligarh institute gazets لکھا ہوا ہے ۔ اس کے اخبار سائنٹیفک سوسائٹی علی گڑھ اردو میں درج ہے ان تمام شواہد سے یہ بات ثابت ہو جاتا ہے کہ اخبار سائنٹیفک سوسائٹی علی گڑھ  the aligarh institute  gazets. .  ایک ہی اخبار کے دو نام تھے چناچہ 1868ء  کی ابتدا میں ہی یہ اخبار ہفتے میں دوبارہ نکلنے لگا تھا ۔ اس اخبار کے ایڈیٹر خود سر سید مرحوم تھے مولوی احمد اسماعیل بھی ادارے میں شامل تھے منشی چکھن لال بھی انگریزی اخبارات کا ترجمہ کرتے تھے مولوی فیض الحسن اور گنگا پرشاد  اردو  کتابوں کا ترجمہ کرتے تھے کل عملہ پانچ سو روپیہ ماہانہ تھا۔مولانا حالی حیات جاوید میں اس  اخبار کی پالیسی کے بارے میں لکھتے ہیں۔

"شروع شروع میں سرسید پولیٹیکل معاملات  پر مضامین اور نوٹ لکھتے تھے ۔اس لئے ان  ابتدائی جلدوں کو ان کے پولیٹیکل کاموں کا ایک مجموعہ  کہا جا سکتا ہے اس اخبار کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس کا ایک کالم انگریزی میں ایک اردو میں ہوتا تھا اور بعض مضامین اردو میں الگ اور انگریزی میں الگ  چھاپے جاتے تھے اس لئے اس سے اردو داں اور انگریزی داں یکساں  فائدہ اٹھاتے تھے اس کا مقصد گورنمنٹ انگریزی کو ہندوستانیوں کے حالات و معاملات اور خیلات سے آگاہ کرنا اور ہندوستانیوں کو انگریزی طرز حکومت سے آگاہ کرنا اور ان میں سیاسی حیالات اور مذاق پیدا کرنا تھا۔ اس کی ابتدائی جلدوں کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ انگریزی حیالات کو ہندوستانی لباس میں اور ہندوستانی حیالات کو انگریزی لباس میں ظاہر کرے۔

Advertisement