رفیق زاہد
رفیق زاہد

نام: رفیق زاہد
تاریخ پیدائش: 25/02/1972
تعلق: گوادر بلوچستان
تین سال 1991 تا 1994 ٹیچنگ کی، ایس ایس ٹی سائنس تھا۔
پیشہ: بینکنگ، سندھ بینک لمیٹڈ گوادر میں بینک منیجر۔
کتابیں پڑھنا اور لکھنا بچپن سے شوق ہیں۔

ہم کل سات بہن بھائی ہیں اور میرانمبر دوسرا ہے۔ میں نے ٹیچنگ کے بعد 1995 میں ایم سی بی بینک بہ حیثت کیشیئر جوائن کیا اور 2013 میں بہ حیثیت برانچ منیجر سندھ بینک لمیٹڈ گوادر برانچ کی ابتدا کی اور اب تک اسی پوزیشن پر کام کررہا ہوں۔ مجھے سیر و سیاحت کا بھی بڑا شوق ہے۔

آغاز کہانی نویسی: 1988 میں بچوں کے رسائل نونہال،ٹوٹ بٹوٹ،بچوں کا رسالہ ،آنکھ مچولی ،ساتھی اور نور وغیرہ سے میں نے لکھنے سے آغاز کیا۔ پھر روزنامہ جنگ ڈائجسٹ میں چھوٹے چھوٹے اردو افسانے دئیے، اسکے بعد بلوچی افسانہ نگاری کا آغاز 1990میں کیا اور پہلے پہل ماہنامہ آساپ ،پھر ماہنامہ بلوچی اور اسکے بعد کئی اور رسائل و جرائد میں افسانے اشاعت پزیر ہوئے اور 2018 میں میرے بلوچی افسانوں کا مجموعہ ،،کسہانی چادر،،مارکیٹ میں آیا اور ذیل کی کہانی میں نے اسی مجموعے سے خود بلوچی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔جو پہلی بار اس فورم میں دے رہا ہوں۔

1988سے بلوچی زبان اور اردو میں کہانیاں اور افسانے لکھ رہا ہوں. لیکن بینک میں نوکری کی وجہ سے ابھی تک صرف اپنی بلوچی افسانوں کی ایک ہی کتاب ”کسہانی چادر“ (کہانیوں کی چادر) اشاعت پزیر کرواسکا ہوں۔ اب انشااللہ اپنے پرانے اور نئے اردو افسانوں کو یکجا کرکے کتابی شکل میں لانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حال ہی میں اپنی کتاب کے دو بلوچی افسانوں کا اردو میں ترجمہ کرکے عالمی افسانہ فورم میں دے چکا ہوں۔

رفیق زاہد
سندھ بینک لمیٹڈ سید ھاشمی ایونیو گوادر
وٹس ایپ: 0324.2363275