Advertisement

تعارف

اردو ادب میں ایک منفر شخصیت جو اپنے کام سے جانے جاتے ہیں،ابوالکلام محی الدین احمد آزاد جو کہ ہندوستان کی آزادی کے ایک اہم رہنما اور مفکر کی حیثیت سے سامنے آئے۔ آپ ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ کو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مدینہ کے رہنے والے تھے جن سے انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر آپ مصر چلے گئے اور علم اپنے سینے میں بھرتے گئے۔ فقط ۱۲ برس کی کم سن عمر میں آپ ضحیم کتابیں پڑھ چکے تھے۔ آپ ایک انتہائی ذہین شخصیت تھے , انھوں نے ۱۵برس کی کم سن عمر میں اپنا رسالہ جاری کر دیا تھا۔

Advertisement

ادبی تعارف


ان کی خصوصیات یہ تھیں کہ وہ مفکر، عالم، انشا پرداز،خطیب،ادیب اور شاعر تھے۔ انھوں نے آزادی کی تحریک کے لیے آل انڈیا کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ مولانا ابولکلام آزاد نے اپنے اجتہادی و انقلابی افکار کے لیے اردو نثر کو وسیلہ اظہار بنا کر ادب میں اسی روایت کو ترقی دی جو ان سے پہلے سرسید ، حالی ، محمد حسین آزاد، نذیر احمد اور شبلی نعمانی قائم کر گئے تھے۔ابوالکلام آزاد کے اسالیب میں شبلی کا انداز تحریر نمایاں ہے۔ اس میں شوکت کے ساتھ صلابت ہے انشاپرداری نے بڑی صراحت اور نفاست کے ساتھ اپنے مدعا کا اظہار کیا ہے۔

Advertisement

مولانا ابوالکام آزاد ظرافت کے مزاج سے پوری طرح بہرہور تھے اور الہلال ہی کے دور میں انہوں نے طنز و مزاح کے متعدد گل بوٹے کھلائے تھے۔ اس وقت کے بعض واقعات و اشخاص پر ان کے صحافتی تبصرے بہت پرمذاق ، پرلطف اور دل چسپ ہوا کرتے تھے، اگرچہ ان کا ایک سنجیدہ مقصد بھی ہوتا تھا۔ وہ جن ناگوار باتوں کو مضحکہ سمجھتے تھے ان کا مذاق اڑانے سے چوکتے نہیں تھے۔

Advertisement

لیکن استہزار و تمسخر کے بجائے ان کا مدعا غلط حرکات پر تنقید وتنبیہ تھی۔ یہ گویا مخالفین کے مقابلے میں ان کا ایک موثر حربہ تھا، جس کا استعمال کرکے وہ مخالفت کرنے والوں کا پول اس طرح کھولنا چاہتے تھے کہ ان لوگوں کو کچھ عبرت ہو اور وہ آئندہ احتیاط سے کام لیں۔ مولانا آزاد کو طنز و مزاح کے ذریعہ بھی لوگوں اور ان کی باتوں کی اصلاح کرنی چاہتے تھے۔ بہرحال کسی کی توہین و تحقیر مولانا کو مطلوب و مرغوب نہیں تھی۔

اسلوب


ان کے مزاح پر ایک نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ان کی زبانو بیان اصلاً وہی ہے جو ان کی کتاب ترجمان القرآن کی ہے۔ غبار خاطر میں نسبتہً رنگینی کلام اور شوخی اداریادہ نمایاں ہے۔ اس فرق کا سبب واضع ہے۔ غبار خاطر کلام اللہ کی ترجمانی نہیں ہے صرف ایک عالم و فاضل ، مفکر و مدبر اور متحرک و فعال شخصیت کے پیچ و خم یا درد و داغ وجستجو و آرزو کا اظہار ہے۔

Advertisement

ان کی لفاظی میں جو زندہ دلی خوش طبعی گرم جوشی اور روانی طبع ہے اسے محض نشاط کوشی سمجھنا صحیح نہیں ہوگا اور فقط خیال آرائی قرار دینا بھی درست نہ ہوگا۔ اس لیے کہ ان کے مزاح میں دانائی اور نکتہ سجنی کے ساتھ ساتھ درد و داغ کی کیفیت بھی عیاں ہے۔

سبت ایک تاریخی اور مذہبی چیز ہے اور اس میں تقدس کا بھی ایک پہلو ہے، مگر مولانا آزاد نے اس کا حوالہ اپنی قید و بند کے سلسلے میں اس طرح سے دیا ہے کہ رگ ظرافت پھڑک اٹھی۔ غبار خاطر میں جس ظریفانہ بیان میں اگر طنز کاکوئی اشارہ ہو تو اس کا نشانہ خود لکھنےوالے کی ذات بن جاتی ہے۔یہ ایک صاف ستھرا اور بے ضرر ظرافت ہے جس میں صرف خوش طبعی اور شگفتگی کے احساسات نمایاں ہیں۔

Advertisement

تصانیف

  • مولانا ابوالکام آزاد کی مشہور تصانیف میں
  • آزاد کی تقریریں،
  • ابوالکلام کے افسانے،
  • احرار اسلام،
  • البیان،الہلال ،
  • چیدہ شخصیتیں،
  • درس وفا،
  • عیدین،
  • فلسفہ،
  • غبار خاطر،
  • ہماری آزادی،
  • حقیقت فنا و بقا،
  • حیات سرمد،
  • ہجر و وصال،
  • حضرت یوسف،
  • حذب اللہ،
  • اس حمام میں قابلِ ذکر ہیں۔

آخری ایام

آپ کی وفات ٦۹ برس کی عمر میں ۲۲ فروری ۱۹۵۸ کو ہوئی۔ آپ کو دہلی میں مدفن کیا گیا۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement