تقدیر کے لغوی معنی ہیں اندازہ لگانا، طے کرنا، شرعاً اس کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں جوکچھ ہورہا ہے، ہرلمحہ و ہرگھڑی سامنے آرہا ہے، یہ سب جیسے اللہ کی مشیت یعنی اس کے چاہنے سے ہورہا ہے۔ ایسے ہی دنیا کی پیدائش سے ہزارہا سال پہلے اللہ کی جانب سے اس کے طے کردینے اور طے کرکے لوح محفوظ میں لکھا دینے کے مطابق ہورہا ہے۔

موت وزندگی، عزت وذلت، غربت ودولت، صحت وبیماری، سعادت وبدبختی، ہدایت وگمراہی تمام چیزیں اس کی جانب سے طے شدہ ہیں۔ سرسری طورپر اس مسئلہ کو دیکھنے میں آدمی الجھ جاتا ہے، بہک جاتا ہے، اسی لیے یہ مسئلہ شریعت کا نہایت نازک مسئلہ ہے، اور اس کی زیادہ کھودوکرید اور اس میں غوروفکر ناپسندیدہ ومنع ہے، بس یہ اعتقاد رکھنا چاہئے کہ اللہ کی جانب سے ایساہی طے ہے۔ انسان کے دل میں یہ خیال واعتقاد جتنا بس جائے اسے اتناہی سکون واطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں اور یہ حالات اسی کی جانب سے آرہے ہیں۔

آپ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے سارے نظام کائنات کو دوحصوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ ایک حصہ وہ ہے جو محض اس کے کرنے سے اور فرشتوں کے واسطے سے انجام پارہا ہے، انسانوں کا اس میں کوئی دخل نہیں، جیسے ہواؤں کا چلنا، بارش ہونا، پھل وپھول کا اگنا، تمام مخلوقات کی پیدائش وغیرہ۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس کو انسانوں سے متعلق کررکھا ہے یعنی انسانی اعمال جنہیں انسان اپنے ہاتھ وپیر ودیگر اعضاء سے کرتا ہے، دل میں ان کے کرنے یا نہ کرنے کا میلان پاتاہے۔ نفس وضمیر اس سے ان کے کرنے یا نہ کرنے پر ابھارتے وآمادہ کرتے ہیں۔

بہرحال تقدیر یہ ہے کہ دنیا میں جوکچھ ہونا ہے اللہ نے پہلے سے طے فرما دیا ہے، کوئی بھی انسان جب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو اس کا کھاناپینا، عمروموت سب طے شدہ ہوتی ہے اور تقدیرمیں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ البتہ اللہ نے تقدیر کے دوحصے رکھے ہیں، ایک کو تقدیر مُعَلَّقْ اور دوسرے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں، تقدیرِمعلّق کا مطلب ہے ایسی تقدیر جو کسی چیز پر موقوف ہوتی ہے کہ اس کے ہونے نہ ہونے سے اس میں تبدیلی ہوجاتی ہے۔ جیسے کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر نیکی کا عادی ہوتو اس کی عمر بڑھادی جاتی ہے اور “تقدیرِمُبْرَم” جوبالکل قطعی ہے اور اس میں کسی وجہ سے کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔

Advertisements