حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت

عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رسولُ اللہِ صَلَّی اللہُ علیہِ 
وسلَّمَ أَلَا إِنِّیْ أَبْرَأُ إِلَی کُلِّ خَلِیْلٍ مِنْ خُلَّتِہِ 
وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِیْلًا 
إِنْ صَاحِبَکُمْ خَلِیْلُ اللہِ قَالَ وَکِیْعٌ یَعْنِیْ نَفْسَہُ"

حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سنو میں ہر دوست کی دوستی سے الگ تھلگ ہوں اور اگر میں کسی کو اپنا دوست بناتا تو حضرت ابو بکر صدیق کو بناتا، بے شک تمہارا ساتھی اللہ تعالیٰ کا دوست ہے حضرت وکیع کہتے ہیں کہ صاحب سے حضور اکرم نے خود اپنی ذات مراد لی ہے۔
﴿شمار حدیث 105)

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رسولُ اللہِ صَلَّی اللہُ 
عَلیہِ وَسَلَّمَ مَانَفَعَنِیْ مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِیْ 
مَالُ أَبِیْ بَکْرٍ فَبَکَی أَبُوْ بَکْرٍ وَقَالَ یَا 
رَسُوْلَ اللہِ ھَلْ أَنَا وَمَالِی إِلَّا لَکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ"

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جتنا نفع مجھے ابو بکر کے مال نے دیا کسی اور کے مال نے نہیں دیا۔ راوی کہتے ہیں ابو بکر ﴿یہ سن کر﴾رو پڑے اور فرمایا یا رسول اللہ میں اور میرا مال آپ ہی کے لیے ہیں۔
﴿شمار حدیث 102)

عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رسولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلیہِ 
وَسَلَّمَ أَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ سَیِّدَا کُھُولِ أَھَلِ 
الْجَنَّۃِ مِنْ الْأَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ إِلَّا النَّبِیِّینَ 
وَالْمُرْسَلِیْنَ لَا تُخْبِرْھُمَا یَا عَلِیُّ مَادَامَا
 حَیَّیْنِ"

حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ادھیڑ عمر جنتیوں، خواہ وہ پہلوں میں سے ہوں یا بعد والوں میں سے، انبیاء ومرسلین کے علاوہ سب کے سردار ہونگے مگر اے علی جب تک یہ دونوں بقید حیات رہیں انہیں مت بتانا۔
﴿شمار حدیث 107﴾

عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رسولُ إِنَّ 
أَھْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَی یَرَاھُمْ مَنْ أَسْفَلَ مِنْھُمْ 
کَمَا یُرَی الْکَوْکَبُ الطَّالِعُ فِیْ الْأُفُقِ مِنْ 
آفَاقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنْھُمْ
 وَأَنْعَمَا"

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اونچے طبقے والے لوگوں کو نیچے طبقے والے اس طرح دیکھیں گے جیسا کہ افق آسمان پر طلوع ہونے والا ستارہ دیکھائی دیتا ہے اور ابو بکر رضی اللہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان ہی لوگوں میں سے ہونگے بلکہ ان سے بھی آگے ہوں گے۔
(شمار حدیث 108)

عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ قَالَ قَالَ رسولُ اللہِ صَلَّی 
اللہُ عَلیہِ وَسَلَّمَاِنِّیْ لَا أَدْرِیْ مَا قَدْرُ بَقَائِی فِیْکُمْ 
فَاقْتَدُوا بِاللَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِی وَأَشَارَ إِلَی أَبِیْ 
بَکْرٍ وَ عُمَرَ 

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کب تک تمہارے درمیان رہوں لہٰذا تم دونوں میرے بعد ان دونوں کی اقتداء کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی جانب اشارہ فرمایا۔
﴿شمار حدیث 109﴾

(نوٹ): یہ سبھی احادیث” بَابُ فَضْلُ اَبِیْ بَکْرِ الصِّدِیْق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ” سے لکھی گئی ہیں۔

Advertisements