غزل

میں کون ہوں اے ہم نفساں! سوختہ جاں ہو
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
لایا ہے میرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتی راز نہاں ہوں
جلوہ ہے مجھی سے لب دریاۓ سخن پر
صد رنگ مری موج ہے،میں طبع رواں باہر ہوں
دیکھا ہے مجھے جس نے، سو دیوانہ ہے میرا
میں باعث آشفتگی طبع جہاں ہوں
تکلیف نہ کر، آہ! مجھے جنبش لب کی
میں سخن آراستہ بہ خوں زیر زباں ہوں
رکھتی ہے مجھےخواہش دل بس کہ پریشان
در پہ نہ ہو ،اس وقت خُدا جانے کہاں ہو
اک وہم نہیں بیش مری ہستئ موہوم
اس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں

تشریح

پہلا شعر

میں کون ہوں اے ہم نفساں! سوختہ جاں ہو
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں

شاعر کہتا ہے کہ اے میرے ہم نفسو، میر ے آشناؤ،میں کون ہوں ؟میں ایک سوختہ جاں ہوں۔گویا جان جلا یعنی دل جلا ہوں اور میں جو شعلے برساتا ہوں یعنی تلخ زبان ہوں تو اس کا سبب یہ ہے کہ میرے دل میں ایک آگ جل رہی ہے۔

دوسرا شعر

لایا ہے میرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتی راز نہاں ہوں

شاعر کہتا ہے کہ مجھے میری خواہش، میرا شوق مجھے پردے سے باہر لے آیا ہے۔ ورنہ میں تو اسی پوشیدہ راز کا خلوتی ہوں یعنی رازدار ہوں۔

تیسرا شعر

جلوہ ہے مجھی سے لب دریاۓ سخن پر
صد رنگ مری موج ہے،میں طبع رواں باہر ہوں

شعر و شاعری کے دریا پر جو رونق ہے، وہ شاعر کہتا ہے کہ میرے ہی دم سے ہے اور میرے کلام کی لہر کے کئی رنگ ہیں۔ یعنی میری طبیعت ایسے رواں ہے کہ میرے کلام میں صدہا رنگ سما گئے ہیں۔

چوتھا شعر

دیکھا ہے مجھے جس نے، سو دیوانہ ہے میرا
میں باعث آشفتگی طبع جہاں ہوں

شاعر کہتا ہے کہ جو کوئی میرا کلام سنتا ہے، جس نے مجھے شعر پڑھتے دیکھ لیا سو میرا دیوانہ ہوگیا ہے۔ اب دنیا میری دیوانی ہے تو گویا میں دنیا کی دیوانگی کا سبب بن گیا ہوں۔

ساتواں شعر

اک وہم نہیں بیش مری ہستئ موہوم
اس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں

غزل کے مقطع میں مؔیر کہتے ہیں کہ میری ہستی ایک وہم سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔گویا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس پر بھی نہ جانے کیوں تمہارے اس نازک دل پر گِراں ہوں،بوجھ ہوں۔

Advertisements