عقیقہ کا طریقہ اور ذبح کی دعا

بچہ پیدا ہونے کے شکر میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اس کو عقیقہ کہتے ہیں۔ عقیقہ ایک مستحب عمل ہے، بچہ پیدا ہونے کے سات دن میں عقیقہ کر دینا بہتر ہے۔ اگر ساتویں دن نہ کر سکے تو زندگی میں جب میسر ہو کریں سنت ادا ہوجائے گی۔ لڑکے کے لیے دو بکرے اور لڑکی کے لیے ایک بکری ذبح کی جائے۔ یعنی لڑکے کے لئے نر جانور اور لڑکی کے لئے مادہ مناسب ہے، اگر اس کے برعکس بھی ہو تو کوئی حرج نہیں بلکہ اگر دو نہ ہو سکے تو صرف ایک بکری میں بھی حرج نہیں۔ اگر گائے بھینس ذبح کریں تو لڑکے کے لیے دو حصہ اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے۔

قربانی میں عقیقہ کی شرکت ہو سکتی ہے۔ عقیقہ کے جانور کے لئے بھی وہی شرطیں ہیں جو قربانی کے جانور کے لئے ہیں۔ عقیقہ کا گوشت فقیروں، عزیزوں اور دوستوں کو کچا تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا بطور ضیافت دعوت کھلائی جائے سب صورتیں جائز ہیں۔ عقیقہ کا گوشت ماں باپ دادا دادی وغیرہ سب کھا سکتے ہیں۔ عقیقہ کے جانور کو ذبح کرتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے:

Advertisement

لڑکے کے لئے:

اَللھُمَّ ھٰذِہ عَقِیقَتۃُ ابن فُلاَنٍ (یہاں بچہ اور اس کے باپ کا نام لیں) دَمُھَا بِدَمِہ وَلَحمُھَا بِلَحمِہ وَعَظمُھَا بِعَظمِہ وَجِلدُھَا بِجِلدِہ وَشَعرُھَا بِشَعرِہ اَللھُمَّ اجعَلھَا فِدَاءً لَّہُ مِن النَار بسم اللہ اللہ اکبر۔ کہہ کر ذبح کریں۔

لڑکی کےلیے:

اَللھُمَّ ھٰذِہ عَقِیقَتۃُ بِنتیْ فُلاَنۃَ (یہاں بچی اور اس کے باپ کا نام لیں) دَمُھَا بِدَمِھا وَلَحمُھَا بِلَحمِھا وَعَظمُھَا بِعَظمِھا وَجِلدُھَا بِجِلدِھا وَشَعرُھَا بِشَعرِھا اَللھُمَّ اجعَلھَا فِدَاءً لِّبِنْتِیْ (بچی اور والد کا نام) مِن النَار بسم اللہ اللہ اکبر۔ کہہ کر ذبح کریں۔

مسئلہ: اگر دعا نہ پڑھی اور دل میں عقیقہ کی نیت ہے، تب بھی بچہ کا عقیقہ ہو جائے گا۔

(یہ تمام تفصیل کتاب ”تحفة المودود فی أحکام المولود“ لابن القیم الجوزیة“
اور ”تربیة الأولاد فی الاسلام“ الجزء الاوّل، مصنفہ الاستاذ الشیخ عبداللہ ناصح علوان طبع ۱۹۸۱ء ص:۹۸، مطبع دار السلام للطابعة والنشر والتوزیع، حلب و بیروت۔ قانون شریعت وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔)
واللہ اعلم بالصواب