مولوی عبدالحق کی اقوال

  • ہر زمانے میں حالات کے مطابق نیکی کی صورت بدل جاتی ہے۔ وبا کے زمانے میں بیمار کی خدمت اور تیمارداری کرنا سب سے بڑا ثواب کا کام ہے، قحط کے زمانے میں بھوکے کو کھانا کھلانا نماز سے بڑھ کر عبادت ہے اس ابتلاء یعنی آزمائش کے دور میں جبکہ اردو پر ہر طرف سے حملہ ہو رہا ہے اور اس کا وجود خطرے میں ہے اردو کی خدمت کرنا اور اسے فروغ دینا عبادت ہے۔
  • ایک حکیم کا قول ہے کہ غیر اقوام کے لوگوں کو اپنی قوم میں اس طرح جذب کر لینا کہ اپنے اور غیر میں امتیاز نہ رہے بلاشبہ مشکل ہے لیکن غیر زبان کے الفاظ کو اپنی زبان میں اسی طرح جذب کر لینا کہ معلوم نہ ہو کہ یہ غیر ہیں اس سے بھی مشکل کام ہے یہ استعداد اردو میں بدرجہ کمال موجود ہے۔ اس میں سینکڑوں ہزاروں الفاظ غیر زبانوں کے اس طرح مل گئے ہیں کہ بولنے اور پڑھنے والوں کو خبر تک نہیں ہوتی کہ دیسی ہیں یا بدیسی اپنے ہیں یا پرائے۔
  • ماحول کا انسان کے مقصد میں بڑا دخل ہے، ایک نا سازگار ماحول بعض اوقات اعلی سے اعلی دماغی صفات کو ضائع کر دیتا ہے اور اگر کوئی معقول صحبت یا ماحول مل گیا اور صلاحیت بھی ہوئی تو آدمی ترقی کے اوج پر پہنچ جاتا ہے۔
  • زبان، ذات پات، قومیت اور وطنیت سے بری ہے جو اسے بولتا ہے اسی کی زبان ہے۔
  • تنقید صحیح ذوق کے لئے لازم ہے لیکن ایک نقاد کے لئے جو اس کٹھن اور صبر آزما کام میں ہاتھ ڈالتا ہے وسیع معلومات، گہری نظر اور ذوق سلیم کی ضرورت ہے صحیح تنقید مصنف اور پڑھنے والے دونوں کے لیے مفید ہے۔
  • غیر زبان میں تعلیم دینے سے یہی نہیں ہوتا کہ ذہنی ترقی رک جاتی ہے، جدت مفقود، قوت مشاہدہ کند ہو جاتی اور ذوق تحقیق پیدا نہیں ہونے پاتا بلکہ اس کا اخلاق پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔
  • اس وقت سب سے مقدم پاکستان کا استحکام ہے اور استحکام پاکستان کے لیے لازم ہے۔ اتحاد اور اتفاق کا ایک بڑا ذریعہ قومی زبان ہے۔ اردو مثل شیرازے کے ہے جو مملکت کے مختلف عناصر کو منتشر ہونے سے بچائے گا اور ان کو مضبوط رکھے گا اس لئے جہاں تک ہو اس شیرازے کو مضبوط کرنے کی کوشش کیجئے۔
  • اگر آپ دنیا کے ایسے ادیبوں کی فہرست بنائیں جنہیں قبول عام حاصل ہوا تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں یہ عزت انہیں ہی ملی ہے جنہوں نے اپنے خیالات آسان اور شگفتہ زبان میں ادا کیے ہیں۔
  • ادب وہی کارآمد ہو سکتا ہے اور زندہ رہ سکتا ہے جو اپنے اثر سے حرکت پیدا کرنے کی قوت رکھتا ہے اور جس میں زیادہ سے زیادہ اشخاص تک پہنچنے اور ان میں اثر پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔
  • ادب میں نیا پرانا کوئی چیز نہیں، جس کلام میں تازگی، جدت اور خیالات کی گہرائی ہے وہ ہمیشہ نیا ہے گو وہ دو ہزار سال پہلے کا لکھا ہوا کیوں نہ ہو اور جس میں یہ نہیں وہ پرانا ہے گو وہ آج ہی کی تصنیف کیوں نہ ہو۔



Close