تعارف

سر سید احمد خان کا شمار مسلمانانِ برصغیر ہند و پاک کے ان محسنوں میں ہوتا ہے جن کی خدمات اور احسانات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مسلمانوں کی ڈوبتی ناؤ کو سنبھالا دیا اور پھر اس کا رُخ ساحلِ مراد کی طرف پھیر دیا۔

سرسید احمد خان کا اصل نام سید احمد بن متقی خان تھا جو کہ ۱۷ اکتوبر ۱۸۱۷ کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ شاعر، ادیب اور فلسفی تھے۔ ان کی تعلیم دربار میں ہی ہوئی تھی مگر بعد ازیں وہ بیرونی ملک سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی سند لے آئے۔ جنگ آزادی سے پہلے کمپنی کے زیرنگیں جج کے عہدے پر فائز رہے، مگر جنگ آزادی کے ساتھ ہی مستعفی ہو گئے پھر مسلمانوں کے لیے انتھک اور بےلوث خدمات انجام دیں اور اپنا خون پسینہ اس کار خیر میں لگا دیا ، اپنےقلم سے جہاد کیا اور آخری دم تک مسلمانوں کی خیر کے لیے خدمات انجام دیں۔

ادبی تعارف

صحیح معنوں میں سرسید ہی اردو میں وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ نثر کا مقام نظم سے جدا ہے۔ انہوں نے ہی سب سے پہلے روایت کی تقلید سے ہٹ کر آزادی رائے اور آزادی فکر کی بنیاد ڈالی۔ سرسید نے اردو نثر پر کئی طریقوں سے اثر ڈالا۔ انہوں نے مضمون و معنی کو اولیت دی اور طرز ادا کو ثانوی درجہ دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ زبان و بیان کی سادگی پر بھی بڑا زور دیا۔ انہوں نے زبان کو عام فہم بنایا اور ہر قسم کے مضامین ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کی۔

اسلوب

سر سید کی تحریر سادگی و سلاست کے زیور سے آراستہ ہے۔ ان میں نہایت سلیں رواں اور برجستہ جملے اور فقرے ملتے ہیں۔ یہاں رنگین اور پرتکلف عبارتوں کا گزر نہیں۔ پیچیدہ گیاں اپنا دامن بچاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ گویا نثر سرسید کے طرز میں نکھر کر ہمارے سامنے آئی ہے اور اس عام فہم انداز تحریر میں وہ لطف سمٹ آیا ہے۔ جو قدم کی صنعت گیر اور نازک خیالی میں نہیں ملتا۔

بعض اوقات سرسید احمد خان کی نثری تحریروں میں سادگی و بےتکلفی کے ساتھ ایک مخصوص قسم کی ملاوٹ بھی محسوس ہونے لگتی ہے۔ جو ان کے کمال انشائ پردازی کا ثبوت ہے۔ اس سے بڑھ کر سرسید کی انشاپردازی کا اور کمال کیا ہوسکتا ہے۔ سرسید کی نثر میں جہاں ایک طرف سادگی اور دلنشینی کا حسن پایا جاتا ہے وہیں دوسری طرف ان کے زور بیان کی شادابی اور شگفتگی ہمیں محسور کر لیتی ہے۔ خصوصی طور پر ان کی نثر کا استدلالی انداز ان کے زور بیان کو اور بھی پرشکوہ بنا دیتا ہے۔

سرسید کی علمی و ادبی تحریریں حسن بیان ، خوبی خیالات اور زبان کی سلاست ونصاحت کے اعتبار سے اردو ادب میں کافی اہم ہے۔ ان کی نثر شعریت سے معریٰ خالص نثر ہے جو فکر کے نظم اور دلیل کی قوت کے بل پر کھڑی ہے، اگرچہ انہوں نے اپنے مضامین میں تشبیہ اور استعارہ اور تمثیل و تلمیح سے کام لیا ہے لیکن ہم ان کے استعارہ کے دام پر فریب میں گرفتار نہیں ہوتے بلکہ خیالات کے ساتھ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

تصانیف

  • سرسید احمد خان کی مشہور تصانیف میں؛
  • آثارالصنادید،
  • اسباب بغاوت ہند،
  • حقیقہ السحر،
  • مقالات سرسید ،
  • مسافران لندن،
  • قومی ماتم،
  • سیرت فریدیہ،
  • تاریخ عرب اور
  • تفسیر القرآن قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

مسلمانوں میں شعور پیدا کرنے کے بعد بالآخر ایک کامیاب اور بامقصد زندگی گزارنے کے بعد 27مارچ 1898ء بروز اتوار اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کو علی گڑھ میں ان کے محبوب کالج کی مسجد کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

Advertisements