یگانہ چنگیزی کے حالات زندگی اور شاعرانہ عظمت

مرزا واجد حسین نام،اور تخلص پہلے یاس اور پھر یگانہ اختیار کیا۔مرزا کے جدامجد ایران سے ہندوستان آئے اور مغلیہ سلطنت کے دامن سے بسلسلہ سپہ گری، وابستہ ہوگئے۔پر گنہ حوالی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔مرزا واجد حسین عظیم آباد ہی میں 17 اکتوبر 1884ء میں محلہ مغلپورہ میں پیدا ہوئے۔جب فارغ التحصیل ہوئے تو مولوی سید علی خان بے تاب عظیم آبادی سے اصلاح سخن لینے لگے۔کچھ دنوں بعد انہوں نے اپنے استاد شاد عظیم آبادی کے سپرد کردیا۔اور بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا۔

1902ء میں یگانہ میٹا برج کلکتہ گئے،وہاں سخت بیمار ہو گئے۔علاج کیلئے لکھنؤ آگے، صحت یاب ہوئے اور پھر لکھنؤ ہی کو اپنا وطن بنا لیا۔یگانہ نے یہاں ہی ایک معزز گھرانے میں شادی کر لی۔لکھنؤ میں ان کا قیام ہنگامہ خیز ثابت ہوا جس کا اثر ان کی شاعری پر بھی پڑا۔یگانہ اپنے آپ کو عظیم آبادی کی جگہ لکھنؤی کہنے لگے۔یہاں مشہور شعراء سے ٹکر لینے لگے۔مخالفتیں اتنی بڑھیں کہ یاس، یگانہ چنگیزی بن گئے۔1927ء میں یاس تخلص بالکل ترک کر کے صرف یگانہ استعمال کرنے لگے۔شعرائے لکھنؤ چونکہ غالب کے مقلد تھے اس لئے یگانہ اپنے آپ کو ‘آتش کا مقلد’ کہتے تھے۔یگانہ نے اپنے آپ کو غالب شکن اور غالب کا چچا بھی کہا ہے۔

تلاشِ معاش کے لئے یگانہ کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا،حیدرآباد چلے گئے وہاں سب رجسٹرار ی کے عہدے پر فائز ہوئے۔جب ملازمت سے سبکدوشی حاصل کی تو لکھنؤ واپس آ گئے اور آخر عمر تک یہیں رہے۔2 فروری 1956ء کو انتقال کیا اور لکھنو ہی میں ابدی آرام گاہ بنی۔

شاعرانہ عظمت یا خصوصیات کلام:-

یگانہ کو شعر و شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا۔تعلیم سے فارغ ہوتے ہی پہلے مولوی سید علی خان بےتاب اور بعد میں شاد عظیم آبادی کے شاگرد ہو گے۔یگانہ بڑے قادر الکلام شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں جو چیز سب سے پہلے دل پر اثر کرتی ہے وہ زور کلام ہے۔دوسری چیز جو انکے کلام میں دلکشی پیدا کرتی ہے وہ طنز ہے۔یہ عنصر کہیں کہیں اتنا تیز اور تیکھا ہے کہ زور بیان دوبالا ہو جاتا ہے۔یگانہ کے کلام میں تخیل کی بلندی اور ذہن کی پرواز نمایاں ہے۔ان کے کلام میں زیادہ تر ہمت افزائی اور جوش کی لہریں نظر آتی ہیں۔ان کے کلام میں صفائی اور بے باقی ہے، خیالات میں بلندی مگر کیف و سرمستی کم ہے۔

یگانہ کا انداز ایسا اچھوتا، ایسا تیکھا اور ایسا چونکانے والا تھا کہ سننے والے ایک دم متوجہ ہو جاتے۔ان کے لہجے میں ایک ایسی تمکنت اور ایسا وقار تھا جو آتش کی یاد تو دلاتا تھا مگر تھا آتش سے بڑھ کر۔عہد یگانہ کی شاعری پر رومانی فضا چھائی ہوئی تھی۔یگانہ نے مکمل زندگی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔وہ زندگی پر فاتحانہ نظر ڈالتے ہیں، ان کا نظریہ یہ ہے کہ زندگی لاکھ مصیبتوں سے گھری ہوئی ہے تو کیا ہم اس سے نبرد آزمائی کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

ان کی شاعری سے ان کے شعور زندگی کا پتہ چلتا ہے۔اسی بنا پر انہیں شعور حیات کا شاعر کہا گیا ہے۔یاس و ناامیدی ان کا مذہب نہیں، وہ مردانہ وار نثار ہونا جانتے ہیں۔ان کے اشعار میں شعور کی شگفتگیو دلاویزی کے ساتھ معنوی بلاغت بھی پائی جاتی ہے۔ایسا معلوم ہوتاہے کہ خود کچھ نہیں کہتے بلکہ کوئی غیبی طاقت ہے جو ان سے شعر کہلا رہی ہے۔

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے نہ آیا

سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہ دل
سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سنا نہ گیا

مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

یاس نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کی، شادی کی، داماد بنے، قدیم شاعری کے خلاف فقرے بازی کی حتیٰ کہ غالب شکنی شروع کی۔ظاہر ہے یہ سب باتیں ان کے خلاف ایک محاذ قائم کرنے کے لئے کافی تھیں، چناچہ لکھنؤ میں ان کا جینا دوبھر ہوگیا یہاں تک کہ بڑی ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ماحول اور اس رویے نے ان کی شاعری پر بھی اثر ڈالا اور خود یگانہ، چنگیزی پر آمادہ ہوگئے اور اپنے نام کے ساتھ تو چنگیزی کا اضافہ بھی کرلیا۔
یاس کے کلام میں پیچیدگی اور تہہ داری الفاظ کے لحاظ سے نہیں بلکہ معنویت کے لحاظ سے پائی جاتی ہے۔مثلا وہ فرماتے ہیں۔

ہر شام ہوئی صبح کو ایک یاد فراموش
دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی

سایہ دیوار سے لیٹے ہوئے ہو خاک پر
اور چلو ورنہ وہ کافر بدگماں ہو جائے گا

جدید شعراء میں جن لوگوں نے روایت شکنی کا الزام پایا، ان میں ایک یگانہ بھی ہیں۔اس روایت شکنی سے نئی نسل کو تازگی و توانائی، ذہنی بالیدگی اور شعور کی پختگی حاصل ہو سکتی ہے،اگر ان کے اشعار سے استفادہ کرے۔یگانہ مصیبت اور غم و الم کے پہاڑ کی پروا نہیں کرتے، ان کا خیال ہے

A post shared by Urdu Notes (@urdu_notes) on


اردو شاعری میں یگانہ کو جو مقام ملا وہ اس سے بلند درجہ کے لائق تھے اور ہیں۔جدت پسندی، بلند آہنگی، تیز خیزی جیسی خصوصیات ان کے کلام کے ساتھ ان کی زندگی میں بھی پیوست ہیں۔اردو شعر و شاعری کے میدان میں یگانہ اپنی انفرادیت و خصوصیات کی وجہ سے وہ کل بھی یگانہ تھے اور آج بھی یگانہ ہیں۔آخر میں ان کے کارناموں کا ذکر کرتے ہیں۔یگانہ چنگیزی کے بہت سے مجموعۂ کلام شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں جن میں نشتر یاس، آیات وجدانی،ترانہ، گنجینا، کجکول، چراغ سخن،شہرت کاذبہ اور غالب شکن وغیرہ بہت مشہور ہیں۔

Close