تعارف

اردو ادب کے ممتاز و معروف ادیب و مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی جنھوں نے مزاح نگاری کی دنیا کو جدیدیت اور اپنے منفرد انداز بیان سے چار چاند لگا دیئے۔ مشتاق احمد یوسفی ۴ ستمبر ۱۹۲۳ کو جے پور برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانہ تعلیم یافتہ اور معزب تھا۔

ان کے والد عبدالکریم خان بلدیہ کے صدر تھے اور قانون ساز اسمبی کے اسپیکر مقرر ہوئے تھے۔ علاقے میں لوگ ان کی خاصی عزت کرتے تھے۔ یوسفی صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم راجپوتانہ سے حاصل کی اور بعد ازیں یہی سے بی اے کی سند بھی حاصل کی۔انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے آگرہ سے ایم اے کیا اور علی گڑھ سے وکالت کی ڈگری وصول کی۔ قیام پاکستان کے بعد جب لوگوں کی بڑی ہجرت ہوئی تو یوسفی صاحب بھی اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان چلے آئے۔ یہاں انھوں نے بینک میں ملازمت اختیار کر لی۔

ادبی تعارف

یوسفی صاحب کا ادبی سفر ارتقائی رہا۔ تاہم اول اول تو ان کی تحریروں میں ان کی انفرادیت نمایاں ہوگئی تھی۔ مگر ان کی تحریروں میں دھیرے دھیرے مزاح اور فلسفے کی آمیزش سے پرکاری کی گئی۔ یوسفی صاحب کی ظرافتی رنگ شوخ اور دلکش ہوتا گیا۔ مگر ان کا اسلوب یوں بھی برقرار نہ رہا اور زرگزشت میں زیادہ سادہ اور برجستگی اور بے تکلفی کا احساس ہونے لگا۔ ان کی تحریروں میں انسانی نفسیات کا مطالعہ اور زیادہ باریک بینی اور نزاکت سے کیا گیا ہے۔

اسلوب

مگر ان کی آخری تحریروں نے فکر و فن کی ان بلندیوں کو چھو لیا تھا جس کی کوئی ادیب صرف تمنا ہی کر سکتا ہے۔ آب گم میں شعوری پختگی فنی ضبط اور بالغ نظری کا احساس ہرقدم پر رہا۔ ایجاز و اختصار کے علاوہ استعاراتی زبان کے استعمال کی بنا پر خیالات میں پیچیدگی و تہہ داری آنے کے ساتھ ہی زبان بھی ادبی و عالمانہ ہوگئی ہے۔ انسان دوستی کی مثال، غیر متوقع موڑ، سانحاتی مزاح کا بیان کے اثرات کے علاوہ کثافتیں ، تجربے کی تلخی اور حقائق کی برہنگی کو الفاظ کا پیکر میں ڈھال کر بڑے لطیف اور فنکارنہ انداز میں پیش کیا ہے۔

مشتاق احمد یوسفی صاحب نے اردو طنز و مزاح نگاری کو جدید طرز اور نئے لب و لہجے سے ہم کنار کر کے اسے اہمیت اور اعتبار بخشا ہے۔ اردو طنزیہ و مزاحیہ ادب کے پورے پس منظر میں مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری کا جائزہ لیں تو فکر و فن اور زبان و اسلوب ہر اعتبار سے ان کے یہاں ایک امتیازی شان و انفردیت نمایاں ہے۔

تصانیف

مشتاق احمد یوسفی کی چار مشہور و مقبول تصانیف میں؛

  • چراغ تلے،
  • خاکم بدہن،
  • زرگزشت اور
  • آب گم کے نام سے خاص و عام مقام پر دستیاب ہیں۔

اعزازات

یوسفی صاحب کی ادب کے لیے کی گئی خدمات کی وجہ سے حکومت پاکستان نے ان کو ۱۹۹۹ میں ستارہ امتیاز سے نوازا اور بعد ازیں ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سویلین اعزاز نشان امتیاز بھی دیا گیا۔

آخری ایام

مشتاق احمد یوسفی 2018 میں نمونیا کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث انتقال کر گئے لیکن اردو ادب میں عہد یوسفی ہمیشہ تابندہ رہے گا۔ دراصل یوسفی صاحب نے آب حیات پی لیا ہےجس سے وہ مرہی نہیں سکتے اور ان کا لکھا رہتی دنیا کے لئے امر ہو گیا۔

مشتاق یوسفی 97سال ہمارے درمیان رہے۔ انہوں نے بھر پور زندگی گزاری۔ جن سے ملے اُسکے چہرے پرمسکراہٹ بکھیری، جس محفل میں بیٹھے اُسے زعفران زار بنا دیا۔ اُن کا وجود تو ایک تحفہ تھا متفکر اور پریشان دلوں کے لئے، اُن کی کتابیں ہمیں اُن کے عدم وجود کا احساس نہیں ہونے دیں گی۔

Advertisements