Advertisement

ہمارے ارد گرد نظر آنے والی ساری رونقیں، چہل پہل اور ہمیں محسوس ہونے والی خوبصورتی جذبات ہی کی بدولت ہے۔ جذبات سے مراد ہماری خوشی، غمی، نفرت، عداوت، محبت، ہمدردی وغیرہ ہیں اور اگر یہ جذبات ناپید ہو جائیں تو دنیا میں ایک سناٹا سا چھا جائے۔ کسی ماں کو اپنے بیٹے سے محبت نہ ہو، کسی بھائی کو دوسرے بھائی سے ہمدردی نہ ہو، نہ کسی کو کسی کے مرنے سے کوئی فرق نہ پڑے اور نہ ہی کسی کے دل میں محبت یا نفرت کا کوئی جذبہ ہو۔ بس انہی جذبات ہی کی بدولت انسان سماج میں ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اپنے دل میں رکھتا ہے۔ یہ جذبات جب لفظوں کا لباس پہن لیتے ہیں تو شعر کہلاتے ہیں۔

مولانا صفی لکھنوی کے مطابق شاعری دلی جذبات کا اظہار ہے۔ دل اگر بے کار ہے تو شاعری بھی بیکار ہے۔ علمی دنیا میں ڈارون کو کون نہیں جانتا۔ ابتدائے عمر میں اسے شعر و سخن سے بہت دلچسپی تھی مگر دنیاوی مشاغل نے اسے ایسا جکڑ دیا کہ پھر شاعری کی طرف دھیان نہ دے سکا اور اس کے مطابق آخری عمر میں اس کے جذبات مردہ ہو گئے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ کے ایک مشہور ماہر نفسیات پروفیسر جیمس لکھتے ہیں ”ہر شخص کو کم سے کم دس منٹ روز شعر و شاعری کے لئے وقف کر دینے چاہیے تاکہ اس کے جذبات مردہ نہ ہونے پائیں۔“

فطرت کی فیاضیوں نے شعروشاعری سے مزہ لینے کی صلاحیت ہر دل کو عطا کی ہے مگر بعض لوگ اس عطیہ الہی سے کبھی کام نہیں لیتے اور ان کو اس ناقدری کی سزا یہ ملتی ہے کہ ان سے یہ صلاحیت چھن جاتی ہے اور ان کی روحانی مسرتوں کا ایک بڑا چشمہ خشک ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ شاعری کی لذتوں سے محروم کر دئے جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو شعر و شاعری کو بے فائدہ سمجھنے لگتے ہیں جبکہ شاعری ایک ایسی چیز ہے جو بے حس قوتوں کو چونکاتی ہے، سوتے احساس کو بیدار کرتی ہے، مردہ جذبات کو جلاتی ہے، دلوں کو گرماتی ہے، حوصلوں کو بڑھاتی ہے، مصیبت میں تسکین دیتی ہے، مشکل میں استقلال بخشتی ہے اور گری ہوئی قوموں کو اٹھاتی ہے۔

Advertisement

انسانی اخلاق کی تکمیل کے لیے بھی شاعری کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس حقیقت کا اقرار بھی ضروری ہے کہ جو شاعری بعض مخصوص جذبات کو ابھارے اور باقی کو دبائے اس کا اثر اخلاق پر کچھ اچھا نہیں ہوتا۔ شاعری کو چند جذبات میں محدود کر دینا بھی غلط ہے۔ ہمارے شاعروں کے دیوان زیادہ تر رنج و غم، حسرت و مایوسی کے دفتر ہیں۔ شاعری کے اعتبار سے تو یہ کوئی عیب نہیں مگر ہر شاعر آہ و فغاں، اضطراب و بے قراری ہی کو موضوع شاعری سمجھ لے تو ضرور قوم کا دل افسردہ اور طبیعت مردہ ہوکر رہ جائے گی۔ اس لیے اب ضرورت ہے ایسے شاعروں کی جو خود ہنس کر دوسروں کو ہنسائیں، جو دلیری اور جانبازی کے جذبات کو بڑھائیں، جو ہمدردی اور رواداری کے خیالات کو ابھاریں اور ملک میں حب الوطنی اور قوم پرستی کی روح پھونکیں۔

اب اگر شعر کے معنی و مفہوم کی بات کی جائے تو شعر کے معنی جاننا کے ہیں یعنی کسی چیز کی حقیقت سے آگاہ ہونا یا اس کا شعور و ادراک رکھنا کے ہیں۔ علم عروض کی اصطلاح میں کلام موضوع کو شعر کہتے ہیں اور منطق کی اصطلاح میں شعر اس کلام کا نام ہے جو انبساط یا انقباض نفس کا باعث ہو یا یوں کہیے کہ وہ کلام جس میں اثر ہو یعنی جس کی غرض اپنے دل کی کوئی کیفیت یا حقیقت جیسے خوشی، غمی، جوش، غصہ، خوف، ڈر وغیرہ دکھانا ہو۔ شعر میں قافیہ و ردیف اور بحر کا ہونا لازم ہوتا ہے۔ ہر شعر دو مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

ان تعریفوں سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی کلام موزوں ہو مگر بے اثر ہو تو علم عروض کے اعتبار سے وہ شعر ہوگا مگر منطق کی رو سے وہ شعر نہیں کہلائے گا۔ اسی طرح اس کے برعکس اگر کسی کلام میں اثر ہو مگر وہ موزوں نہ ہو تو منطق کی رو سے وہ شعر ہوگا مگر عروض اسے شعر نہ سمجھے گا۔ اس لئے کامل شعر کی تعریف یہ ہوگی کہ موضوع اور بااثر کلام کو شعر کہتے ہیں۔

شعر کی منطقی اور عروضی تعریفوں کا اندازہ خود بتاتا ہے کہ منطق نے نفسِ شعر سے بحث کی ہے اور عروض نے صورتِ شعر سے۔ اس طرح موزوں اور بے اثر کلام کے مقابلے میں ناموزوں اور بااثر کلام کو شعر کہنا زیادہ صحیح ہے، مگر کامل شعر جیسا کہ اوپر کہا گیا، وہی ہے جس میں موضوعیت بھی ہو اور اثر بھی ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موزونیت سے کیا مراد ہے اور اثر کا انحصار کن چیزوں پر ہوتا ہے۔

کلام کے موزوں ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ایسے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے جن کو ادا کرتے وقت آواز میں ایک خوبصورت تسلسل یا ترنم پیدا ہو جائے۔ عروض کی زبان میں یوں کہنا چاہیے کہ موزوں کلام وہ ہے جس کے حرفوں کی حرکتوں اور سکونوں کی ترتیب میں ایسا نظام ہو اور ان حرکتوں اور سکونوں کی تعداد اور مقدار میں ایسا تناسب ہو کہ اس نظام اور تناسب کے ادراک سے نفس کو ایک خاص طرح کی لذت حاصل ہو۔

لفظوں کا وہ مجموعہ جس میں موزونیت کی صفت پائی جائے، مصرع کہلاتا ہے۔ اور مصرعوں کا وہ مجموعہ جس میں فکری تسلسل یا معنوی ربط پایا جائے نظم کہلاتا ہے۔ مصرعے کی موزونیت یہ ہے کہ وہ کسی عروضی وزن کے مطابق ہو اور نظم کی موزونیت یہ ہے کہ اس مصرعے میں باہم تناسب اور توازن ہو۔ اس کے لئے مصرعوں کو اس طرح ترتیب دینا چاہیے کہ کلام کی ایک ہئیت معین ہو جائے۔

شاعری جذبات کی ترجمانی ہیں اور انسان کے گہرے جذبات فطرتاً موزونیت اور موسیقیت کے ساتھ ظاہر ہونا چاہتے ہیں۔ اس نکتے کو سمجھنا ہو تو کسی بیٹے کی موت پر ماں کے بین کو سنو، کسی سحر بیان مقرر کی پرجوش تقریر پر غور کرو یا نثر کی وہ عبارتیں پڑھو جن میں جذبات کا زور و شور دکھایا گیا ہو۔ لفظوں کو نظم کی صورت میں ترتیب دینا کلام میں اثر یعنی جذبات کو متحرک کرنے کی قوت پیدا کردیتا ہے۔ مثلا اگر کہیں کہ ” دنیا کے واقعات دنیا کے ساتھ ساتھ ہیں، جو آج ہو رہا ہے یہی بارہا ہو چکا ہے“ تو اس کلام سے دل ذرا بھی متاثر نہیں ہوتا لیکن اگر اسی کلام کو نظم کی صورت میں اس طرح کہیں کہ:

” دنیا کے ساتھ ساتھ ہیں دنیا کے واقعات جو آج ہو رہا ہے یہی بارہا ہوا “
تو دل پر ایک خاص طرح کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ موزونیت سے شعر کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔ نظم کی دلنشینی یوں بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ نثر سے جلدی یاد ہو جاتی ہے اور بہت دیر تک یاد بھی رہتی ہے۔

ان باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موزونیت کو ہمارے دل کے ساتھ کوئی خاص لگاؤ ہے اور اس تمام بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شعر کے لیے موزونیت نہ کوئی رسمی چیز ہے نہ اتفاقی بلکہ شاعری کی حقیقت اور مقصدیت دونوں کا مقتضا یہی ہے کہ شعر نظم کے لباس میں ظاہر ہو۔ اب یہ دیکھنا چاہیے کہ کلام میں اثر پیدا کرنے کے لیے موزونیت کے علاوہ کن کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کلام دو عناصر سے مرکب ہوتا ہے، ایک خیال اور دوسرے الفاظ۔ لہذا کلام کے بااثر ہونے کے لئے کچھ خصوصیات کا خیال میں ہونا ضروری ہے اور کچھ الفاظ اور ان کی بندش یعنی طرز ادا کا جانا ضروری ہے۔ ان خصوصیات کو شعر کی معنوی اور لفظی خوبیاں کہتے ہیں جن کو علم بدیع کے تحت پڑھا جاتا ہے۔

اب اگر مشرق و مغرب کے ناقدین کے حوالے سے شعر کی تعریف سے متعلق بات کی جائے تو مشرق و مغرب کے نقادوں اور ادیبوں نے شعر کی تعریف اپنے اپنے خیالوں اور اپنے قیاس آرائیوں کے مطابق کی ہے۔ کیونکہ ہر لکھنے والے کو کسی خاص نوع کی شاعری سے وابستگی ہوتی ہے اور ہر انسان کا کسی چیز کو دیکھنے اور پرکھنے کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔ چند مغربی نقادوں اور ادیبوں کے مطابق شعر کی تعریفیں مندرجہ ذیل ہیں۔

  • (1) ڈاکٹر جانسن کے مطابق ”شعر انشا مقفٰی ہے، یہ ایک ایسا فن ہے جو تعقل اور تخیل کی مدد سے انبساط کا پیوند صداقت کے ساتھ لگاتا ہے۔“
  • (2) کالبرج کے مطابق ”شعر انشا کی وہ نوع ہے جو سائنس کی مد مقابل ہے، اس کا راست مقصد انبساط ہے نہ کہ صداقت۔“
  • (3) مکالے کے مطابق ” شعر الفاظ کا ایسا استعمال ہے کہ اس سے تخیل دھوکہ کھا جائے۔ مصور رنگ کی مدد سے جو کام کرتا ہے اس کو الفاظ کے ذریعے سرانجام کرنے کی صنعت کا نام شاعری ہے۔“
  • (4) شیلے کے مطابق ”شعر تخیل کی زبان ہے۔“
  • (5) میتھیو آرنلڈ کے مطابق ”شاعری تنقید حیات ہے ان اصولوں کے تحت جو شاعرانہ صداقت اور شاعرانہ حسن کے مقرر کردہ ہیں۔“
  • (6) کارائل کے مطابق ”شعر مترنم خیال ہے۔“

ان مغربی نقادوں کے ساتھ ساتھ چند مشرقی ارباب تنقید کے خیالات بھی قابل مطالعہ ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مشرق میں مغرب کی بنسبت شعری تنقید کو بہت کم ارتقاء نصیب ہوا تاہم منتخب اقوال سے مشرقی طرزِ تفکر کا پتہ چل سکتا ہے۔

عربی زبان کے عالموں نے شعر کی تعریف کم و پیش ایک سی کی ہے وہ یہ کہ شعر ایسا کلام ہے جو موزوں اور مقفٰی ہو اور بغیر کسی ارادے کے لکھا جائے۔

  • (1) ابن سینا کے مطابق ” شعر منطق کی وہ قسم ہے جس میں تصدق کا قائم مقام تخیل ہوتا ہے اور یہ نفس انسانی پر انبساط یا انقباض کا اثر ڈالتا ہے۔“
  • (2) قاضی عبد العزیز جُرجانی کے مطابق ”شعر ایسا فن ہے جس میں طبعیت (جزبات) ، روایت (نقالی) اور زکاوت(تخیل) کو دخل ہوتا ہے۔“
  • (3) محمد بن سلام الجمحی عربی کا پہلا نقاد ہے۔ وہ اپنی کتاب ”طبقات الشعراء“ میں شاعری کو صنعت گری قرار دیتا ہے۔
  • (4) ابن قتیبہ اپنی تصنیف ” الشعر والشعراء “ میں شعر کے متعلق بحث کرتے ہیں۔ وہ اچھے اور برے کے اعتبار سے شاعری کو چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ان کے نزدیک ”عمدہ شعر وہ ہے جس میں لفظ اور معنی دونوں اعلیٰ درجے کی ہوں، دوسرے نمبر پر وہ شعر آتے ہیں جس میں لفظ اچھے اور معنی بے مصرف ہوں یا معنی عمدہ اور لفظ ناقص ہوں۔ سب سے پست درجے کا شعر وہ ہے جس میں نہ لفظ اچھے ہوں اور نہ معانی۔“
  • (5) قدامہ ابن جعفر اپنی تصنیف ”نقد الشعر“ میں شاعری سے متعلق بحث میں کہتے ہیں کہ بہترین شعر وہ ہے جو سب سے زیادہ جھوٹا ہو۔ وہ جھوٹ کو شاعری کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
  • (6) عبدالقاہر جُرجانی کے مطابق ” حسین ترین شعر جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے اور اخلاقی اعتبار سے اچھا شعر سچائی پر۔“ وہ شاعری میں محض سچائی کو بانجھ حسینہ سے تشبیہ دیتے ہیں۔

فارسی میں شعر کی تعریف سب سے زیادہ علمی انداز میں نظامی عروضی سمرقندی نے کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں شاعری ایک ایسی صنعت ہے جس کی بدولت موہومات کی ترتیب سے چھوٹی چیز بڑی اور بڑی چیز کو چھوٹا کر کے دکھایا جاتا ہے اور اچھی چیز کو بدنما اور بری چیز کو خوشنما ثابت کیا جاتا ہے تاکہ انسان کے جذبات مشتعل ہوں اور طبعیت پر انبساط یا انقباض کی کیفیت طاری ہو۔

  • رشیدالدین وطواط شاعری میں صنعتوں کے استعمال پر بہت زور دیتے ہیں۔
  • شمس الدین محمد بن قیس کہتے ہیں کہ شعر کو اتنا سہل ہونا چاہیے کہ جب پڑھا یا سنا جائے تو آسانی سے سمجھ میں آجائے۔

شعر کی یہ چند تعریفیں ان انشا پردازوں کی تحریروں سے ماخوز ہیں جن کا پایہ تنقید ادب میں مستند مانا جاتا ہے۔ شعر کی حد بندی کا مسئلہ نازک سے نازک تعریف کے بعد بھی ترمیم اور تردید کے لیے ویسا ہی کھلا ہے جیسا پہلے تھا گویا کسی نے یہ شعر کے متعلق ہی کہا تھا کہ ’ نہ پوچھو تو میں سب کچھ جانتا ہوں اور اگر پوچھو تو میں کچھ بھی نہیں جانتا‘ اس کا صریح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شعر کے تاثرات ہر شخص کے دل پر نئے نقوش ثبت کرتے ہیں۔ ان تمام امور کے باوجود اوپر لکھی ہوئی تعریفیں شعر کی حقیقت کو سمجھنے میں ایک حد تک ضرور مدد دیتی ہیں۔ چونکہ ہر ادیب و شاعر شعر کی تعریف اپنے خیال کے مطابق کرتا ہے کوئی بھی تعریف بے محدود ہے کیونکہ اس کے لکھنے والے کو کسی خاص نوع کی شاعری سے وابستگی تھی۔ بعض تعریفیں بہت وسیع ہیں اور ان سے صرف اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ شعر کا اطلاق عام طور پر کس قسم کی تحریروں پر ہو سکتا ہے۔

ساجد منیرریسرچ سکالر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں و کشمیر