غزل

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گُلاب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
میر! ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

تشریح

پہلا شعر

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

مؔیر زندگی کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس شعر میں کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی بڑی مُختصر ہے۔ایک بُلبُلے کی مانند ہے کہ جو پل میں ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی ساری نمائش اور رنگینی سراب کی مانند ہے یعنی دھوکہ ہے۔


دوسرا شعر

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گُلاب کی سی ہے

شاعر محبوب کی خوبصورتی کا تذکرہ کر رہا ہے ہونٹوں کا نازک ہونا خوب صورتی کی دلیل ہے۔آب شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کے ہونٹ اتنے نرم و نازک ہیں کہ ان کا بیان مشکل ہے۔ انھیں گُلاب کی پنکھڑی کہیں تو بجا ہے۔

تیسرا شعر

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے

شاعر کہتا ہے کہ میری حالت اس قدر بے قرار ہو گئی ہے کہ مایوسیوں اور ناکامیوں کے باوجود میں بار بار محبوب کے در پر جاتا ہوں اور اسی طرح اپنے حواری کا سامان کرتا ہوں۔

چوتھا شعر

میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے

شاعر کہتا ہے کہ محبت میں ہم نے اپنا سب کچھ لٹا دیا۔ہم آوارہ ہوگئے۔ اب محبوب اسی حوالے سے طنز کرتا ہے کہ میری آواز سنتے ہی اس نے فوراً کہا کہ یہ آواز تو اسی خانہ خراب کی لگتی ہے۔

پانچوں شعر

میر! ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

مقطعے میں شاعر کہتا ہے اے میر، محبوب کی ان نیم بازگویا آدھی کُھلی آدھی بند آنکھوں میں وہ کیفیت ہے جیسے پورے مے خانے کی مستی ان میں سما گئی ہے۔

Advertisements