Advertisement
  • "بانگِ درا” کا مطلب ہے گھنٹى کى آواز۔ اس مجموعے کى شاعرى گویا سوئى ہوئى قوم کو جگانے کے لیے گھنٹى کى آواز کا کام دیتى ہے۔
  • "بالِ جبرئیل” کا مطلب جبرئیل کے پر۔ اس مجموعے کی شاعری انسان کو آسمانوں کى بلندیوں اڑان سکھاتى ہے جس طرح جبرئیل اپنے پروں کے ذریعے بلندیوں میں اڑتا ہے۔
  • "ضربِ کلیم” کا مطلب ہے موسىٰ کى ضرب۔ اس مجموعے کی شاعرى ایک ضرب کا کام دیتى ہے بالخصوص اس مجموعے کی شاعری مغربى تہذیب کے لیے واقعى موسىٰ کى ضرب ہے۔
  • "ارمغانِ حجاز” کا مطلب مدینہ کا تحفہ۔ یہ شاعرى واقعى مدینہ سے لایا ہوا ایک تحفہ ہے۔ اس مجموعے کی شاعری میں حضور اکرم صلی علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ عشق کا اظہار دیکھنے کو ملتا ہے۔