محمد حسن

پروفیسر محمد حسن کا شمار ہندوستان کے مشہور ڈرامہ نگاروں میں ہوتاہے۔ محمد حسن مراد آباد(نواب پورہ) میں یکم جولائی 1926 کو پیداہوئے۔ والد کا نام محمد الطاف، والدہ کا نام رضوان فاطمہ تھا۔ ابتدائی تعلیم مراد آباد کے ایک ہائی سکول سے حاصل کی۔ 1934 میں میٹرک  پاس کیا اور 1939 میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ 1941 میں تعلیم کی غرض سے لکھنو چلے گئے۔

لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔اے کرنے کے بعد وہیں سے ایل-ایل-بی اور پی-ایچ-ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ لکھنؤ یونیورسٹی میں عارضی طور پر درس وتدریس کی خدمات انجام دیتے رہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دس سال تک لکچرر رہے۔ اس کے علاوہ کئی یونیورسٹیوں میں بطور پروفیسر کام کیا۔

محمد حسن ایک اچھے شاعر، افسانہ نگار، تخلق کار، نقاد اور صحافی بھی تھے۔ انہوں نے 75 کتابوں کی تصنیف(اور ادارت) کی ہے۔ کئی ڈراموں کا اردو میں ترجمہ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ شعری مجموعہ ” زنجیر نغمہ ” کے نام سے شائع ہوا۔ آل انڈیا ریڈیو سمیت دوسرے ریڈیو سٹیشنوں کے لئے ڈرامے اور فیچرز لکھتے رہے۔ ان کا پہلا فیچر” یہ لکھنو ہے”  کے نام سے نشر ہوا تو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہاں سے حسن کو ڈرامے لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اور وہ باقاعدہ طور پر ڈرامے لکھنے لگے۔

محمد حسن کا ایک ڈرامہ"کہرے کا چاند " 1968 میں شائع ہوا، جس میں انہوں نے مرزا غالب کی حیات کو موضوع بنایا ہے۔ اس کے علاوہ"نقش فریادی”  اور"تماشہ اور تماشائی”   میں بھی غالب  کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔

1980 میں آپ کا ایک مشہور ڈرامہ ” ضحاک " شائع ہوا۔ یہ ہندوستان میں ایمرجنسی کا دور تھا، لوگوں پر ظلم ہورہے تھے محمد حسن نے یہ ڈرامہ بطور احتجاج لکھا جس میں ظالم حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔

محمد حسن کو مختف ایوارڈز سے نوازا گیا جس میں ” ہم سب غالب ڈراما ایوارڈ ، پریشد ایوارڈ، بہادر شاہ ظفر ایوارڈ، یو پی اردو اکادمی ایوارڈ، حیدر آباد ساہتیہ پریشد ایوارڈ، دلی اردو اکادمی ایوارڈ، مہاراشٹر اردو اکادمی ایوارڈ، جواہر لال نہرو فیلو ایوارڈ” شامل ہیں۔

ان کے منتخب ڈراموں کا پہلا مجموعہ "پیسہ اور پرچھائیں” ادارہ "فروغ اردو لکھنوء” نے 1955ء میں شائع کیا جس میں نو ڈرامے شامل تھے۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہے: پیسہ اور پرچھائیں، سرخ پردے، سونے کی زنجیریں، نظیر اکبرآبادی، نقش فریادی، اکبر اعظم، انسپکٹر جنرل، حکم کی بیگم اور معمار اعظم۔

پروفیسر محمد حسن کے ڈراموں کا دوسرا مجموعہ "میرے اسٹیج ڈرامے” 1969ء میں شائع ہوا۔ جس میں ریہرسل، محل سرا، میر تقی میرؔ، موم کے بت، فٹ پاتھ کے شہزادے شامل ہیں۔

آپ کے ڈراموں کا تیسرا مجموعہ 1994 میں "مور اور پنکھی” کے نام سے منظر عام پر آیا۔ جس میں شکست،مور پنکھی، مولسری کے پھول، سچ کا زہر، دارا شکوہ، کچلا ہوا پھول، اور خوابوں کا سوداگر وغیر شامل ہیں۔

پروفیسر محمد حسن کی تصانیف تو کافی زیادہ ہیں۔ لیکن کچھ قابلِ ذکر تصانیف یہ ہیں: جدید اردو ادب، توسیعی خطبات، تماشہ اور تماشائی، خزینتہ الامثال، خواب نگر، بالغوں کی تعلیم، انیس سو سنتالیس کے بعد اردو ادب کا تنقیدی جائزہ، داستان گل سخن، انتخاب کلام، طرز خیال، شناسا چہرے، ضحاک، زنجیر نغمہ، پیسہ اور پرچھائیں۔
محمد حسن 24 اپریل 2010ء میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ لیکن اردو ادب کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

پروفیسر محمد حسن کی تنقید نگاری پر ایک نوٹ پڑھنے کے لیے ہیاں کلک کریں

Written By

Abdullah Yusuf zai

Close