وبا سے بچ کر نجانے کہاں مر جائیں گے
اپنی ہستیوں سے پھر ہم اتر جائیں گے

یہ دنیا ہے صاحب یہاں کے لوگ ہاے توبہ!
وبا کے بعد خدا سے بھی مُکر جائیں گے

سنا ہے کچھ شہر تو ویران ہوگئے ہیں
سنا ہے کچھ تو سارے بِکھر جائیں گے

سنا ہے کہی بستیاں اجاڑ دی ہے اِس نے
سنا ہے کہیں ہستیاں گزر جائیں گے

تمام رستوں پہ چلنا منع کیا گیا ہے
سو اب یہ افواہ ہے،خدا کے گھر جائیں گے

مصیبتوں میں دوستی اور خوشی میں دوریاں
کیا خوب ہیں ہم انسان ہم کِدھر جائیں گے

نجانے کتنی لاشیں بکھری پڑی ہے بیکفن
یہ دیکھ کر ہاں پتا ہے ہم سُدھر جائیں گے

اب تو عرفان ایک ہی در کُھلا ہے اپنے لیے
سو ہر گلی میں اشتہار ہیں ہم اُدھر جائیں گے