اردو زبان کا آغاز و ارتقاء

کسی ادب کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس کے متعلق کوئی صائب رائے قائم کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کی زبان کی تاریخ سے کم و بیش واقفیت حاصل کی جائے۔اس خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو زبان کی ایک مختصر سی تاریخ پیش کی جاتی ہے تاکہ ہم سب کو یہ معلوم ہوسکے کہ اس زبان کی کب، کیوں کر اور کہاں پیدائش ہوئی؟رفتہ رفتہ کس طریقے سے اس زبان نے معراجِ ترقی کے زینوں کو طے کیا۔ اور آج کس بلند و بالا مقام پر جلوہ فگن ہے۔؟

درحقیقت یہ وہ زبان ہے جو محض چند صدیوں کی کاوش اور آبیاری کا ثمرہ ہے۔لیکن اگر اس کی وسعت اور ہمہ گیری پر غور کریں تو ہم حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ کس طرح یہ نوخیز زبان دفعتاً ملک کے ایک قطعہ کی ملکہ بن بیٹھی او دوسرا قطعہ شب و روز اسی فکر میں غلطاں و پیچاں ہے کہ اس کو آخر کونسا مقام عطا کیا جائے، اس لیے کہ اس کے جتنے انداز ہیں سب ملوکانہ ہیں۔

تاریخ کی اوراق گردانی سے بہتر پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی ایسی زبان نہیں ہے جو دفعتاً معرض وجود میں آئی ہو بلکہ یہ اسی ملک اور سر زمین کی پیداوار ہے۔ہندوستان کے مختلف دور کی مختلف زبانوں سے اس کا خمیر تیار ہوا۔سنسکرت کی بو باس ھے، پراکرت کا ڈھانچہ ہے، عربی، فارسی وترکی اور انگریزی کی گلکاریاں ہیں۔

تفصیلی داستان اس کی پیدائش کی اس طرح ہے کہ ہندوستان میں آریہ قوم کے آنے سے قبل یہاں کے مختلف قطعوں میں مختلف زبانیں رائج تھیں۔ جب آریہ قوم ہندوستان میں آئی تو وہ اپنے ساتھ سنسکرت زبان بھی لائی۔یہی سنسکرت زبان جب ملک کی مقامی بولیوں کے ساتھ آمیزش پذیر ہوئی تو ملک مختلف قطعوں میں مختلف زبانیں پیدا ہوئیں جو پراکرت کے نام سے مشہور ہوئیں۔ان ہی پراکرتوں میں ایک پراکرت وہ بھی تھی جو دلی اور مالوہ کے علاقوں میں جاری و ساری تھی۔اور جس کو وسعت و گیرائی میں دیگر پراکرتوں پر فوقیت حاصل تھی۔یہی زبان آگے چل کر برج بھاشا کے نام سے موسوم ہوئی۔جب مسلمانوں کا قدم ہندوستان میں آیا تو وہ اپنے ساتھ کئی مختلف زبانیں یعنی عربی، فارسی، اور ترکی بھی ساتھ لاۓ۔فاتح ومفتوح قومیں جیسے جیسے آپس میں شیروشکر ہوتی گئیں دونوں کی زبانیں بھی خلط ملط ہونے لگیں اور برج بھاشا نے عربی و فارسی اور ترکی زبانوں کے الفاظ اپنے دامن میں سمیٹنا شروع کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک نئی زبان کی تشکیل ہونی شروع ہوئی۔ اور یہی وہ زبان ہے جس کا نام ہندی یاہندوی، ریختہ، ہندوستانی اور پھر اردو پڑا۔

مسلمان حکمرانوں کے زمانے میں ہندوستان کی سرکاری زبان فارسی تھی اور اس زمانے کے شعراء فارسی زبان ہی میں کلام کہا کرتے تھے۔لیکن رفتہ رفتہ کچھ ایسے شعراء بھی پیدا ہونے لگے جو تفنن طبع اور عوام کی دلبستگی کی خاطر کچھ ایسے کلام بھی کہتے جن میں فارسی اور برج بھاشا کے الفاظ کی آمیزش ہوتی۔ایسے کلام کو وہ ہندی یا ہندوی کے نام سے موسوم کرتے۔امیر خسرو دہلوی (١٢٥٥ء تا ١٣٢٥ء) کے یہاں اس قسم کی چیزیں اکثر پائی جاتی ہیں۔

شاہجہان بادشاہ نے اس مخلوط زبان میں کوئی تحریر اپنے قلم سے لکھی تھی جس کے متعلق اورنگزیب شاہجہان کو اسطرح لکھتے ہیں:-
"آں فرمان عالی کہ در زبان ہندی از دستخط خاص‌رقمے فرمودہ شاہد ایں معنی است”
ہندی کے ساتھ ساتھ نظم اردو کو ریختہ بھی کہتے تھے۔چناچہ شیخ مخدوم سعدی کاکوردی جو اکبر بادشاہ کے زمانے میں تھے اس زبان کو اکثر ریختہ کے نام سے پکارا ہے۔
سعدی کہ گفتہ ریختہ در ریختہ در ریختہ
شیروشکر آمیختہ ہم شعر ہے ہم گیت ہے
اس نئی زبان کا نام اردو اگرچہ شاہجہان کے زمانے میں پڑا لیکن اس نام کا رواج خاص طور پر اورنگزیب کے آخری دور سے ہوا۔شاہ جہاں کے زمانے میں اس زبان کا نام اردو اس وجہ سے پڑا چونکہ لشکریوں میں یہ زبان خاص طور سے رائج ہو گئی تھی۔اور اردو کے معنی خود لشکر، حکومت اور سلطنت کے ہیں۔

انیسویں صدی عیسوی میں جب انگریزوں کا تسلط ہندوستان میں ہوا تو ١٨٠٠ء میں انہوں نے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کی غرض و غارت یہ تھی کہ اردو زبان کو جو اب تک مستقل زبان بن چکی تھی فروغ دیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ جو انگریز ہندوستان میں افسر بن کر آئیں وہ اس ادارہ کے ذریعہ اردو زبان کو سیکھیں تاکہ یہاں کی پبلک کو وہ سمجھ سکیں۔اور انتظام حکومت میں ان کو آسانی ہو۔چنانچہ اس کالج کے ذریعے اردو ادب کی نمایاں خدمت ہوئی اور زبان کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانے کی کوشش کی گئی۔میرامن دہلوی نے قصہ چہار درویش کا جو فارسی زبان میں تھا عام فہم اردو میں ترجمہ کیا۔اس زمانے میں اردو کو اکثر ہندوستانی بھی کہا کرتے تھے۔

اردو زبان کے آغاز کا حال تو معلوم ہوچکا اور اس کی ابتدائی شکل بھی دیکھ چکے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ اردو زبان کی ابتدائی نشونما باقاعدہ طور پر کہاں ہوئی اور کیوں کر یہ زبان ترقی کی منزل پر گامزن ہوتی چلی گئی۔

اس زبان کے ایام طفولیت گہوارا ملک دکن رہا ہے۔جہاں سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی میں قطب شاہی اور عادل شاہی خودمختیار ریاستیں تھیں۔ان خاندانوں میں کی حکمراں ایسے گزرے جن کو اس نوزائیدہ زبان سے خاص الفت تھی،چنانچہ انہوں نے اس کی ترویج و ترقی میں کافی حصہ لیا اور ولی دکنی( ١٦٦٨ء تا ١٧٢٥ء ) نے جو اردو زبان کا باواآدم یعنی پہلا شاعر سمجھا جاتا ہے اس زبان میں جو اس وقت دکنی زبان کہلاتی تھی طبع آزمائی کی۔ان کا کلام آج کی اردو سے بہت زیادہ مشابہ اور مماثل ہے۔پھر محمد شاہ ثانی کے زمانے میں یعنی ١٧٢١ء میں جب ولی دہلی آئے تو وہاں کے فارسی شعراء نے ان کے کلام کو دیکھ اور دیکھ کر نہایت گرویدہ ہوئے۔ان کے دلوں میں بھی اس زبان میں شعر گوئی کا شوق پیدا ہوا۔ اور انھوں نے مستقل طور پر اردو میں شعر کہنا شروع کیا اور اب اردو زبان دکن سے دہلی منتقل ہوگئی۔سراج الدین علی خان آرزو،محمد احسن،شاکر ناجی،مضمون اور آبرو وغیرہ دبستان دہلی کے شعراء کے پہلے صف میں آتے ہیں پھر میر درد، سودا، میر تقی میر وغیرہ کا زمانہ آتا ہے۔یہ اردو شاعری کا زریں دور کہلاتا ہے۔اس دور کے شعرا نے زبان کو مس خام سے کندن بنایا،خوبصورت خوبصورت الفاظ تراشے، اعلی خیالات کو پیش کیا، اسلوب بیان میں جدت پیدا کی،کلام میں درد و سوز عطا کیا۔

جب دہلی پر تباہی آئی اور لکھنؤ کی خودمختار حکومت نے علم پروری اور علم دوستی کا اعلان کیا شعراء کو بیش بہا رقم سے نوازنے لگے تو دہلی کے شعراء کی بساط الٹنی شروع ہوئی اور وہ لکھنؤ میں جا کر قیام پذیر ہونے لگے۔یہاں تک کہ میر اور سودا جیسی باکمال ہستیوں کو بھی دلی کو الوداع کہنا پڑا۔البتہ میر درد برابر دلی میں قیام پذیر رہے۔اردو شاعری کا مرکز اب بجائے دہلی کے لکھنو ہو گیا۔ جہاں دن دونی رات چوگنی یہ زبانیں ترقی کرنے لگی۔یہاں تک کہ انشاء، مصحفی، آتش اور ناسخ جیسی باکمال ہستیوں کا مرکز لکھنؤ ہوا اور جنکے احسانات سے اردو زبان کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتی۔جیسے جیسے لکھنؤ کی زندگی پر عیش پرستی غالب آنے لگیں وہاں کی شاعری بھی اس رنگ سے متاثر ہونے لگی۔چنانچہ بعض شعراء نے بجائے اپنی زبان میں کلام کہنے کے وہاں کی بیگمات کی زبان میں کلام کہنا شروع کیا اور جس کا نام انھوں نے ریختی رکھا۔کہا جاتا ہے اس زبان کی بنیاد سعادت یار خان نے رکھی تھی۔لیکن اس قماش کی زبان کو جنہوں نے معراج کمال پر پہنچایا وہ جان صاحب جان ہیں۔یہ فن و ادب کی نہیں بلکہ عیاشی کی زبان تھی جو بہت دنوں تک نہیں چل سکی۔واجد علی شاہ کے زمانے میں دبستان لکھنو نے زبان میں ایک نیا رنگ پیدا کیا یعنی تصنع بناوٹ اور رعایت لفظی کا بہت زیادہ استعمال ہونے لگا یہاں تک کہ پنڈت دیا شنکر نسیم نے تو گلزار نسیم میں اس کی انتہا کردی جو ہرگز لطف سے خالی نہیں اور شاعر کے کمال فن کی بے ساختہ داد دینی پڑتی ہے۔لکھنوی کی وہ سرزمین ہے جہاں میرانیس اور مرزا دبیر جیسی باکمال ہستیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے مرثیہ گوئی میں غیر فانی شہرت حاصل کی۔

دلی کے آخری ایام یعنی بہادر شاہ کے زمانے میں ذوق، غالب اور مومن جیسے باکمال شعراء گزرے،ذوق نے تو قصیدہ گوئی کو معراج کمال تک پہنچایا اور خاقانی ہند کا دربار شاہی سے ان کو خطاب عطا ہوا۔١٨٥٤ء میں انہوں نے انتقال کیا اور ١٨٥٧ء میں غدر واقع ہوا۔غالب اس دور انحطاط کا نمائندہ شاعر ہے جس کے کلام میں ایک کشمکش کی کیفیت پائی جاتی ہے اور جس نے پہلے پہل یہ محسوس کیا کہ غزل کا دامن محدود ہے اور ہر قسم کے خیالات اور ہر قسم کی باتیں محض غزل کے ذریعے ادا نہیں کی جا سکتیں۔بلکہ اردو شاعری میں دیگر اصناف سخن کو بھی رواج دینے کی ضرورت ہے۔

غالب کے بعد اردو شاعری نے کروٹ بدلی اور حالی، محمد حسین آزاد اور اسماعیل مرٹھی جیسی بزرگ ہستیوں نے جنم لیا۔انہوں نے اردو شاعری کو زندگی سے قریب تر لانے کی کوشش کی اور فن لطیف کو مسائل حیات کے حل کرنے کا آلہ کار بنایا۔

اب تک اردو شاعری کا اطلاق عموماً تین اصناف سخن پر ہوتا تھا۔غزل، قصیدہ اور مثنوی۔غزل کی کیفیت یہ تھی کہ ولی دکنی سے لے کر کم و بیش غالب تک محض ایک رنگ کی چیز تھی یعنی وہی عشق و محبت کی باتیں، ہجر و وصال کی کیفتیں، مبالغہ آمیزی کی بہتات،کوئی جدت نہیں، فرسودہ مضامین، فرسودہ خیالات اور فرسودہ طرز ادا،اور زندگی سے بہت دور، خیالات اور تصورات کی دنیا اور بس- قصیدہ میں وہ خود فروشی کے جذبہ سے کام لے کر اپنے ممدوح کو جس کو ایک قدم چلنے کی صلاحیت نہ تھی،ہمالیہ کی آخری چوٹی پر لے جاکر بٹھانا چاہتا تھا۔قدرت ادھر بساطِ حکومت الٹنے کو تھی ادھر غالب کا بادشاہ وقت کے متعلق یہ حسن ظن کہ بہادر شاہ کے حق میں یوں قصیدہ خواں تھے:

اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیر
اے جہاں دار کرم شیوۂ بے شبہ و عدیل

پاؤں سے تیرے ملے فرق ارادت اورنگ
فرق سے تیرے کرے کسبِ سعادت اکلیل

اسی طرح ہماری مثنویاں تھیں، جن میں عشق و محبت کی باتیں، بھوت پریت کے واقعات درج تھے۔ان قصوں میں نہ تو کوئی جان تھی نہ اصلیت، حسن و عشق کی بکواس تھی اور بس۔
حالی سے جدید اردو شاعری کی بنیاد پڑی۔ اور انہوں نے مسدس مدوجزر کی رجز خوانی کر کے ایک خوابیدہ قوم کو بیدار کرنا چاہا۔حالی کے بعد اکبر الہ آبادی نے اپنی غم زدہ قوم کو ہنس ہنس کر گدگدایا اور ہنسی ہی ہنسی میں اس کی کمزوریوں سے روشناس کرایا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ مسلمانوں نے اپنے کو عام طور پر ایشیائی روایات کو چھوڑ کر یورپ کے بہتے ہوئے سیلاب کے سپرد کر دیا تھا،مٹ رہے تھے لیکن اپنے خیال میں مگن تھے۔

اکبر کے بعد اقبال تشریف لائے جو اس سلسلے کی آخری کڑی قرار دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے قوم کی بربادی کے اسباب کا صحیح طور پر جائزہ لیا اور ان کی اصلاح کی خاطر ٹھوس و کارآمد پروگرام ان کے سامنے پیش کیا،انہوں نے شاعری کو محض فنی نقطۂ نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ اس کو اصلاح کا ایک اہم ذریعہ بنایا۔

اقبال خصوصی طور پر قوم کو سخت کوشی، خوداری اور اخوت کی تعلیم دی۔اقبال کا انتقال اپریل ١٩٣٦ء میں ہوا ان کے بعد کا دور دور حاضر کہلاتا ہے۔اور آج ہم اس دور سے وابستہ ہیں۔اس دور میں اردو شاعری کے مختلف میلانات ہمارے سامنے ہیں جن کی مختصر سی فہرست یہ ہے۔
١ اقبال کا رنگ اکثر شعراء کے کلام میں خاص طور پر جھلکتا ہے۔
٢ بعض شعراء انقلاب عظیم اور اشتراکیت کے علمبردار ہیں۔جوش، فیض، سردار جعفری،احمد ند یم قا سمی وغیرہ اس ضمن میں اعزاز کے خاص طور پر مستحق ہیں۔
٣ اب تک ہمارے ادب میں صرف بزمیہ مثنوی تھیں، اب رزمیہ مثنویاں بھی لکھی جانے لگیں۔حفیظ جالندھری نے شاہانہ اسلام لکھا،حال میں سریر کابری نے شاہنامہ ہند لکھ کر اردو ادب کے خزانے میں ایک نیا اضافہ کیا۔
٤ غزل گوئی کی تہہ میں اب تک قنوطیت کارفرما تھی لیکن اب رجائیت اور امید کی لہریں موجیں مارنے لگیں۔
٥ ہماری شاعری میں ایک نئی صنف کا اضافہ ہوا یعنی نظم معرّیٰ یا نظم آزاد۔اس نظم کے خاص علمبردار میرا جی اور ن۔م۔ راشد ہیں۔اس قسم کی نظموں میں قافیہ، ردیف اور ہم تعداد ارکان شاعری کی پابندی نہیں کی جاتی۔
خلاصہ یہ کہ آج ہماری اردو شاعری ایک بحرائ اور عبوری دور سے گزر رہی ہے اور جس کی عکاسی ہمارے شعراء پورے طور پر کر رہے ہیں۔کلام میں ہر طرح کی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور امید قوی ہے کہ جلد یہ زبان دنیا کی سربرآوردہ زندہ زبانوں میں اپنا مقام بنا کر رہے گی۔

یہاں تک تو نظمی کارناموں کا حال بیان ہوا۔اب نثری داستان کی کہانی بھی کچھ سننی چاہیے۔نظم نگاری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری بھی ابتدا سے ہی ہوتی رہی اور اس صنف ادب میں ہمارے بزرگان دین کی خدمت ناقابل فراموش ہے۔ وہ مذہبی تبلیغ و دین کی اشاعت اسی بھاشا میں کرتے تھے۔رفتہ رفتہ حکایات و قصص کی طرف ادب نے رجوع کیا۔یہاں تک کہ قطب شاہی دور میں ملا وجہی نے سب رس نام کی ایک کتاب لکھی۔اس کتاب کی زبان قدیم ہے اور بہت سے ایسے دکنی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے معنی بغیر فرہنگ کے سمجھنا مشکل ہے۔رفتہ رفتہ طویل داستانوں کے لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا اور طلسم ہوشربا،داستان امیر حمزہ وغیرہ جیسی داستانیں لکھی گئیں۔پھر طویل افسانوں کے لکھنے کا رواج پیدا ہوا۔میرامن دہلوی نے قصہ چہار درویش لکھا جس کی زبان صاف اور سادہ ہے۔پھر رجب علی سرور بیگ نے ‘فسانہ عجائب’ لکھا،اس کی عبارت میں فارسیت غالب ہے۔انیسویں صدی کے آخر میں پنڈت رتن ناتھ سرشار نے ‘فسانہ آزاد’ لکھا جو لکھنؤ کی زندگی کی بولتی چالتی تصویر ہے۔پھر تو ناول اور افسانوں کے لکھنے کا رواج عام ہوگیا۔ڈپٹی نذیر احمد نے توبۃالنصوح، ابن الوقت، مراۃ العروس اور بنات النعش جیسے اہم ناول لکھے جو اپنے دور کے لحاظ سے کامیاب کہے جاسکتے ہیں۔ان کے بعد مولوی عبدالحلیم شرر نے بے شمار تاریخی اور رومانی ناول لکھے جن میں منصور موہنا،فردوس بریں، ففتح اندیس وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔سر سید احمد کے دور میں خود انہوں نے اور ان کے رفقاء نے نہایت شدومد کے ساتھ زبان و ادب کی خدمت کی۔سرسید نے ‘آثارالصنادید’ نام کی ایک تاریخی کتاب لکھی جس میں اس دور کی قدیم شاہی عمارتوں کی مفصل تاریخ بیان کی گئی ہے۔پھر ان کے علمی اور سیاسی مضامین اکثروبیشتر ‘تہذیب الاخلاق’ نامی رسالے میں شائع ہوتے رہے۔حالی جنھوں نے جدید اردو شاعری کی بنیاد ڈالی، اردو نثر نگاری میں بھی کئی اضافے کئے۔اول تو یہ کہ ہمارے ادب میں سیرت نگاری کا رواج پیدا کیا۔دوسرے تین مشہور سوانح عمریاں لکھیں، حیات سعدی، یادگارغالب اور جاوید نامہ۔
"جاوید نامہ”میں سر سید احمد کی زندگی کے حالات درج ہیں۔سالی نے ایک دوسرا اہم کام یہ کیا کہ انہوں نے ‘مقدمہ شعر و شاعری’ کے اندر اردو میں جدید تنقید نگاری کی بنیاد ڈالی۔حالی سے قبل غالب نے اردو ادب کو خطوط نویسی کے جدید انداز سے روشناس کرایا۔ان کے خطوط کے مجموعے ‘اردوۓ معلی’ اور ‘عودہندی’ کے نام سے مشہور ہیں۔

بیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی دور میں منشی پریم چند نے بےشمار ناول اور افسانے لکھے جن میں عام طور پر دیہاتی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔انگریزوں کے ساتھ ہندوستانیوں کی کشمکش اور غریب کسانوں کی متبدل حالت کو پیش کیا گیا ہے۔

عبدالحلیم شرر اور منشی پریم چند کے بعد سے اردو میں ناول نگاری اور مختصر افسانوں کے لکھنے کا رواج عام ہوگیا۔اسی دور میں آغا خشر کاشمیری نے اسٹیج پر کھیلنے کے لئے نہایت کامیاب اور بے شمار ناول لکھے جن‌ میں۔آنکھ کا نشہ، دل کی پیاس،عظمت کی دیوی وغیرہ خاص طور پر مشہور ہیں۔

غرض کے اردو نثرنگاری کے ہر شعبے پر ہماری نثرنگاری کی توجہ مبذول ہوئی اور دور حاضر کے مشہور افسانہ نگاروں میں راشدالخیری، نیازفتحپوری، کرشن چندر، منٹو، عظیم چغتائی،رجندر سنگھ بیدی وغیرہ کا نام آتا ہے۔تنقیدنگاروں میں آل احمد سرور، احتشام حسین، کلیم الدین احمد، عبادت بریلوی اور اختر اورینوی کا ذکر کرنا کافی ہے۔اسی طرح ڈرامہ نگاری میں کرشن چندر اور اشتیاق حسین قریشی کا نام آتا ہے مگر اس صنف میں ہمارا ادب ابھی بہت زیادہ ترقی نہیں کر سکا۔

غرض کے موجودہ نظم و نثر نگاری کی رفتار کو دیکھ کر اردو زبان کی ترویج و ترقی کی طرف سے کافی امید بندی ہے،پھر بھی یہ کہے بغیر نہیں رہا جاتا۔
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی دل سوزئ پر دانہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اقبال