تعارف

فنون لطیفہ میں ہماری صنف مزاح نگاری ہے جس میں ایک اہم اور نمایاں نام رشید احمد صدیقی کا بھی ہے۔ رشید احمد صدیقی کی پیدائش۲۴ دسمبر ۱۸۹۲ کو جونپور ،اترپردیش میں ہوئی۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر جونپور سے ہی مکمل کی، بعد ازیں اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ کا رخ کیا۔ مالی حیثیت اگرچہ آپ کی کم تھی اسی وجہ سے آپ نے کہچری میں نوکری اختیار کی اور ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی، فارسی میں ایم اے کیا۔ آپ نے طالب علمی کے دور سے ہی لکھنا شروع کیا، آپ کے مزاحیہ مضامین لوگوں میں مقبول عام ہوئے اور آپ کو شہرت دوام ملی۔

ادبی تعارف

یوں تو رشید احمد صدیقی ایک اچھے استاد محقق اور ناقد بھی تھے مگر ان کی اصل وجہ شہرت طنز و مزاح کے میدان میں ان کی جولانی طبع کی بدولت مستحکم ہوتی ہے۔ رشید صاحب کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی طبعیت میں غور و فکر ہے۔

رشید احمد صاحب نے طنز و ظرافت کا پیرایہ اختیار کیا اور نصف صدی تک اس میدان کے نمایاں شہ سوار بنے رہے، مگر ان کے مطالعے میں ایک ایسی منزل بھی ہے جب وہ اپنے دور کے بعض ادبی میلانات اور ان کی اہمیت یا عدم اہمیت کے بارے میں قطعی فیصلہ بھی صادر کرتے ہیں، اس مقام پر ان کی شخصیت کا جو پہلو بہت نمایاں معلوم ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ رشید صاحب اپنی لطیف الطبعی کے باوصف بے حد سنجیدہ بھی تھے۔

اسلوب

اُردو نثر کے اسلوبی ارتقاء میں رشید احمد صدیقی کے اسلوب کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے اسلوب نے اُردو نثر کو نئی آب وتاب اور نیا رنگ و آہنگ عطا کیا، بالخصوص طنز و مزاح کا جو اسلوب اختیار کیا وہ اپنی فکری بصیرت اور فنی بصیرت کے اعتبار سے غیر معمولی ہے۔

رشید احمد صدیقی کے طنز و مزاحیہ اسلوب میں پیرایہ اظہار کی جتنی جدت وندرت موجود ہے اور لفظوں کا مزاج و آہنگ ، جملوں کی ترتیب و ساخت اور بیان و بدیع کی صنعتوں کے افکارانہ استعمال سے اپنے اسلوب کو جیسی طرفگی اور نیرگی بخشتے ہیں اس نظیر طنز ومزاح کے اسالیب شاذ ہی ملتی ہے۔ رشید احمد صدیقی کے اسلوب کی عظمت اور وقار و تمکنت مسلم ہے۔

آج تک ان کی انشاپردازی سے متعلق بے شمار مضامین اور کتابیں سامنے آچکی ہے۔ لیکن رشید صاحب کے اسلوب کو تجزیاتی نقطہ نگاہ سے بہت کم دیکھا گیا ہے۔ یوں بھی ہمارے یہاں اسلوبیاتی مطالعہ کی روایت بہت مستحکم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی اسلوب پر گفتگو کرتے ہوئے مضمون نگار عموماً چند مخصوص روایتی اور تعریفی جملوں اور مخصوص صلاحیتوں کے سہارے اسلوب کے معائب و محاسن پر بلا تکلف باتیں کہتا چلا جاتا ہے حالانکہ کے اسلوبیاتی مطالعے میں اس طرح کے غیر استدلالی مطالعے کی قطعی گنجائش نہیں، کیونکہ کے اسلوبیاتی مطالعہ ایک سائنسی طرز عمل اور معروضی مطالعہ ہے۔

تصانیف

  • رشید احمد صدیقی کی مشہور تصانیف میں؛
  • آشفتہ بیانی میری،
  • علی گڑھ کی مسجد قرطبہ،
  • علی گڑھ کا ماضی و حال،
  • عزیزانِندوہ کے نام،
  • گنجہائے گرانمایہ،
  • غالب کی شخصیت اور شاعری،
  • ہم نفسان رفتہ،
  • ہمارے ذاکرصاحب،
  • اقبال شخصیت اور شاعری،
  • جدید غزل،
  • جنداں اور دوسرے مضامین،
  • خنداں اور طنزیات و مضحکات قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

رشید احمد صدیقی ۱۵ جنوری ۱۹۷۷ کو اس جہاں فانی سےکوچ کر گئے۔ آپ نے ۸٦ برس کی عمر پائی۔

Advertisements