Advertisement
  • حجّام کی دوکان پر ایک سلوگن پڑھا "ہم دِل کا بوجھ تو نہیں لیکن سر کا بوجھ ضرور ہلکا کر سکتے ہیں۔”
  • لائٹ کی دوکان والے نے بورڈ کے نیچے لکھوایا "آپکے دِماغ کی بتی بھلے ہی جلے یا نہ جلے، مگر ہمارا بلب ضرور جلے گا”
  • چائے والے نے اپنے کاؤنٹر پر لکھوایا "میں بھلے ہی عام ہوں مگر چائے اسپیشل بناتا ہوں”۔
  • ایک ریسٹورینٹ نے سب سے الگ فقرہ لکھوایا "یہاں گھر جیسا کھانا نہیں ملتا، آپ اطمینان سے تشریف لائیں۔”
  • الیکٹرونک دوکان پر سلوگن پڑھا تو میں دم بہ خود رہ گیا "اگر آپ کا کوئی فین نہیں ہے تو یہاں سے لے جائیں۔”
  • گول گپے کے ٹھیلے پر ایک سلوگن لکھا تھا "گول گپے کھانے کے لئے دِل بڑا ہو نہ ہو، منہ بڑا رکھیں، پورا کھولیں۔”
  • پھل والے کے یہاں تو غضب کا فقرہ لکھا دیکھا "آپ تو بس صبر کریں، پھل ہم دے دیں گے۔”
  • گھڑی کی دوکان پر بھی ایک زبردست فقرہ دیکھا "بھاگتے ہوئے وقت کو اپنے بس میں رکھیں، چاہے دیوار پر ٹانگیں، یا ہاتھ پر باندھیں۔”
  • "ایک نجومی نے اپنے بورڈ پر سلوگن کُچھ یوں لکھوایا "آئیے… صرف 100 روپیہ میں اپنی زندگی کے آنے والے ایپیسوڈ دیکھئے”۔
  • بالوں کی ایک کمپنی نے تو اپنے ہر پروڈکٹ پر لکھ دیا ہم بھی بال بال بچاتے ہیں۔
  • اور ایک دندان ساز پر سلوگن پڑھا تو میں دم بہ خود رہ گیا”دانت کوئی بھی توڑے لگا ہم دیں گے“۔
  • چٹائی بیچنے والے نے کہا ”900 روپے میں خریدیں ساری عمر بیٹھ کر کھائیں“
  • ایک دوکان میں لکھا دیکھا ”دوکان کے اوقات کار: صبح 9 سے شام 6 تک، ہم اپنی اوقات میں رہتے ہیں“۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement