Advertisement

سلیم کے پڑوس کی گلی میں ایک کتیا نے چار بچوں کو جنم دیا۔ سردی کے موسم میں وہ اکثر انہیں کچھ کھانے کو دیا کرتا تھا لیکن افسوس ان میں سے ایک ہی زندہ بچا باقی ٹھنڈ سے موت کا شکار ہو گئے۔

چھ سالوں بعد سلیم دوسرے شہر سے تعلیم مکمل کرکے لوٹا تو چیزیں بہت بدل چکی تھیں۔ سڑکوں کی کیاریوں کے ننھے پودے درخت کی شکل اختیار کرنے لگے تھے، عمارتیں اب اور اونچی ہوگئی تھیں، پرانے تعمیرات کی جگہ نئے تعمیرات نے لے لی تھی۔

شام جب وہ گھر سے باہر نکلا اسے پہلے تو ڈر سا لگا کہ یہ کتا پاگل تو نہیں کہیں کاٹ نہ لے۔ کیونکہ وہ حرکتیں بھی کچھ ایسی کر رہا تھا کہ حیرت ہوتی تھی۔ سلیم کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھر گئیں اسے جیسے ہی یاد آیا ، یہ اس کا وہی بے زبان دوست ہے جسے وہ اکثر کھلاتا تھا۔اس نے آخر پہچانا کیسے؟ یہ سوچتے ہوئے اس نے قریب کی دکان سے کئی چیزیں اور بسکٹس بھی اسے کھلا دیں۔اب جو وہ چلنے لگا وہ کتا بھی ساتھ ساتھ چلنے لگا، سلیم نے سمجھاتے ہوئے کہا دوست میں تمہیں گھر نہیں لے جا سکتا بہتر ہے کہ تم یہیں رہو۔ کچھ دور پیچھا کر کے کتا دوسری گلی کی طرف مڑ گیا۔

Advertisement

کچھ مہینوں بعد جب وہ کام سے دیر رات گھر لوٹ رہا تھا۔ دو چوروں نے لوٹ کی غرض سے اس پر حملہ کیا، اس نے خود کو بچانے کی کوشش کی پر ناکام رہا۔ اچانک ایک کتے نے ایک چور کے پیر پر کاٹا اور دوسرے کی طرف جھپٹا۔ چوروں نے بھاگنے میں غنیمت سمجھی۔
سلیم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے اس بے زبان کی دوستی پر فخر اور خوشی محسوس کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ گھر لے گیا۔۔۔۔