Speech on Pakistan Day in Urdu

یوم پاکستان پر ایک تقریر

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

اسلام کی امین ہے یہ پاک سر زمین
قرآن کی جبین ہے یہ پاک سرزمین
اس پاک سرزمین سے پیار کرنا چاہئے
جان وطن اس پہ نثار کرنا چاہئے

صدر محترم و معزز حاضرین! السلام علیکم! کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ہمارا پیارا وطن پاکستان خدا کا ایسا عطیہ انعام ہے جو نزول رحمت کی رات یعنی 27 ماہ رمضان جو شب قدر کہلاتی ہے عالم وجود میں آیا تھا۔ جی ہاں اتفاق سے 14 اگست 1947 کا دن 27 ماہ رمضان کو آیا تھا گویا پاکستان کا تحفہ اللہ پاک نے بھی لیلۃ القدر کو عنایت فرمایا تھا جو انتہائی نیک شگون بات ہے۔ میرے خیال میں 14اگست یا 27 ماہ رمضان کو اللہ کے فرشتے آسمان کی بلندیوں سے اترے اور ایشیا پر ایک نئے ملک کی لکیر کھینچ گئے۔ ایسا ملک جس کے بانیوں اور باسیوں نے تحریک پاکستان کے دوران کئی بار اپنے اللہ سے یہ عہد باندھا کہ اس ملک پر ہم اپنے مالک رب الکریم اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا نفاذکریں گے۔

قائد اعظم نے اپنی قوم سے اپنے ایک خطاب کے دوران اعلان کیا تھا کہ” پاکستان کا حصول محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک تجربہ گاہ کی حیثیت سے چاہتے ہیں، جہاں ہم اپنے اللّٰہ اور اسکے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی راہوں اور اس کے اصولوں کو عملی جامہ پہنا سکیں” نزول رحمت بازی نے اس عہد کو شرف قبولیت بخشا اور ہم دولت بیدار سے نواز دیے گئے جس کا نام پاکستان ہے۔ صدر محترم! سچ تو یہ ہے کہ بر صغیر کے مسلمانوں نے کوئی دو سو سال تک یہ خواب دیکھا تھا اور اس خواب کی تعبیر دیکھنے کے لئے کئی خونریزہ جنگیں لڑی گئیں۔ جی ہاں شاہ آباد اور بریلی کے تین سو تیرہ مجاہدین نے دشت و بیاباں سے گزر کر بالاکوٹ کی زمین کو لہو سے لالہ زار بنایا۔ علمائے حق نے مالٹا کی ہولناک اسیری جھیلی، اپنے عزیزوں اور اپنے جگر گوشوں کے ٹکڑے کروائے اور اس تاریخی سعی بسیار، بے مثل قربانی کے بعد وہ شب قدر آئی جو بلاشبہ نزولی رحمت سے کم نہیں۔

سامعین کرام مان جائیے یہ خوش کن حقیقت حضرت کی آزادی کی یہ نعمت ہمیں بے مثل قربانیوں کے صلہ میں میسر آئی۔ الحمدللہ پاکستان کے چمن کو اس کے مالیوں نے پھول سے بچوں کے معصوم خون کیساتھ سینچا۔ اس گلستان کی آبیاری ہزاروں بے گناہ نو جوانوں اور بزرگوں کے رنگین لہو سے کی گئی۔ پاکستان کے وجود کی خاطر بے شمار سہاگنوں کے سہاگ لوٹے، لوگوں نے اپنے معصوم جگر گوشوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے سنگین کی نوک پر چلاتے اور تڑپتے دیکھا۔ بتائے محترم وہ آزادی حیرت جو اتنی قربانیوں کے بعد نصیب ہوئی کوئی سنگدل ہو گا جو اس متاع بے بہا کو دل وجان سے پیار نہ کرے۔ ہم سب کو ایک شاعر دردمند کے اس دعوی سے مکمل اتفاق ہونا چاہئے کہ پیارے وطن!

تیری بنیاد میں ہے لاکھوں شہیدوں کا لہو
ہم تجھے گنج دو عالم سے گراں پاتے ہیں

صدر محترم! میرے قائد نے ایک دفعہ اپنی قوم سے خطاب کے دوران فرمایا تھا کہ پاکستان ایک باغ کی مانند ہے اور ہم پاکستانی اس باغ کے مالی، لہذا ایک فرض شناس باغباں کی حیثیت سے ہمیں اس پاک چمن کی حفاظت کرنی ہے اور آبیاری کا فرض خلوص و محبت سے انجام دینا چاہیے۔ سامعین کرام! مادر وطن کے ساتھ عقیدت و محبت کے اس طرح اظہار اور پیار کے بعد اب ہم اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ لوگ عموماً تحریک پاکستان کو 23مارچ 1940سے 14اگست 1947 سات سالوں میں مقید کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کا قیام صرف انہی دو تاریخی ایام کی تقسیس کا محتاج نہیں، پاکستان اس روز کا قائم ہو گیا تھا بلکہ قائد عظیم کے الفاظ میں پاکستان کی بنیاد اس دن رکھ دی گئی تھی جس دن ہندوستان کے پہلے باشندے نے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پڑھا تھا۔

دراصل پاکستان نام ہے تاریخ کے تسلسل کا، تحریک پاکستان درحقیقت صدیوں کی مسلسل جدوجہد پر محیط ہے۔ اس کا آغاز انگریزوں کی ہندوستان میں آمد اور مغلیہ سلطنت کے زوال یعنی اٹھارویں صدی عیسوی سے ہوچکا تھا۔ اس تحریک کے اولین مظہر تھے جنہوں نے مسلمانوں کے لئے اسلامی مملکت کے قیام کی کوشش کی اللہ تعالی کے اس شعر کی شہادت کے بعد یہ تحریک کچھ عرصہ کے لیے زیر زمین اپنا جادو جگاتی رہی۔ جی ہاں بالکل پہاڑی ندی کی طرح اٹکتی پچکتی اور لڑکھتیہوئی شاہ ولی اللہ اور سید احمد شہید کی تحریکوں سے عملی ویو سے ٹکرانے کے بعد یہ تحریک پھر کچھ وقفے میں زیر زمین میں پلتی بڑھتی تحریک خلافت کی شکل میں پھر منظر عام پر آگئی۔ علی برادران نے اس تحریک کی خوب آبیاری کی ان کے بعد تحریک پاکستان کا پرچم علی گڑھ کے مجاہدین کے ہاتھ آیا۔ سرسیداحمدخان، ڈپٹی نذیر احمد، شبلی اور حالی جیسے مادران خفا کی کوشش نے اسکی آبیاری کا فریضہ خوب اچھی طرح ادا کیا۔ اس کے بعد علامہ اقبال اور پھر مولانا ظفر علی خان سے ہوتا ہوا آخر کار اس قافلہ سخت جان کی سر براہی جناح جیسے مرد جری کے کندھوں پر آ پڑی۔ الحمدللہ بس اس کارواں کو اصل امیر مل گیا بقول اقبال؀

ع ہوتا ہے جادؤ پیماں پھر کارواں ہمارا

صدر محترم! سچ تو یہ ہے کی یہ ہماری پاک سرزمین محمود غزنوی کے اس خواب کی تعبیر ہے جب اس مرد مجاہد نے سومنات کے بھارتی پتھر کو پاش پاش کیا تھا۔ اس مقصد خون کا نذرانہ جو ظالم انگریز کے مد مقابل سرنگاپٹم کی دیواروں کے نیچے بہایا تھا۔ محترم سامعین مان جائیے یہ حقیقت لاہور کے عالمگیری شاہی مسجد اور دو قدم آگے مینار پاکستان کے درمیان جو تھوڑا سا فاصلہ ہے، اہل جنوں نے یہ مختصر راستہ خون کےبے شمار دریا عبور کرنے کے بعد طے کیا تھا۔ اس طرح اس میں نہ جانے کتنے مشکل مراحل آئے، کتنی بار عشق کا امتحان ہوا۔ اس راستے پر قائد اعظم اور ان کے رفقا اہل کار کی فکری کاوشوں کے نہ جانے کتنے انمنٹ نقوش اس پاک دھرتی کی بنیادوں پر ثبت ہوۓ۔ اس راستے سے منزل مراد تک پہنچنے والوں نے اپنی نیک تمنا اور آرزوؤں پر نہ جانے کتنے پھول نچھاور کیے اور پھر اس راستے کو نہ جانے کتنے گمنام شہیدوں نے اپنے خون سے لالہ زار بنایا۔ القصہ تحریک پاکستان کی صدیوں پر محیط ان کٹھن راہوں کی کھا کے ذروں کے ساتھ ایثار اور قربانی کی ایک طویل داستان وابستہ ہے۔ بس صدر محترم! آج کے دن جب ہم یوم پاکستان منارہےہیں آئیے سمیع کل کے ساتھ عہد کریں کہ بادشاہی مسجد سے مینار پاکستان کی اس سے کھلی راہ پر ہم بھی اپنے دو قدم ڈال کر پیارے پاکستان کی محبت و عقیدت کا عملی دم بھریں گے انشاء اللہ۔ پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پائندہ باد

Close