تعارف

مزاح نگاری میں منفرد اور جداگانہ اہمیت رکھنے والے ادیب، افسانہ نگار، ناول نگار اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک مرزا عظیم بیگ چغتائی اگست ۱۸۹۵ کو جودھپور میں پیدا ہوئے۔ جب مرزا صاحب فقط ۱۱ برس کے تھے تو انھوں نے ان گنت افسانے لکھ چھوڑے تھے۔ مرزا عظیم بیگ نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز بحیثیت افسانہ نگار کیا تھا۔ ان کے ابتدائی افسانے بہت متاثر کن تھے کہ ادبی حلقوں میں ان کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے افسانے ہنسنے ہنسانے کا بھرپور سامان لیے ہوئے ہیں۔ قاری پڑھنا شروع کرے تو منہ سے ہنسی نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔ ان کی افسانہ نگاری میں یہ بات بھی جداگانہ ہے کہ ان کا انداز یوں تھا کہ جیسے کوئی کہانی سنا رہا ہے اور لوگ اسے دلچسپی لے کر پڑھتے ہیں۔

ادبی تعارف

مرزا عظیم چغتائی کا شمار اردو کے زود نویسوں میں کیا جائے تو بےجا نہ ہوگا کیونکہ انھوں نے تعداد کے اعتبار سے بہت سی کتابیں لکھی ہیں اور یوں بھی ایک بیٹھک میں بڑے سے بڑا افسانہ مکمل کر لیتے تھے۔ شاہد احمد دہلوی کہتے ہیں کہ وہ اگر لکھتے لکھتے تھک جاتے تو ساتھ والے کو قلم تھما کر بولنے لگتے اور افسانہ مکمل کرواتے۔مرزا عظیم بیگ چغتائی کے لکھنے کا انداز بھی بہت ہی جداگانہ تھا، جو دوسرے مصنفین کے یہاں نہیں پایا جاتا۔

مرزا عظیم چغتائی کا نام ان کے مخصوص اسلوب طریقہ کار اور سماجی سروکار کے سبب اہمیت کا حامل ہے۔ اردو نثر کے جدید دور میں عظیم بیگ نے بیشتر واقعات کے ذریعہ مزاح پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انھوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور اپنی تحریروں میں زندگی کے انوکھے پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ یہ بیشتر حقیقی واقعات کو ہی اپنے افسانوں اور ناولوں میں بیان کرتے ہیں۔ان کا مزاح ذاتی تجربات کی دلچسپ سرگذشت ہے۔

اسلوب

یہ جناب چغتائی صاحب کا ہی کمال ہے انھوں نے اپنے گھر کے افراد کو کرداروں کی حیثیت سے پیش کرکے افسانے میں ایک نئی روح بھر دی ہے جو حقیقت سے بہت قریب ہوگیا ہے۔ جس سے زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔ ان کے افسانے نوجوانوں اور خاص طور پر تعلیم یافتہ جوانوں کو گھریلو محبت کے راستے بتاتی ہے اور انھیں گھرکی دلچسپیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔کیونکہ وہ زمانہ ہے جب ہندوستانی نوجوان انگریزی پڑھ کر گھروں سے دور ہورہے تھے۔ ہوٹلوں اور کلبوں میں اپنا وقت گزارنا پسند کرتے تھے۔شاید اسے ہی تہذیب مانتے تھے۔ چغتائی صاحب نے یہ ثابت کر دیا نوجوانوں پر کہ گھروں میں سب کچھ موجود ہے۔ جس کی تلاش کے لیے لوگ ہوٹلوں اور کلبوں کا رخ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ چغتائی صاحب نے اس بات کی طرف بھی خاص طور پر توجہ مبذول کروائی ہے کہ خانم کی عزت کرو۔ اس سے گھر جنت بن جاتا ہے۔ اس کی توہین سے گھر جہنم بن جاتا ہے۔

تصانیف

  • مرزا عظیم بیگ چغتائی کی مشہور تصانیف میں
  • روح ظرافت،
  • روح لطافت،
  • خانم،
  • قدردان،
  • انگوٹھی کی مصیبت،
  • یکہ،
  • الشذری،
  • کولتار،
  • شاطر کی بیوی،
  • رموز خاموشی،
  • وکالت،
  • مصری کورٹ شپ قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

انھوں نے زندگی میں ادب کی بہت خدمت کی اور تقسیم ہند کے ایک سال قبل ہی ۱۹۴۱ کو مرزا عظیم بیگ چغتائی ۴٦ سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔

Advertisements