Advertisement

اسلام علیکم،فاریہ…..!
اب کس بے وفا کے ناز اٹھایا کرینگی آپ، آخر کار تم چلی ہی گئی، اور میں پچھتاوے کا کفن اوڑھے اُس ویرانے میں نکل آیا جہاں چاروں طرف خاموشی اور ویرانی ہی ویرانی ہے، ایسی ویرانی کے دل سینے کے اندر مچلتا رہتا ہے، مِنّتیں کرتا ہے، اور کہتا ہے بھاگ جاؤ یہاں سے، اگر یہاں کچھ دیر اور رُکے تو تنہائی کے قُرب اور درد کی انتہا سے مر جاؤ گے۔

تمہاری یاد بھی تمہاری طرح وفا والی ہے، کبھی ساتھ ہی نہیں چھوڑتی، ہر وقت میرے ساتھ رہتی ہے، میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہے، مجھے کسی مہربان کی طرح اپنی پناہہو میں لۓ_لۓ پھرتی ہے، اور میں کسی سہمے ہوے بچے کی طرح اُس کے سینے سے لگا رہتا ہوں، کہ کہیں یہ بھی تمہاری طرح مجھ سے دور نہ جائے، اور جب تمہاری یاد شدّت اختیار کرتی ہے تو میرا دل چاہتا ہے اپنے ناخنوں سے اپنے ہی چہرے کو نوچ ڈالوں، اور کسی بُلندی سے خود کو نیچے دھکیل دوں، کہ میرے کانوں میں میری ہڈیوں کی چٹکھ نیں کی آواز آۓ، شاید اِس طرح میری بے تابی کو کچھ قرار آئے۔

مگر آج جانتی ہو کیا ہوا……! تمہاری یاد آنے پر میں ہنسنے لگا، اِس قدر کہ پہلے کبھی نہیں ہنسا، اتنا ہنسا کی ہنستے_ہنستے میری آنکھوں سے آنسو نکل آۓ، شاید یہ میری بے بسی کی انتہا تھی، اور پھر سے تم یاد آ گئی، تمہی تو اکثر کہا کرتی تھی نا کہ عزیز…..! ایک بات بتاؤں، پتا ہے جن لوگوں کے ہنستے ہنستے آنکھوں میں آنسو آ جاۓ نا، تو وہ لوگ بہت وفادار ہوتے ہیں، مگر ہاۓ……!!! میں تو رَج کے بے وفا نکلا، جب تم تھی تو تم کہیں نہیں تھی، مگر اب جب تم نہیں ہو تو ہر جگہ تم ہی تم ہو، پچھتاتا ہوں کہ دیمک کس طرح سے میرے پورے وجود کو چاٹ رہا ہے۔

وہ کیا کہا تھا کسی بھلے سے شاعر نے، ہاں یاد آیا….!
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں،
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو، اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں! مدد کرنی ہو اسکی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو، بہت دیرینہ رستوں پر، کسی سے ملنے جانا ہو، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں! بدلتے موسموں کی سیر میں، دل کو لگانا ہو، کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں! کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو، حقیقت اور تھی کچھ، اسکو جاکے یہ بتانا ہو، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں! ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔
میری پگلی……کیا۔۔۔کیا کہوں تمہیں، اِس بے بس عزیز کی جان، عزیز کے دل کی بستی، سب عذاب زدہ تھی، اور ہے، اور ہاں جن بستیوں پر عذاب آیا ہو نا، تو وہاں ذرا بھی دیر قیام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
اور تم تھی کہ ایسی ہی ایک بستی کو آباد کرنے پر زور دے رہی تھی۔ ہاۓ رے قسمت…..!
دیکھو پھر سے یاد آ گئی تم، تمہارا سب سے پسندیدہ لفظ جو اکثر میں تمہارا دل رکھنے کو کہتا تھا، مگر اب اپنا دل رکھنے کو کہہ رہا ہوں.!
تمہارا فقط تمہارا اور صرف تمہارا ہی طیب عزیز خان

Advertisement
بے نام محبت 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement