Advertisement
تحریر(محمّد ساجد شہاب مبارک پور راولکی مدرس دار العلوم محمدیہ میل کھیڑلا بھرت پور راجستھان 321204)
اخلاق کی خوبیوں میں مشہور ہے یہ
اسلاف کے اوصاف سے معمور ہے یہ
ہر ذرہ ہے جِس کا ایک بابِ تاریخ
مشہورِ جہاں وہ شہر جے پور ہے یہ
(منشی گوپی ناتھ)

محترم قارئین کرام! صنعت و حرفت،سیر و سیاحت،علم و ادب کے معروف،تاریخی *شہر جے پور* میں،آپ کا استقبال اور خیر مقدم ہے۔
یہ شہر مغل راجپوت فنِ تعمیر کا نمونہ، ہندوستانی ریاست راجستھان کا صدر مقام اور دارالحکومت ہے۔

بانئی شہر

راجپوتوں کی کچواہا برادری سے تعلق رکھنے والے *راجہ سوائی جے سنگھ ثانی* کو اِس شہر کا بانی کہا جاتا ہے اور انہیں کے نام پر شہر كا نام جے پور قرار پایا۔ راجہ سوائی جے سنگھ ثانی 1699 عیسوی میں شہنشاہِ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں،ریاست آمیر کےمسندنشین ہوئے،اوردربارِشاہی سے سِوائی (معاصرین میں ممتاز) کا خطاب ملا جس کو اُس کے جانشیں آج تک فخریہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایک پڑھے لکھے انساں تھے،فلکیات،ریاضی اور ما بعد الطبییات سے گہری دلچسپی تھی،علمِ نجوم میں اُنکو اختصاص حاصل تھا۔ حرکاتِ اجرامِ فلکی کا *زیچ محمّد شاہی* کے نام سے ایک ایسا جامع نقشہ تیّار کیا کہ آج تک نجومی اُسی سے حسابات لگاتے ہیں۔ اُس کی لیاقت و قابلیت کی شہرت ہندوستان سے گزر کر،ایران تک پہنچی،چنانچہ مرزا حبیب قا آنی تہران میں بیٹھا ہوا کہتا ہے۔

تقویمِ مہ روئی و آویختہ مویت
چو خطِ جداول بہ رصد خانہ جے سنگ

(آپ چاند سا چہرہ والے کلینڈر ہیں اور آپ کے لٹکتے گیسو
جے سنگھ کے رصد خانہ کی نہروں کی لکیر کی طرح)

Advertisement

سن تاسیس ( 18 نومبر  1727)

راجہ جے سنگھ ثانی کا اصل دار الخلافہ آمير نامی ایک شہر تھا مگر کثرتِ آبادی،قلت آب اور دیگر وجوہات سے انہوں نے وہاں سے نقل مکانی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ایک نیا شہر آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔
شہر کی بنیاد رکھنے سے پہلے راجہ جی نے ماہرینِ فن تعمیرات سے مشاورت کے ساتھ ساتھ،اِس فن پر دستیاب کُتب سے بھی استفاد کیا،بلآخر مشیرِ با تدبیر،فن تعمیر کے ماہر،ایک برہمن بنگالی معمار *ودیا دھر چکرورتی* کو یہ ذمہ داری سونپی گئی جس نے ہندو فن تعمیر *واستو شاسترا* (رہائش) کے اُصولوں کے تحت اِس کا نقشہ تیار کیا اور 18 نومبر  1727 عیسوی کو شہر جے پور کا قیام عمل میں آیا۔

راجہ جے سنگھ جی کو مرہٹوں کے ساتھ ہونے والی جنگوں کا بہ خوبی اندازہ اور تجربہ تھا اِس لئے دفاعی اعتبار سے بھی وہ اِس شہر کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے، چنانچہ وِدیا دھر معمار نے ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا کام شروع کیا اور شہر کو نو حصوں میں تقسیم کیا؛ دو میں سرکاری عمارتیں و محلات اور باقی سات عوام الناس کی رہائش کے لئے مخصوص کیے گئے۔ نیز ایک مضبوط فصیل اور اس میں سات دروازے رکھے، تمام عمارات کے بیچوں بیچ یعنی وسط شہر میں شاہی محل تعمیر کیا۔ اور  جے سنگھ کے لیے ایک رصد گاہ بھی تعمیر کی۔ شہر کا تیّار کردہ یہ بنیادی ڈھانچہ تقریبا چار سال میں مکمل ہو ا۔ جدید شہری منصوبہ سازوں کے ذریعہ جے پور کا شمار انتہائی منصوبہ بند اور منظّم شہروں میں ہوتا ہے،اوراِس کے معمار ودیا دھر بنگالی کا نام معماروں میں بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔

شہر کی آباد کاری

راجہ جے سنگھ ثانی کی علوم نوازی اور فن پروری نے بہت سے لائق و ہوشیار لوگوں کو بہت جلد اِس کے گرد جمع کردیا تھا، انیسویں صدی میں ساتویں حکمران *راجہ سوائی رام سنگھ* کو،ان کا سچا جانشین قرار دیا جاتا ہے اِس لئے کہ وہ بھی ایسا ہی قدردان علم و ہنر تھا جیسا کہ راجہ جے سنگھ ثانی۔

راجہ رام سنگھ کی علم دوستی کا ہی نتیجہ تھا کہ 1857 کی ناکام بغاوت کے بعد،مُلک کے پرآشوب حالات میں بہت سے اہلِ کمال دلّی سے جان بچاکر جے پور منتقل ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ اُس وقت جب اِس شہر نے پھیلنا شروع کیا تو اِس کی آبادی تقریباً ایک لاکھ اسّی ہزار تھی جو بڑھ کر 2011 کے اعدادوشمار کے مطابق اب 30.5 کے قریب لاکھ ہو گئی ہے۔

اِن وجوہات کے علاوہ اہلِ علم و دیگر حضرات کے یہاں جمع ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ جو بھی فن کا کامل،یہاں آیا قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور کوئی بھی رزقِ مقسوم سے محروم نہ رہا،اگر چہ ایک دل جلا شاعر کہتا ہے:

بايدت چار چیز در جے پور
تا شود روزگار خوش اُسلوب
عمر نوح و خزانہ قارون
صبر ایّوب و گریہ یعقوب

مگر یہ شرطیں خوش اُسلوب روزگار کے لئے معلوم ہوتی ہیں،ورنہ آنے والوں میں زیادہ تر ایسے ہیں جو یہیں کے ہوکے رہ گئے (تذکرہ شعرائے جے پور صفحہ 5)
دھات،ماربل،ٹیکسٹائل پرنٹنگ،دستکاری،جواہرات اور زیورات کی درآمد و برآمد شہر جے پور کے ذرائع روزگار میں قابلِ تذکرہ ہیں۔

مرکزِ سیر و سیاحت

شہر جے پور کی ساخت اور محل وقوع،سیاحوں کے لئے بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ یہ شہر تین جوانب سے اراولی پہاڑوں کے سلسلے سے گھرا ہوا ہے،اِس کی پہچان،یہاں کے محلوں اور قدیم عمارتوں میں لگے گُلابی دھولپوری پتھروں سے ہے جو یہاں کے فن تعمیر کی خاص بات ہے۔
یہ شہر ایک سنہری مثلث کا بھی حصہ ہے جو ہندوستان کا سیاحتی سرکٹ ہے؛دہلی،آگرہ،جے پور اِسی سنہری مثلث میں آتے ہیں،ہندوستان کے نقشے میں یہ تینوں شہر تِکون کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں،اِس وجہ سے اِنکو سنہری مثلث کہتے ہیں۔

وفاقی داالحکومت دہلی سے جے پور کا فاصلہ قریب 280 کلو میٹر ہے،
اہلِ ادب چھوٹی دلّی تو سیاح شہر جے پور کو ہندوستان کا پیرس کہتے ہیں،اِس کی دِل فریبی کے سبب ہی 2008 میں اسے ایشیا کا ساتواں بڑا سیاحتی مرکز قرار دیا گیا تھا۔ جے پور میں راج محل،ہوا محل، قلعہ جے گڑھ، جنتر منتر، جل محل، البرٹ ہال میوزیم، باغ رام نواس اور چار مربع کلو میٹر سے زائد رقبے پر محیط آمیر قلعہ خوبصورت اور دلکش عمارتوں کے ساتھ راجپوت فن تعمیر کا منفرد نمونہ ہے۔

گُلابی شہر (Pink City)

گلابی رنگ اِس شہر کا امتیازی وصف ہے، جو اِس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا تا ہے۔ یہاں کی بیشتر عمارات گُلابی رنگ کی پینٹنگ سے مزیّن و آراستہ کی ہوئی ہیں۔

سن 1876عیسوی میں انگلستان کی ملکہ وکٹوریا اور ولی عہد شہزادہ البرٹ،جب جے پور تشریف لائے، تواُنکی آمد پر،استقبال اور خوش آمدید کہنے کے لئے،اُس وقت کے راجہ رام سنگھ نے،شہر کی تمام عمارات کو گلابی رنگ سے رنگوایا تھا،کیوں کہ یہ رنگ محبت اور سُندرتا کا پرتو ہے ،وہی رنگ تا ہنوز بھی دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے،اِس لئے جے پور کو *گُلابی شہر* پُکارا جاتا ہے۔