ناول ”بستیانتظار حسین کا ایک مشہور ناول ہے جو پہلی مرتبہ 1980ء میں ادارہ ادبیات نو لاہور سے شائع ہوا۔انتظار حسین نے کل چھوٹے بڑے پانچ ناول لکھے ہیں جن میں” چاند گہن، بستی، دن اور داستان، تذکرہ، آگے سمندر ہے“ مشہور ہیں۔ ناول ”بستی“ کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

ذاکر کا دنیا دیکھنے اور ان کو سمجھنے کی عمر میں ہر شے پر سوال اٹھانا غیر معمولی تھا۔ جس انداز سے وہ ہاتھی کو دیکھتا اور بی اماں سے من میں آتے سوال کا جواب پوچھتا گویا دماغ میں گھومتی حیرتوں کو لفظ پہناتا۔ بی اماں جھڑک کر اس کی تصحیح کرتیں تو بات تمام بھگت جی پر دھر دی جاتی۔ ذاکر پھر پینترا بدلتا اور بی اماں سے دریافت کرتا  کیا ہاتھی انڈے سے نکلا ہے۔ اس بات پر بی اماں سٹ پٹا جاتیں۔

اسے بھگت جی کی دانائی پر یقین تھا ، بھگت جی ایک سادھو سے معلوم ہوتے، مہابھارت سناتے اور نون تیل بیچتے۔ بھگت جی خدائی آفت یعنی بونچھال کے آنے کی وجہ ہندومت کے مطابق یوں بتاتے کہ یہ دنیا شیش جی کے پھن پر ٹکی ہے جو کہ ایک کچھوے کی پیٹھ پر جمے ہیں۔ اب جب کچھوا حرکت کرتا ہے تو شیش جی کا توازن بگڑتا ہے جس سے بونچھال آتا ہے۔

مگر اس کے برعکس جب ذاکر بڑے کمرے میں ہونے والی باتوں کو سنتا تو مولانا صاحب حدیث سناتے، زمین کو ایک گائے اپنے سینگ پر ٹکائے ہوئے ہے اور وہ گائے مچھلی کی پشت پر کھڑی ہے۔ اس گائے کی ناک پر ایک مچھر بھی برجمان ہے، گائے کے بے شمار سینگ ہیں۔ زمین 500 برس میں ایک سینگ سے دوسرے سینگ تک سفر مکمل کرتی ہے۔

یہ تمام باتیں ذاکر کے خالی قرطاس پر عجیب عجیب رنگ بھر کر دنیا کی تصویر بنا رہی تھیں۔جوں توں زمین بن گئی مگر اس کے بعد بی بی حوا نے جنم دیا بچوں کو، باپ نے بیاہ دیا ایک بیٹی کو چھوٹے بیٹے کے ساتھ ، بڑے بیٹے نے طیش میں آکر چھوٹے کو پتھر دے مارا اور کوے کی دیکھا دیکھی اسے دفن کر دیا۔ اس نے یہ پہلے خون کی داستان پڑھ کر ابا جان کی کتاب کو واپس اپنی جگہ رکھ دیا۔

ذاکر نے بی اماں سے ہابیل قابیل کی کتھا پر مہر لگوائی۔ اب اس کچے ذہن میں حیرت اور خود بھر گیا۔ ذاکر بڑے کمرے میں گیا ، ابا جان حکیم بندے علی اور مصیب حسین  کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔
"مولانا قیامت کب آئے گی؟”
"جب مچھر مر جائے گا”
"مچھر کب مرے گا اور گائے کب بے خوف ہوگی؟”
"جب سورج مغرب سے نکلے گا۔”
"سورج مغرب سے کب نکلے گا؟”
"جب مرغی بانگ دے گی اور مرغا گونگا ہو جائے گا۔”
"مرغی کب بانگ دے گی اور مرغا کب گونگا ہوگا؟”
"جب کلام کرنے والے چپ ہوجائیں گے اور جوتے کے تسمے باتیں کریں گے”
"کلام کرنے والے کب چپ ہوجائیں گے اور جوتے کے تسمے کب باتیں کریں گے”
"جب حاکم ظالم ہوجائیں گے اور رعایا خاک چاٹے گی۔”

ذاکر بھگت جی اور ابا جان کی تفسیر کی کائنات میں بہت الجھا ہوا تھا۔ حیرتوں کا جہاں تمام ہوا، جب باہر سے گونجتے نعرے اس کی گویائی سے ٹکرائے، دریچے سے ذاکر نے جھانک کر دیکھا۔سامنے جلسہ گاہ بنا  ہوا تھا۔ وہ کافی دیر اپنی پرانی یادیں سوچتا رہا ، وہ اپنے ابتداء پر غوطہ زن تھا مگر اسے ابتداء مل کر نہیں دے رہی تھی۔ اسے بھولا بسرا وقت یاد آیا جب اس نے روپ نگر میں سکوت کا عالم دیکھا تھا مگر پھر بجلی کے کھمبے روپ نگر کی سڑکوں کے گرد لاوارث لاش کی مانند پڑے دیکھائی دینے لگے۔ مگر یہ ایسے ہی پڑے رہے کوئی کام نہ ہوا۔

شام ہوتی لالٹین جلانے والا سیڑھی کی مدد سے لکڑی کے کھمبوں پر لالٹینیں جلاتا۔ پھر گاؤں میں طاعون کی وبا پھیل گئی، انسان ایسے مررہے تھے جیسے سویرا نکلتے وقت پروانے مرتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے روپ نگر سے کوچ کیا تو کچھ نے دنیا سے۔ ابا جان نے اپنے ماموں جان کے روپ نگر سے نکل جانے کے مشورے کو رد کیا اور ایک وظیفہ دیوڑی کے پھاٹک پر چپکا دیا۔ حکیم ، ڈاکٹر جوشی اور حکیم بندے علی کی حکمت سے لوگوں کا اعتبار اٹھ گیا، اب موت ایک اٹل حقیقت بن چکی تھی۔

پھر ایک روز بی اماں کے لمبے سجدے اور دعا کے بعد انھوں نے مولانا سے کچھ مشورہ کیا۔ مجلس کی بشارت ہوئی ہے، مجلس ہوئی تو بیماری ٹل گئی۔ تمام ہجرت کرتے کافلے لوٹنے لگے، مقفل گھر کھلنے لگے اور دوکانوں کے تالے ہٹتے چلے گئے۔ ذاکر نے وسنتی کے قریب جا کر اس کی واپسی کا دریافت کیا اور کھیلنے کے بہانے اسے چھو لیا۔ وسنتی جلی کٹی سنا کر چلی گئی اور ذاکر انگلیوں کی پوروں پر کافی دیر مٹھاس محسوس کرتا رہا۔

روپ نگر میں بندروں کی غنڈہ گردی پھیلی تھی اور ان دنوں بجلی کی بھی آمد ہو گئی تھی۔ ایک بندر نے پرندوں کی دیکھا دیکھی چھلانگ لگائی اور تاروں میں جھول گیا۔ اگلے لمحے وہ زمین پر جا گرا ، یہ منظر تمام بندروں نے دیکھا اور ایک کے بعد دو اور دو کے بعد تین بندر یوں ہی تاروں سے بجلی لگنے کی وجہ سے مر گئے، خوف کے مارے باقی بندر بستی سے کوچ کر گئے۔

ذاکر کے گھر خالو جان کی موت کی تار آئی۔ چند دنوں بعد سامان سمیت خالہ جان اور ان کی دو بیٹیاں طاہرہ باجی اور صابرہ آئیں۔ آج سے پہلے ان کا تذکرہ اس نے صرف خط و کتابت میں سنا تھا۔ انھیں دنوں تحریک زور پکڑ رہی تھی اور نعروں کی گونج مہینوں میں گونجتی تھی۔ ایک روز بی اماں اٹھیں کانپ رہی تھیں، کہا مولا کی سواری آئی اور وہ چل بسیں۔ مولانا صاحب نے بجلی کی مخالفت کی، اسے بدعت کہہ کر مسجد میں نہ لگنے دیا۔ بی اماں (دادی) کے انتقال کے اگلے روز ابا مسجد گئے، بجلی لگ چکی تھی وہ لوٹ آئے اور مسجد دوبارہ نہ گئے۔

بلند شہر (یو پی) تک لاری میں گئے وہاں سے ریل میں ویاس پور گئے جہاں ان کا ددیال تھا۔ ویاس پور میں ذاکر کے تایا  رہتے تھے۔ ذاکر کے تایا انگریزوں کے وفادار تھے۔ انگریزوں کے لیے انھوں نے اپنی ٹانگ قربان کی۔ ان کی موت پر وائس رائے نے کہا میری کمر ٹوٹ گئی۔ ویاس پور میں ذاکر کی دوستی سریندر سے ہوئی جو رم جھم پر فریفتہ تھا۔ ذاکر چھٹیوں میں روپ نگر خالہ کے یہاں جایا کرتا تھا۔ اس کے رفیق حبیب میٹرک کے بعد اور بندو تالوں کا کام سیکھنے علی گڑھ چلے گئے تھے۔ روپ نگر کے دورہ پر کتابوں کی ، کالج کی زندگی کی اور ادبی باتیں وہ طاہرہ باجی سے کرتا اور صابرہ کو ناولوں کے قصے سناتا۔ طاہرہ باجی نے راشد الخیری اور صابرہ نے شرر کے فردوس بریں کی فرمائش کی۔ ذاکر بچپن کے واقعات میں الجھا تھا کہ گولی چلنے کی آواز آئی۔

پاکستان میں ذاکر کی ماں ہمیشہ ڈھاکے کی خبر کی منتظر ہوتیں تاکہ اپنی بہن بتول کی خبر جان سکیں۔ طاہرہ کا شوہر بھگ ٹٹ میں ڈھاکے کی طرف گیا تو خالہ بھی ساتھ ہو لی۔ صابرہ ریڈیو کی نوکری کے سلسلے میں دہلی چلی گئی۔ نظیرا کی دکان ذاکر کے محلے میں تھی جس سے وہ سیگریٹ خریدتا تھا۔ شیراز ہوٹل میں عرفان ، افضال ، سلامت اجمل سب ذاکر سے ملتے تھے اور ویٹر کا نام عبدل ہے۔ عرفان ذاکر کا ہم خیال تھا۔سلامت اور اجمل اپنے باپ کے خلاف ہم خیال تھے، دونوں خود کو حرامی مانتے تھے۔ افضال اور اس کی ڈائری کی فہرست اچھے لوگوں کا نام جمع منفی کرتی رہتی۔ سلامت اور کرامت کے ابو خواجہ صاحب اکثر ذاکر کے ابو مولانا ناصر علی کے پاس بیٹھتے۔ مولانا صاحب جلیاں والا باغ، امرتسر پٹرول پمپ حادثہ ، انگریزوں کی بربریت اور 1857 کی داستان خواجہ صاحب اور ذاکر کو سناتے۔ سلامت کے والد سلامت پر کرامت کو  ترجیح دیتے جو کہ ڈھاکے میں تھا۔

سفید بالوں والے شیراز کے ہوٹل میں وہ ان دوستوں کی گفتگو سنتا رہتا۔ سفید بالوں والا شخص صرف ایک بار ہی بولا : ”گھر سے کالے بال اور خاندان کے ساتھ ہجرت کو نکلا تھا، پاکستان پہنچا تو بال سفید تھے اور میں اکیلا تھا۔“ ذاکر ایک کالج میں تاریخ پڑھاتا تھا۔ ہند و پاک کی تقسیم میں قافلوں کے آنے جانے کا حال ایک جگہ  ذاکر کا خاندان ہجرت کر شام نگر آیا۔ حکیم بندے علی نے اپنے مقبوضہ دو منزلہ مکان میں بہت گھرانوں کو پناہ دی۔ مگر یہ پناہ کاغذات کے بننے تک تھی، پھر سب کو کوتوال کے ذریعے اس نے باہر نکالا۔

ذاکر اور اہل خانہ کا جس گھر میں قیام تھا وہ منشی مصیب حسین نے بھاگ دوڑ کر اپنے نام کروایا ، ذاکر کے اہل خانہ اب کرائے کے مکان میں آگئے۔ شریفن بوا پہنچی ذاکر کی ترقی پر خوش ہوئیں۔ افضال برگد کی خوب تعریف کرتا۔ سلامت نے ہجرت کرنے والے سکھ کے گھر پناہ لے لی۔افضال کا گھر بڑا تھا مگر کھنڈر بن چکا تھا۔ پڑوس میں اجمل کا گھر تھا۔ یہ لوگ امپریل جاتے اور مس جولی کا ڈانس دیکھتے۔ مس جولی اور صندلی بلی امپریل کا مرکزی کردار تھیں۔ امپریل کی میز پر لوگ نئے انتخابات کے بارے میں باتیں کرتے۔ عرفان کو اخبار  سے نوکری مل گئی۔ ذاکر  لندن سے پڑھ کر آنے والی اپنی ہم سبق انیسہ سے موسیقی کانفرس میں ملا۔ ذاکر اس کے قریب جاتا مگر وہ اسے رضیہ کے نام سے چڑانے لگی کہ تمہارا معاملہ اس سے کروا دوں۔

ذاکر نے اپنی شاگرد تسلیم سے اظہارِ محبت کیا تھا جواباً اس نے پڑھنا ہی چھوڑ دیا۔ سلامت اینٹی امریکا تھا اسے اسکالر شپ کی آفر ہوئی جس کو اس نے  رد کر دیا تھا۔ کرامت کی چٹھی سے خواجہ صاحب کو علم ہوا وہ ڈھاکے میں ہے مگر پریشان ہے۔ سلامت نے تقسیم پاکستان کو مشرقی پاکستان کی آزادی قرار دیا۔ نظیرا کی دکان پر جنگ کی پیش گوئی ہوتی رہتی۔ مدتوں بعد دہلی سے ذاکر کو خط آیا۔ سرندر نے احوال لکھے، صابرہ سے ملاقات کی روداد سنائی۔ سرندر کے خط کو پڑھ کر ذاکر نے ماں سے ہندوستان جانے کی اجازت چاہی۔ ماں بولی : ”وہاں کون ہوگا سب تو جا چکے ہیں۔“ ذاکر نے صابرہ کا ذکر کیا ماں کے تیور بدلے اور بولی : ”اس کا نام مت لو وہ خود سر نکلی۔“

ذاکر کے دادا کربلا سے دو کفن لائے تھے ایک میں خود دفن ہوئے دوسرا روپ نگر کی حویلی میں رہ گیا اور اجداد کی نشانیاں صندوقوں میں تھیں، جن کی صرف چابیاں ہی ماں نے سنبھال کر رکھی تھیں۔ ذاکر نے سریندر کے خط اور صابرہ کے متعلق عرفان کو بتایا وہ بولا : میرے دوست وقت بہت گزر چکا ہے۔

افضال کی اچھے لوگوں کی فہرست میں ذاکر اور عرفان ہی باقی رہے۔ اسے لگتا تھا  وہ، عرفان اور ذاکر ہی پاکستان کو بچا سکتے ہیں۔ افضال نے اپنی فہرست میں عرفان کا نام دوبارہ لکھ کر عرفان کو معاف کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کی لڑائی میں ہندوستانی جہاز گھروں کے اوپر سے گزرتے  تو امی نعت، یاعلی اور آیت الکرسی کا ورد کرتیں۔بتیاں بند کرنے کا آدیش ہے اور روز پاکستانی فوج کی چڑھائی کی باتیں سنائی دیتی۔ ذاکر نے ڈائری میں تفصیلات لکھنا شروع کر دی تاکہ یادداشت رہے۔ خواجہ صاحب فتح کی خبریں سناتے اور حقہ پیتے ہوئے سناتے۔

جنگ کے دوران ذاکر باغبان رکشہ لے کر نکلا پھر پیدل ہی غار کی طرف چلا گیا۔ 11 دسمبر کو غار سے نکل کر جھیل کنارے آیا، جھیل کے عین بیچ ایک ہاتھی اور کچھوا لڑ رہے ہیں۔ پھر ایک مرد فقیر نمودار ہوا مرد فقیر بولا : ”تین چیزوں کے ہاتھوں آدمی خوار ہوتا ہے۔ عورت کے ہاتھوں جب وہ وفادار نہ ہو، بھائی کے ہاتھوں جب وہ حق سے زیادہ مانگ لے، علم کے ہاتھوں جب وہ بغیر ریاضت حاصل ہو جائے۔ اور زمین تین چیزوں سے بے آرام ہوجاتی ہے۔ کم ظرف سے جب اسے مرتبہ مل جائے، عالم سے جب وہ زر پرست ہو جائے، حاکم سے جب وہ ظالم ہو جائے۔“ مرد فقیر نے کہانی سنائی کہ ایک نیک دل انسان تھا۔ دنیا سے کوچ کرنے سے قبل اس نے وصیت کی مگر دونوں بیٹوں نے وصیت کو بھلا کر تقسیم ترکہ پر ایک دوسرے سے جھگڑا کیا اور باپ کے دیےعلم کے زور پر ایک دوسرے کو بددعا کی۔ بڑے نے چھوٹے کے لیے بددعا کی تو کچھوا ہو جائے، چھوٹے نے بڑے کے لیے بد دعا کی تو بدمست ہاتھی ہو جائے، دونوں انھیں شکلوں میں آگئے۔

ذاکر ایسے علاقے میں آگیا جہاں آدمی سلامت چلتا ہے بغیر سر کے۔ اسے مرد فقیر اپنے گھر لے گیا اور بتایا ہماری کھوپڑیاں بادشاہ کے دائیں بائیں شانوں پہ بیٹھے سانپوں کی غذا ہیں۔ اگلے روز قرعہ نکلا  مرد فقیر نے ذاکر کو روکا مگر وہ چلا گیا۔ قرعہ دربار کے دو دانش مندوں کے نام کا تھا۔ خلقت رونے لگی، طشت میں مغز سانپوں کو پیش ہوا انھوں نے نہ کھایا۔ بادشاہ نے مقربین سے دریافت کیا کھوپڑیوں میں کیا آمیزیش ہے کہ جسے سانپ تناول نہیں کررہے۔ مقربین نے بتایا منتخب دانش مندوں کی کھوپڑیاں مغز سے خالی ہیں۔

اگلے دن فاختہ نے راجا سے دریافت کیا : ”ہے راجہ!لے گا یا دے گا۔“ فاختہ نے راجہ کو بتایا ۔9 چیزوں کا 9 چیزوں سے پیٹ نہیں بھرتا۔ ”ساگر کا ندیوں کے پانی سے، اگنی کا ایندھن سے، ناری کا بھوک سے، راجا کا راج پاٹ سے، دھنوان کا دھن دولت سے، ودوان کا ودیا سے، مور کھ کا موڑنا سے، اتیا چاری کا اتیا چار سے۔“

وہاں یہ چرچا تھا امریکا کا ساتواں بحری بیڑا پاکستان کی مدد کے لیے چل نکلا ہے۔ رکشہ والے نے ذاکر کو سبز پوش بی بی کی داستان سنائی کہ وہ ایک غیبی گولے کی طرح دشمن پر گرتی معرکہ ختم ہوتے ہی غائب ہوجاتی۔ ذاکر نے ڈائری میں کچھ لکھا۔ ذاکر عالم تصور میں شاہجہانی مسجد ، ہرے بھرے  شاہ کے مزار اور کبھی مقبرہ ہمایوں پر ہوتا۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد خواجہ صاحب بولے : مولانا صاحب! جی چاہتا ہے جی بھر کے رؤوں ، مگر کیا کروں اس شکست پر میں دل توڑ لوں گا تو چھوٹوں کا کیا حال ہوگا۔ سفید بالوں والا شیراز منہ رومال میں دے کر سسکیوں سے رویا۔ سلامت نے ذاکر اور عرفان کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا، ایک شخص آیا اور سلامت سے الجھا دست و گریباں ہوئے تو مینجر نے آکر دونوں کو چلتا کیا۔ ذاکر بولا : کسی نہ کسی کو تو شکست کی ذمہ داری لینی چاہیے، اسی لیے سلامت ٹھیک کہتا ہے، میں خود کو اس شکست کا ذمےدار مانتا ہوں۔

تقسیم ہند کے وقت افضال کی نانی ہند چھوڑنے پر ہرگز تیار نہ تھیں، ان کو یہ بہلاوا دیا کہ باڑھ آرہی ہے باڑھ اترے گی واپس چلے جائیں گے، وہ اب یہی تقاضا کرتیں رہتیں باڑھ چلا گیا ہوگا چلو اب واپس چلتے ہیں۔
افضال عرفان اور ذاکر سے بولا : تم دونوں میرے دست و بازو بن جاؤ تو پاکستان کا نظام میں اپنے ہاتھ میں لے لوں۔ 18 دسمبر کو ڈائری میں ذاکر نے دہلی ، لکھنؤ اور جھانسی کے ارد گرد کی تصوراتی سیر کا حال لکھا۔

امرتسر کے محمد دین کے ایک سیالکوٹی شناسا نے بتایا کہ اس نے کرامت کو بینگ کاک میں دیکھا ہے۔اس سے ایک مہینے پہلے کراچی پہنچنے والے ایک شخص نے بتایا تھا کہ اس نے برما کی سرحد پر کرامت کو دیکھا تھا، کرامت کی اخباریں ملتی رہیں۔ جس کا جہاں منہ ہوا وہیں تقسیم کے وقت بھاگ نکلا۔ اب پاکستان سے ہندوستان خط آنا جانا بند ہو چکا تھا مگر ذاکر کی ماں کے کہنے پر ذاکر نے خط لندن اپنے کسی دوست کو لکھا جو وہاں سے ہندوستان کو پوسٹ کیا گیا۔ ذاکر عالم تصور میں ایک بڑے میاں سے ملا۔ ذاکر تصورات کی دنیا میں ہی بڑے میاں کے گھر پر قیام پذیر تھا اور اس نے خیالات کی دنیا میں ہی مینا کماری کی فلم پاکیزہ دیکھی۔ بڑے میاں کو کوتوالوں کو سراغ مل جانے کی پریشانی تھی اس لیے انہوں نے کہا کہ تم چلے جاؤ۔

قیام بنگلہ دیش کے بعد ڈھاکہ سے زوار کی واپسی ترقی کے ساتھ ہوئی۔ سلامت اور اجمل امریکا چلے گئے جنھیں افضل دو چوہے کے لقب سے یاد کرتا تھا۔ مگر امریکہ ان کو راس آگیا، اجمل اور سلامت امریکا سے واپس آکر انقلابی اور نمازی بن گئے۔

ذاکر کے ابا نے اپنے مرض الموت میں اسے سیدالساجدین اور رابعہ بصریٰ کا واقعہ سنا کر ایک نسخہ دیا کہ یہ درد قولنج کا نسخہ ہے۔ حکیم نابینا کا لکھا ہوا ہے، یہ ایک پڑیا تمہارے سو انجیکشنوں پر بھاری ہے، احتیاط سے رکھ لو۔ بغیچے کے اندر کے خانے سے ایک سجدہ گاہ اور ایک تسبیح نکالی : ذاکر کی ماں! یہ تم رکھ لو، سجدہ گاہ خاکِ شفا کی ہے اور تسبیح خاکِ کربلا کی۔ اس بغچے کے اندر  بہت نیچے کاغذوں کے نیچے سے چابیوں کا ایک گچھا برآمد ہوا، جو روپ نگر کی حویلیوں کا تھا، انھیں دیکھ کر امی کا مرجھایا چہرہ کھل اٹھا۔ بیٹا درود پڑھنے میں مشغول تھا اور باپ کی روح پرواز کر گئی۔

افضال نے اپنی نانی کو کہا کہ ادھر باڑھ اتر گئی ہے لیکن ادھر کا پانی زیادہ ہو گیا ہے، تو نانی کی روح پرواز کر گئی۔ خواجہ صاحب نے مولانا صاحب کے خواب میں آنے کا واقعہ بیان کر کے بیٹے کو قربستان جا کر فاتحہ پڑھنے کی تلقین کی۔ جب ذاکر کا خط سریندر کو ملا  اور اس نے صابرہ کو بتایا تو وہ رو پڑی، اس خط میں اس کی ماں بہن کی کوئی خبر نہ تھی۔ سریندر کے جوابی خط کو پڑھ کر ذاکر اداس ہو گیا اور افضال کے گھر جا کر سوگیا، وہاں اس نے خواب میں جٹا دھاری دکھشک ، سانپ وغیرہ اور ان سے متعلق ہندو اساطیری جیسی چیزیں دیکھیں۔

احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے، ایک تندور والی کے اکلوتے بیٹے کو گولی لگی، جب ذاکر باپ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے  قبرستان  جارہا تھا لوگوں کا ہجوم آیا اور اسے ساتھ بہا لے گیا۔ افضال بھی ذاکر کے پیچھے پیچھے قبرستان آیا، اسے دیکھ کر ذاکر دیکھ کر چونک پڑا تو اس نے بتایا : میری نانی بھی یہیں دفن ہے ، اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آیا ہوں۔ ذاکر پھر عالم تصور میں چلا گیا، سعادت خان کا کٹہرہ ، جرنیل کی بیوی کی حویلی، صاحب رام کا باغ ، شاہجہانی مسجد ان تمام چیزوں کو اور ہرے بھرے شاہ کے مزار پر اسی مجذوب کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ذاکر اور افضال آگے بڑھے تو دیکھا شیراز بند پڑا تھا اس کے دروازوں پر سب شیشے چکنا چور تھے۔
افضال نے جیب سےڈائری نکالی ، ناموں کی فہرست پر نظر ڈالی ، قلم سے سارے ناموں پر سیاہی پھیر دی کہ کوئی آدمی طبیب نہیں ہے۔ ذاکر بولا : یار عرفان ! میں صابرہ کو خط لکھنا چاہتا ہوں، اس سے پہلے کہ لیٹ ہو جاؤں، چابیوں کو زنگ لگ جائے ، گلی کے کواڑ بند ہو جائیں اور اس سے پہلے کہ چاندی کی ڈوری کھولی جائے اور سونے کی کٹوری توڑی جائے، گھڑا چشموں پر پھوڑا جائے اور چندن کا پیڑ اور ساگر میں سانپ۔ ذاکر کی زبان رکی تو افضال نے چھیڑا کہ لگتا ہے بشارت ہو رہی ہے۔

ختم شُد۔