Sheikh Saadi Quotes About Love | شیخ سعدی شیرازی

  • لالچی کیلئے اپنا دروازہ نہیں کھولنا چاہیے اگر کھل گیا تو پھر سختی سے بند نہ ہوگا۔
  • جو اپنوں کے ساتھ وفا نہیں کرتا داناؤں کے نزدیک وہ اور کسی کا دوست بھی نہیں ہوتا۔
  • جسم کی طاقت خوراک سے نہ سمجھ اس لیے کہ اللہ تعالی کی مہربانی تیری پرورش کرتی ہے۔
  • جس کے سر میں غرور ہو اس کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ سچی بات سن لے گا۔
  • اگر تو اپنے آپ کو نیکوں میں گنتا ہے تو تو بد ہے اس لئے کہ خدائی میں خودی نہیں سماتی ہے۔
  • نرم زبانی اور شرین کلامی غضبناک انسان کے غضب کی آگ پر پانی جیسا اثر کرتی ہے۔
  • کمزور پر زور کرنا شرافت نہیں ہے کیونکہ جو پرندہ چیونٹی سے دانہ چھینے وہ کمینہ ہوتا ہے۔
  • آدمیت جواں مردی اور مہربانی کا نام ہے حسین شکل و صورت کا نام نہیں۔
  • ہر بات میں بحث کرنا جائز نہیں، بڑوں کی غلطی پکڑنا غلطی ہے۔
  • اگر بدقسمتی سے تیرا مال چوری ہو جائے تو حوصلہ سے کام لے اس لئے کہ خواہ تو عاجزی کرے خواہ فریاد، چور یہ مال واپس نہیں کرے گا۔
  • اپنا غم دشمنوں سے نہ کہو اس لئے کہ وہ خوش ہوتے ہوئے لاحول پڑھیں گے۔
  • اگرچہ کوئی بے موت نہ مرے گا لیکن تو اژدہوں کے منہ میں نہ جا۔
  • جو ذات پاک تجھے مالدار نہیں بنا رہی وہ تیری مصلحت تجھ سے بہتر جانتی ہے۔
  • کسی عزیز دوست کے سامنے بدنصیبی کی وجہ سے منہ بگاڑ کر نہ جا ورنہ تو اس کا جینا بھی تلف کردے گا ضرورت میں بھی اگر تو جائے تو شگفتہ روا اور ہنستا ہوا جا اس لئے کہ ہنس مکھ آدمی کا کام نہیں رکتا۔
  • دوست وہی ہے جو دوست کی پریشان حالی اور عاجزی میں مدد کرے۔
  • نصیب اور دولت ہنر مندی کی وجہ سے نہیں ہے یہ محض تائید آسمانی کی بدولت ہے۔
  • اگر بڑھائی چاہتے ہو تو بخشش کرو کیونکہ جب تک دانہ نہ پکھیرو گے وہ نہ اگے گا۔
  • جہاں پھول ہوتے ہیں وہاں کانٹے ہوتے ہیں۔
  • جس نے علم حاصل کیا اور عمل نہ کیا وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نے ہل چلایا اور بیج نہ بکھیرا۔
  • جس کو ایک مدت میں دوست بنائیں مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحہ میں رنجیدہ کریں۔
  • جو شخص اپنے سے بڑے عالم سے اس لیے بحث کرے کہ لوگ اس کو عالم سمجھیں تو وہ سمجھ لیں گے کہ وہ جاھل ہے۔
  • لوگوں کو ستانے والے سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں ہے اس لئے کہ مصیبت کے وقت اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔
  • بد اصل نیکیوں کا اثر قبول نہیں کرتے۔
  • جو چیز جلد حاصل ہوتی ہے دیر تک نہیں ٹھہرتی۔
  • استاد کی سختی باپ کے پیار سے بہتر ہے۔
  • بہت کھانے والا بہت ذلیل ہوتا ہے۔
  • نہ اتنی سختی کرو کہ لوگ تم سے بے زار ہو جائیں اور نہ اتنی نرمی کہ تم پر دلیر ہو جائیں۔

Close