تعارف

ہندوستان کے مشہور محقق، ادیب اور ڈراما نگار ڈاکٹر سید عابد حسین 25 جولائی 1896ء کو بھوپال (ہندوستان) میں سید حامد حسین کے گھر پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر سید عابد حسین اعلیٰ تخلیقی ذہن کے مالک ادیب و دانشور تھے جن کا شمار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اکابر میں ہوتا ہے۔ اس یونیورسٹی میں بحیثیت شیخ الجامعہ ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کی تصانیف و تالیف نیز مضامین اور تراجم کی خاصی تعداد ہے جن کے مطالعے سے اُن کی بصیرت اور تبحر علمی کا اندازہ ہوتا ہے۔

وہ ایک مصلح اور سماجی مفکر بھی تھے جن کی نظر جاگیردارانہ سماج کے مسائل پر بہت گہری تھی۔ وہ سماجی زندگی میں انصاف اور توازن کا حسن دیکھنا چاہتے  تھے۔ چنانچہ ظلم اور جہل، تنگ نظری اور عدم توازن کے خلاف انھوں نے ہمیشہ آواز بلند کی اور زندگی کی حقیقتوں پر براہ راست اظہارِ خیال کے لیے ڈرامے اور کہانیاں لکھیں۔

ڈراما نگاری

اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں ڈاکٹر سید عابد حسین اپنے تخلیق کردہ ڈرامے ”پردۂ غفلت“ کی وجہ سے اہم مقام اور منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کئی دیگر ڈرامے بھی لکھے ہیں مثلاً ڈراما ”شریر لڑکا“، ”معدے کامریض“، ’حساب اور رومان‘ وغیرہ مگر عام طو رپر ان کے ڈرامے ”پردۂ غفلت“ کا ذکر بار بار آتا ہے جس میں نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان فکر و نظر کے تصادم اور تضاد کو پیش کرنے کی کوشش ہے۔ مذکورہ ڈرامے میں جدید و قدیم افکار اور رسوم کی معنویت پر سوالیہ نشان بھی قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرعابد حسین کی اس تخلیق کا موضوع روایتی اور فرسودہ سماج کے ساتھ نئی نسل کے متوسط زمین دار طبقے کے وہ افراد ہیں جو جدید تعلیم اور روشن خیالی کے باوجود روایتی سماج اور اس کے جامد رسم و رواج کے پابند نظر آتے ہیں۔

شریر لڑکا

ڈراما ’شریر لڑکا‘ کا موضوع طلبا کی اقامتی زندگی سے وابستہ ہے۔ عبدالغفار مدھولی اس کے تعلق سے لکھتے ہیں:
”یوم تاسیس کے جشن کے لیے ایک اور موقع پر مدرسہ ابتدئی والوں کی خواہش پر ڈاکٹر سید عابد حسین نے ڈراما ”شریر لڑکا“ لکھا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نفسیات کے ماہر ہیں اپنے اس ڈرامے میں یہ بنیادی خیال پیش کیا ہے کہ شریر بچے دلیر عموماً ہوتے ہیں، وقت پڑے تو اپنے کو جوکھم میں ڈال دیتے ہیں،بے جھجک خطروں میں کود پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے شاگردوں اور سوال کرنے والوں کو دلیلوں سے مطمئن کرتے ہیں اس ڈرامے میں یہی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔“

ڈراما معدے کا مریض

اسی طرح ”معدے کا مریض“ ایک مزاحیہ ڈراما ہے جس کا موضوع انسانی زندگی کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس میں جدید تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ طبقے کے ایسے ا فراد کو موضوع بنایا گیاہے جو نوکری کی تلاش میں گاؤں کے ماحول سے نکل کر شہری زندگی کے دفتری نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ یہاں نہ تو وہ اپنی صحت کا مکمل خیال رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی اپنی کم تنخواہ کی وجہ سے بہتر طریقے سے اپنا علاج کرا پاتے ہیں۔ اسی کشمکش کے ارد گرد ڈرامے کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ شروع کے دو مناظر موضوع کا تعارف یعنی معدے کے امراض،ذہنی و جسمانی پریشانیاں، پھر ڈاکٹر حکیم کا سلسلہ نیز مختلف طریقۂ علاج کے بارے میں معلومات اورعلاج پر صرف ہونے والے اخراجات کے تخمینے پر مشتمل ہے۔تیسرے اور آخری منظر میں یہ درس ملتا ہے کہ فطری زندگی گزارنے کے لیے سادہ غذا،جسمانی محنت و مشقت اور ورزش بھی ضروری ہے۔

ڈراما حساب اور رومان

ڈراما ”حساب اور رومان“ میں حسن و عشق کی چاشنی ملتی ہے، تاہم ہجرو وصال کے قصے کی بجائے محبت کے بارے میں نئی اور پرانی نسل کے مابین فکر و نظر کے اختلاف کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔

ڈراما پردۂ غفلت

ڈراما”پردۂ غفلت“ پہلی بار 1925 عیسوی میں شائع ہوا۔ اُس زمانے میں سید عابد حسین اعلی تعلیم کی غرض سے یورپ میں مقیم تھے۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہتے تو یورپ میں رہ کر وہاں کی خوشحال زندگی بسر کرتے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ ملک و قوم سے شدید محبت کی وجہ سے اور اس سر زمین پر رہنے والے مظلوم انسانیت کے مسائل کے حل اور ان کے درد کا درماں تلاش کرنے، وہ وطن عزیز ہندوستان لوٹ آئے۔ اُنھوں نے یورپ کی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا، لہٰذا ان کی نظر میں کشادگی اور گہرائی ہے۔ انھوں نے اس روشنیِ علم و آگہی کے ذریعے ہندوستان کے مستقبل کو بنانے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اُن کے مثبت فکری عناصر اُن کی جملہ تخلیقات کے ساتھ ساتھ اُن کے ڈراموں میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔اوائل بیسویں صدی میں اپنی قدامت پرستی کی وجہ سے ہندوستانی زندگی کے ہر میدان میں یورپ سے پیچھے تھے اور اس ملک کا نظام اخلاق و عمل تنزل کا شکار تھا۔ ایسے وقت میں سید عابد حسین نے یوں تو پورے ملک کے ذہنی و اخلاقی حالات کو سدھارنے کی کوشش کی مگر قوم مسلم کی اصلاح ان کا نصب العین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مسلم خاندان اور اس کے افراد کی طرف انھوں نے خاصی توجہ دی اور قوم کے ایک ذمہ دار اور ہو نہار فرد کے ناطے بہت ہمدردی، دردمندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ قوم اور معاشرے کی اصلاح میں منہمک رہے۔ عابد حسین کی ڈراما نگاری پر تحریر کردہ اپنے مضمون میں ڈاکٹر عظیم الشان صدیقی لکھتے ہیں:

”عابد صاحب کے یہ ڈرامے جہاں ان کے فکری و فنی شعور کے آئینہ دار ہیں، وہاں اُس کے آئینہ میں 1857ء کے بعد تین نسلوں کی ذہنی و جذباتی کیفیت، بدلتی ہوئی نفسیات اور افکار و اقدار کے تصادم اور متوسط طبقہ کے مسائل کامطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ان کی زبان اور اسلوب اگرچہ سادہ، سلیس اور شگفتہ ہے لیکن استدلال کی زیریں لہر ہر جگہ موجود رہتی ہے، جو شدت تاثر کے ساتھ غورو فکر کے لئے مجبور بھی کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ اردو ڈرامے کی زندہ روایت کا حصہ نظر آتے ہیں“۔

”پردۂ غفلت“ میں ایک مسلم گھرانے کی کہانی ہے جس میں روایتی زمین دار طبقہ کی تہذیب و معاشرت، اخلاق و اقدار کے ساتھ جدید تعلیم یافتہ متوسط طبقے کے فکر و نظر کو بیان کیا گیاہے۔ یہاں ایک ایسے سماج اور اس کے افراد کو موضوع بنایا گیاہے جو اپنی معنویت اور قدر و قیمت کھو چکے ہیں۔ 

اسلوب

ڈاکٹر سید عابد حسین کی ڈراما نگاری کا احاطہ کرتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ انھوں نے اپنے ڈراموں میں فن اور تکنیک کا التزام تو بہت زیادہ نہیں کیا البتہ ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے ڈرامے کو ایک میڈیم کے طور پر اپنایا۔ یہی وجہ ہے جیسا کہ مثال کے ذریعہ بتانے کی کو شش کی گئی کہ جو مکالمے ہیں ان میں بہت طوالت ہے مگر اس کا جو موضوع ہے، جو پیغام ہے، جو مقصد ہے اس کو ڈرامے کی صورت میں بحسن و خوبی پیش کرنے کی سعی ملتی ہے۔

مجموعی حیثیت سے ڈراما ”پردۂ غفلت“ ایک کامیاب ڈراما ہے جو آج بھی اپنی منفرد معنویت رکھتا ہے اور جس نے ڈاکٹر سید عابد حسین کو بحیثیت ڈراما نگار متعارف و مستحکم کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ گرچہ اس کو اسٹیج کرنے میں مکالموں کی طوالت دشواری کا باعث ہوتی ہے مگر اس سے قطع نظر ہم دیکھیں کہ جو مقصد ڈراما نگار کا تھا اور مسلم گھرانوں کے جس سماجی موضوع کو وہ پیش کرنا چاہتے تھے، اس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اردو ڈرامے پر گفتگو ہوتی ہے تو ان کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ ڈراما کئی درسگاہوں میں شاملِ نصاب بھی ہے۔ اس طرح صنف ڈراما نگاری میں ڈاکٹر سید عابد حسین کی غیر معمولی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

تصانیف

  • آپ ”ہندوستانی قومیت اور قومی تہذیب“،
  • ”ترکی میں مغرب و مشرق کی کشمکش“ اور
  • ”قومی تہذیب کا مسئلہ“
  • جیسی کتب کے خالق ہیں۔ 

آخری ایام

آپ نے 13 دسمبر 1978 ء کو دہلی میں وفات پائی۔

Advertisements