Advertisement

"قومی” یوم آزادی صحافت

( مورخہ 13 مئی 2022ء) 13 مئی 1978ء کو پاکستان کی صحافتی تاریخ کا سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ ملک بھر کے صحافی اس دن کو یوم آزادئ صحافت کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن سرسری سماعت کی فوجی عدالت کی طرف سے چار صحافیوں مسعود اللہ خان (پاکستان ٹائمز)، اقبال احمد جعفری (سن)، خاور نعیم ہاشمی (مساوات) اور ناصر زیدی (نوائے وقت) کو قید اور جرمانے کے علاوہ کوڑوں کی سزا سنائی گئی، ان چار صحافیوں کے ساتھ سات دیگر صحافیوں محمد الیاس (پاکستان ٹائمز)، عبدالحمید چھاپرا (جنگ)، فتح محمد (ڈان)، سید محمد صوفی (مساوات)، خواجہ نثار احمد (جنگ)، رانا منیر اقبال (مساوات) اور محمد اشرف علی (صداقت) کو تین سے نو ماہ قید اور ایک ہزار سے پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔

یہ سزائیں اس ملک گیر احتجاج کا ردعمل تھا جو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور ایپنک نے پریس اور اخبار نویسوں پر بڑھتے ہوئے دبائو کے خلاف شروع کیا تھا، اس دبائو کے تحت گیارہ اخبار پابندی کی زد میں آئے تھے اور تیرہ اخبارات پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جب اخبارات پر سے پابندی ہٹانے، اسیر صحافیوں کو رہا کرنے اور جابرانہ پریس قوانین کی منسوخی کے سلسلہ میں مذاکرات اور قائل کرنے کے دوسرے تمام طریقے بے اثر ثابت ہوئے تو صحافیوں اور اخبار نویسوں نے تحریک شروع کی، وہ ملک کے مختلف حصوں سے آ آ کر لاہور میں جمع ہونے لگے اور چار چار اور پانچ پانچ کی ٹولیوں میں "مساوات” کے دفتر کے باہر جس کی اشاعت پر پابندی عائد تھی، اکٹھا ہونے لگے تا کہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر سکیں مگر انہیں پولیس نے مستعدی سے کام لے کر گرفتار کر لیا۔

پہلے پہل صحافیوں کو گرفتار کرکے جلدی چھوڑ دیا جاتا اور انہیں اپنے اپنے شہر جانے والے جہازوں میں زبردستی سوار کرا دیا جاتا مگر جب گرفتار ہونے والوں کی جگہ لینے کے لئے نئے لوگ آتے گئے اور اس سلسلے کا کوئی اختتام نظر نہ آیا تو حکام کا رویہ سخت ہو گیا۔ گرفتار شدگان کو سرسری سماعت کی فوجی عدالتوں میں پیش کیا گیا اور قید با مشقت اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔ جب یہ سزائیں بھی اخبار نویسوں کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ نہ کرسکیں تو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے چار صحافیوں کو کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا اور اس سزا پر حکم جاری ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر عمل درآمد کر دیا گیا۔

Advertisement

مسعود اللہ خان کو آخری لمحات میں کوڑوں کی سزا سے مستثنیٰ کیا گیا کونکہ ڈاکٹر نے یہ معلوم ہونے کے بعد کہ وہ معذور ہیں، حکام کے اصرار کے باوجود احکامات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مگر خود حکومت کی جانب سے چاروں صحافیوں کو کوڑے مارے جانے کا اعلان کیا گیا جس کا مقصد احتجاج میں شامل ہونے والے صحافیوں کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ حکومت کے اس اقدام نے پورے ملک کی صحافی برادری کو ہلا کر رکھ دیا اور ملک بھر کے بہت سے سینئر صحافیوں نے گرفتاری پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ دو ماہ سے کم عرصہ میں ڈیڑھ سو سے زیادہ اخبار نویس گرفتار ہوگئے۔ تاہم اس اثنا میں حکومت نے صحافیوں اور اخباری ملازمین کے ایک حصے کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئی۔ جن سے مذاکرات کے نتیجے میں صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔