Advertisement

غزل اردو زبان کی سب سے مشہور و مقبول صنف سخن ہے۔ اردو کے پہلے شاعر امیر خسرو کے زمانے سے لے کر آج تک اردو غزلیں مسلسل لکھی جاتی رہی ہیں اور مشاعروں کی زینت بنتی رہی ہیں۔ غزل بنیادی طور پر ایک داخلی صنف سخن ہے یعنی اس میں شاعر اپنے دل پر بیتی ہوئی کیفیات و واردات کو بیان کرتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے یعنی اس کے ہر شعر میں ایک مکمل مضمون بیان ہوا ہوتا ہے۔ اگر غزل کے موضوعات کی بات کی جائے تو زیادہ تر اس میں عشق و عاشقی کی باتوں کو موضوع بنایا جاتا ہے لیکن یہ بات ایک مسلم حقیقت ہے کہ آج اردو غزل میں ہر طرح کے موضوعات کو برتا جاتا ہے۔دنیا کا کوئی مضمون اور کوئی موضوع ایسا نہیں جسے غزل نے اپنے وجود میں سمو نہ لیا ہو لیکن حساب لگا کے دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ غزل میں آج بھی عشق کا پلہ ہی بھاری ہے۔

عشقیہ شاعری کی یہ بہترین صنف ہمیں ایرانی شاعری سے ورثے میں ملی ہے۔ ہم نے نہ صرف غزل کی ساخت، ہیئت اور خارجی اسلوب ورثے میں پایا، بلکہ مضامین، موضوعات، تخیلات، مفروضات، تصورات کی ایک سجی سجائی دنیا بھی ترکے میں حاصل کی۔ گویا شعروسخن کی وہ صنف جو ایران سے ہم تک پہنچی، ظاہری اور معنوی دونوں اعتبار سے مکمل تھی۔

ایران سے ہندوستان کی سرزمین پر پہنچنے والی اس صنف سخن نے دکن میں اپنے ارتقاء کے ابتدائی مراحل طے کیے۔ دکن کا پہلا اردو شاعر قلی قطب شاہ ہے جو پہلا صاحب دیوان شاعر بھی ہے۔ اس نے اپنے زمانے کے رواج کے مطابق شاعری کی اور بہت سی مشہور غزلوں سے اردو زبان و ادب کو فروغ بخشا۔ قلی قطب شاہ کی غزلوں کے یہ اشعار ملاحظہ کیجئے؀

Advertisement
پیا باج پیالہ پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا
ترے درسن کی میں ہوں سائیں ماتی
مجھے لادو پیا چھاتی سوں چھاتی

قلی قطب شاہ کے بعد جن دکنی شعرا نے اس صنف میں نام پیدا کیا ان میں خاص طور پر سراج اورنگ آبادی اور ولی دکنی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان کے بعد جیسے اردو غزل گو شعرا کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا اور یکے بعد دیگرے اس لڑی میں بہت سے مشہور شعرا آتے گئے اور اردو غزل کے دامن کو وسیع تر کرتے چلے گئے۔ان مشہور غزل گو شعرا میں میر تقی میر، خواجہ میر درد، مرزا محمد رفیع سودا، مصحفی، آتش، غالب، مومن، داغ، اقبال، حسرت، فانی، یگانہ چنگیزی، اصغر گونڈوی، جگر مراد آبادی، فراق گورکھپوری، فیض احمد فیض اور ناصر کاظمی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان تمام شعرا نے غزل میں ہر طرح کے موضوعات کو اپنے اپنے مخصوص انداز میں پیش کیا۔ غزل میں تصوف، فلسفہ، اخلاقی اور سیاسی مضامین بھی پیش کیے گئے۔خواجہ میر درد غزل میں متصوفانہ مضامین بیان کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ آتش اور غالب کے کلام میں بھی کہیں کہیں صوفیانہ خیالات مل جاتے ہیں لیکن باقاعدہ طور پر درد کو ہی صوفی شاعر کہا جاتا ہے۔ الغرض غزل ہر طرح کے موضوعات کو بیان کرنے کا ہنر اپنے اندر رکھتی ہے۔

اردو شاعری کے زمرے میں غزل کے علاوہ قصیدہ، مرثیہ، نظم اور مثنوی وغیرہ بھی آتے ہیں لیکن جو مقبولیت غزل کو حاصل ہے وہ کسی اور صنف کو نصیب نہ ہو سکی۔ اس میں شک نہیں کہ اردو کے کچھ تنقید نگاروں نے غزل کو اپنی تنقید کا نشانہ بھی بنایا؛ جیسے حالیؔ نے کہا کہ غزل میں سنڈاس کی بو آتی ہے، کلیم الدین احمد نے غزل کو نیم وحشی صنف سخن قرار دیا، عظمت اللہ خان نے کہا کہ غزل کی گردن بے تکلف اڑا دینی چاہیے۔ لیکن ایسی شدید مخالفت کے باوجود بھی غزل کی عظمت و مقبولیت میں کوئی کمی نہ آئی اور غزل نے اپنی عظمت کا ایسا احساس دلایا کہ آج کوئی بھی شخص اس عظیم صنف سخن کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کر سکتا۔ موجودہ دور میں غزل کی اس مقبولیت و عظمت کے کئی راز پوشیدہ ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

• غزل کی مقبولیت کا سب سے بڑا راز اس میں عشقیہ مضامین کا برتنا ہے اور عشق وہ جذبہ ہے جس سے کوئی بھی دل خالی نہیں۔ میر تقی میر کے والد نے میر کو نصیحت کی تھی کہ ”بیٹا عشق کرو، عشق ہی کارخانہ ہستی کا چلانے والا ہے، بغیر عشق کے زندگی وبال ہے، عشق میں جان کی بازی لگا دینا ہی کمال ہے“ عشق دو طرح کا ہوتا ہے۔ عشق مجازی اور عشق حقیقی؛ عشق مجازی میں انسان کا کسی چیز ، شخص یا ملک و قوم پر اپنی جان نچھاور کرنے کا جذبہ شامل ہوتا ہے جبکہ عشق حقیقی وہ ہے جو انسان کو خالق کائنات یعنی خدا سے ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ شاید ہی کوئی دل ایسا ہو جو عشق کے جذبات سے خالی ہو۔ اور عشقیہ جذبات کو بہترین الفاظ میں ایک شعر یا دو مصروں میں بیان کرنے کا ہنر غزل میں موجود ہوتا ہے اور اس طرح غزل ایک ایسی صنف سخن ہے جس میں ہر شخص کو اپنے دلی واردات اور عشقیہ جذبات کے بیان کئے جانے کا احساس ہوتا ہے۔

• غزل کی مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ غزل آسانی سے کہہ لی جاتی ہے۔ جو شخص ذرا سا بھی موزوں طبع ہوگا غزل کہہ لے گا۔

• غزل کی مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ غزل اور شعر و شاعری کو سننے والے اور اس پر سردھننے والے ہر جگہ مل جاتے ہیں۔ محبت کی باتوں سے ہر کوئی آشنا ہوتا ہے اور یہ ایک مشہور زمانہ بات ہے کہ جہاں خواتین ہوں گی وہاں غزلخواں بھی موجود ہوگا۔

• غزل کی مقبولیت کا ایک سبب غزل کا انداز بیان ہے جو دل ہی میں نہیں اترتا بلکہ حافظے پر بھی نقش ہوجاتا ہے۔ بہترین شعر ایک طور پر وہ ہے جو ضرب المثل بن جائے۔ سہل ممتنع بھی اس کا ایک پہلو ہے۔ کسی شاعر کے مقبول ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ اس کے کتنے اشعار زبان زد ہوگئے۔ کسی تجربے یا حقیقت کو ایک یا دو مصروں میں اس طرح سمو دینا کہ زبان، ذوق و ذہن سب کی کسی نہ کسی حد تک سیرابی ہو جائے، کوئی معمولی کام نہیں۔ اردو والے بات بات پر شعر پڑھتے ہیں اسے آپ جو چاہیں کہہ لیں اس کا سبب یہی ہے کہ غزل نے ہر موقع کے لئے برمحل اشعار اس کثرت سے فراہم کر دیے ہیں کہ ان کا بے اختیار زبان پر آتے رہنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔

• غزل کو محبوب مقبول بنانے میں مشاعرے، رزم و بزم کی محفلیں، تحریر و تقریر میں برمحل اشعار کا استعمال اور اس طرح کی دوسری تقریبیں بہت زیادہ کارآمد رہی ہیں۔ غالباً کسی اور معاشرے میں اچھے اشعار کی اتنی زبردست طلب محسوس نہ کی جاتی ہو گی جتنی اردو سماج میں کی جاتی ہے۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ ہماری زبان میں متنوع اور متفرق اشعار کی کثرت ہو۔ یہ مطالبہ صرف غزل پورا کر سکتی تھی اور کرتی رہی ہے۔

• گانے کے لئے اردو غزل سے زیادہ موزوں کوئی اور صنفِ کلام نہ ہے نہ ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ غزل کا ہر شعر نو بہ نو احوال و کوائف کا مکمل اظہار کرتا ہے اور مختصر سی مختصر مدت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر و محظوظ کر سکتا ہے۔ عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ دو تین نظمیں یا افسانے مسلسل پڑھے جائیں تو حاضرین اکتانے لگتے ہیں، دوسری طرف غزلیں طویل سے طویل مدت تک یکساں دلچسپی سے سنیں جاتی ہیں۔ اس سے بھی غزل کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

• غزل کہنے میں سہولت ہے اور اتنی ہی دقت بھی کہ جو بات کہنی ہوتی ہے مختصر سے مختصر الفاظ میں جلد سے جلد کہہ کر ختم کر دی جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ غزل کا ہر شعر بڑے سے بڑے پیمانے پر پلان کرتے ہیں اور چھوٹے سے چھوٹے پیمانے پر مرصع و مکمل کرتے ہیں۔ اندرون بینی بیرون بینی سے اکثر زیادہ آسان ہوتی ہے، اسی لئے اردو میں اچھی طویل نظمیں اور مثنویاں کم ہیں۔ اچھی سے اچھی غزلیں بہت ہیں، اچھے ناول کم اور اچھے مختصر افسانے زیادہ ہیں۔

• غزل میں ہر شعر مختصر ترین اور ساتھ ہی ساتھ مکمل ترین افسانہ ہوتا ہے۔ اب زندگی کی مصروفیات اور مطالبات اتنے وسیع اور اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ طویل رزمیہ یا بزمیہ لکھنا ناممکن سا ہو گیا ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ پہلے زمانے میں ہر چیز آہستہ آہستہ اور ثابت قدمی کے ساتھ حرکت کرتی تھی اس لیے لوگ بڑے اطمینان سے سوچتے تھے اور جو کچھ طے کر لیتے تھے اس پر تمام تر یکسوئی اور عقیدت سے کام کرتے رہتے تھے۔ آج کل کا زمانہ سائینسی اور مشینیںی زمانہ ہے، ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی کام کو جلد سے جلد تکمیل کے مراحل تک لے جایا جائے۔ اس لیے اس مشینی اور جلدبازی کے زمانے میں غزل ہی ایک ایسی صنف ہے جو ہر کسی کی توقع پر پورا اتر سکتی ہے اور اتر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزل کی مقبولیت میں روز بروز ترقی ہوتی جا رہی ہے۔

امدادی کتب

• جدید غزل۔۔۔۔۔ رشید احمد صدیقی
• اردو غزل (مرتبہ)۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کامل قریشی
• اردو شاعری کا تنقیدی مطالعہ۔۔۔۔ ڈاکٹر سنبل نگار
• غزل اور مطالعہ غزل۔۔۔۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی

ساجد منیرریسرچ اسکالر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں و کشمیر