شاہ آتے ہیں مگر دربان نہیں آتے
فیض آتا ہے صاحب فیضان نہیں آتے

یہ عجب بات ہے کہ صاحب سیف بھی
اب لڑنے کو سر میدان نہیں آتے

مسجدیں بھری پڑی ہیں نمازیوں سے
ان میں نظر صاحب ایمان نہیں آتے

جم غفیر ہے لوگوں کا ہر سمت دیکھو
آہ کہ کہیں بھی نظر انسان نہیں آتے

جن کو کہتا تھا وہ فخر سے شاہیں اپنے
اب کہیں نظر وہ نوجوان نہیں آتے

جن کے لیے لئے عرب سے اٹھ آیا تھا بن قاسم
ان بہنوں کے اب تو نگہبان نہیں آتے

جو کرتے ہیں حرام خوری سر عام یارو
ان کے لئے سزا کے کیوں فرمان نہیں آتے

شعر کہتا ہوں بس کہنے دو اسامہ
شعروں کے مجھے اوزان نہیں آتے

-از اسامہ منور